جودھا بائی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جودھا بائی
Jodhbai.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 1 اکتوبر 1542  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
آمیر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 19 مئی 1623 (81 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
آگرہ[1][2][3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن مقبرہ مریم الزمانی،  آگرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شوہر جلال الدین اکبر (6 فروری 1562–27 اکتوبر 1605)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد نورالدین جہانگیر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد راجا بہاری مل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
خاندان آمیر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر
مناصب
ہمسر ملکہ   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
6 فروری 1562  – 27 اکتوبر 1605 

مریم الزمانی بیگم صاحبہ (دیگر نام: رکماوتی صاحبہ، راج کماری ہیرا کنواری، جودھا بائی اور ہرکھا بائی) ایک راجپوت شہزادی تھیں جو مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر سے شادی کے بعد ملکہ ہندوستان بنیں۔ وہ جے پور کی راجپوت ریاست آمیر کے راجا بھارمل کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں۔ آپ کے بطن سے ولی عہد و ہندوستان کے اگلے بادشاہ نور الدین جہانگیر پیدا ہوئے۔

زندگی[ترمیم]

آپ یکم اکتوبر 1542ء کو پیدا ہوئیں اور 6 فروری 1562ء کو تقریباً 20 سال کی عمر میں آپ کی شادی اکبر سے ہوئی۔راجستھان کے آخری آزاد راجا مالدیو کی جانب سے چھوٹے بیٹے کو ولی عہد بنانے کے فیصلے پر حقیقی جانشیں بھیرمل نے اکبر کی مدد سے اپنا حق حاصل کیا اور پھر اپنی بیٹی مغل بادشاہ سے بیاہ دی۔ آپ اکبر کی تیسری اہلیہ تھیں۔ اس سے قبل اکبر بے اولاد رقیہ بیگم سے پہلی اور اپنے جرنیل بیرم خان کی بیوہ سلیمہ سلطان سے عقد کر چکے تھے۔ شادی کے بعد ہیرا کنواری کو مریم الزمانی کا خطاب دیا گیا۔

مریم زمانی مسجد[ترمیم]

آپ کے اعزاز میں آپ کے صاحبزادے نور الدین جہانگیر نے شہر لاہور میں ایک مسجد بھی تعمیر کی جو مریم الزمانی بیگم شاہی مسجدد کہلاتی ہے اور آج بھی موجود ہے۔

جودھا بائی[ترمیم]

فتح پور سیکری میں مریم زمانی کا محل

یہ بات غلط طور پر پھیلی ہوئی ہے کہ اکبر کی راجپوت بیوی اور جہانگیر کی ماں "جودھا بائی" کے طور پر مشہور تھی۔[4] جودھا بائی کے ذکر سے جہانگیر کی آپ بیتی "تزک جہانگیری " اور اکبر کی لکھوائی گئی خود نوشت "اکبرنامہ" بھی اس سے خالی ہے۔ ۔[5]

علی گڑھ مسلم جامعہ کی تاریخ دان پروفیسر شیریں موسوی کہتی ہیں کہ "جودھا بائی" کا نام پہلی بار 18 ویں اور 19 ویں صدی کی تاریخی تصانیف میں ملتا ہے۔ پٹنہ کے خدا بخش کتب خانے کے ڈائریکٹر و مؤرخ امتیاز احمد کے مطابق اکبر کی بیوی کے لیے "جودھا" کا نام پہلی بار لیفٹیننٹ کرنل جیمز ٹوڈ نے اپنی کتاب Annals and Antiquities of Rajasthan میں استعمال کیا۔[6]

الہ آباد وسطی جامعہ کے پروفیسر این آر فاروقی کے مطابق جودھا بائی اکبر کی راجپوت ملکہ کا نام نہیں تھا؛ بلکہ یہ جہانگیر کی راجپوت بیوی مانمتی جودھپوری کو کہا جاتا تھا جس کا اصل نام جگت گوسائیں تھا۔

انتقال[ترمیم]

مریم زمانی کا انتقال 1622ء میں ہوا اور آپ کو آگرہ میں پہلے سے بنائے گئے مزار میں مسلم عقائد کے تحت دفن کیا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.tripadvisor.in/Hotel_Review-g297683-d3685298-Reviews-Hotel_Red_Inn-Agra_Uttar_Pradesh.html
  2. http://www.tripadvisor.in/Hotel_Review-g297683-d3701020-Reviews-Adhiraj_Palace_Hotel-Agra_Uttar_Pradesh.html
  3. http://www.tripadvisor.in/Hotel_Review-g297683-d5809873-Reviews-Hotel_S_R_Palace-Agra_Uttar_Pradesh.html
  4. اٹل سیٹھی (24 جون 2007ء)۔ "'Trade, not invasion brought Islam to India'" (انگریزی زبان میں)۔ ٹائمز آف انڈیا۔ Unknown parameter |trans_title= ignored (معاونت)
  5. ایشلے ڈی میلو (10 دسمبر 2005ء)۔ "Fact, myth blend in re-look at Akbar-Jodha Bai" (انگریزی زبان میں)۔ ٹائمز آف انڈیا۔
  6. سید فردوس اشرف (5 فروری 2008ء)۔ "Did Jodhabai really exist?" (انگریزی زبان میں)۔ ریڈف ڈاٹ کام۔