جوزیف ہائیڈن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
جوزیف ہائیڈن

آسٹریا کے شہرہ آفاق موسیقار۔ اکتیس مارچ سن 1732ء کو آئیزن شٹٹ سے کوئی پچاس کلومیٹر دور ایک چھوٹے سے گاؤں روہرآؤ میں ان کی پیدائش ہوئی۔ جوزیف ہائیڈن اپنے بارہ بہن بھائیوں میں سے ایک تھے اور اُنہوں نے ایک سادہ سے گھرانے میں پرورش پائی۔ اُن کے والد بگھیاں بناتے تھے، پنچایت کے سربراہ بھی تھے اور فوک موسیقی کے دلدادہ تھے۔ اسکول کے ڈائریکٹر نے چھ سالہ ہائیڈن کی گانے کی صلاحیت پہچان لی اور بطور گلوکار تربیت دینے کے لیے اُنہیں اپنی نگرانی میں لے لیا۔

موسیقی[ترمیم]

ہائیڈن آٹھ سال کے ہوئے تو ویانا کے اُس دَور کے دربار سے وابستہ موسیقار ژوہان گیورگ رَوئیٹرز اُنہیں اپنے ساتھ لے گئے اور اپنے گلوکار لڑکوں کے گروپ میں شامل کر لیا۔ جب ہائیڈن نوعمری سے نکلے اور اُن کی آواز بدلی تو اُنہیں گروپ سے نکال دیا گیا۔ تب پہلے تو وہ مختلف آرکسٹراز کے ساتھ وابستہ رہے، آرگن پلیئر بن گئے اور موسیقی کے اسباق دینے لگے۔ بالآخر وہ اُس دَور کے مشہور موسیقار نکولا پورپورا کے شاگرد بن گئے۔ ہائیڈن ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ موسیقی کے بنیادی اَسرار و رموز اُنہوں نے اپنے اِسی اُستاد سے سیکھے تھے۔

شہرت[ترمیم]

وقت کے ساتھ ساتھ ہائیڈن کے روابط بڑھتے گئے۔ طبقہء امراء سے تعلق رکھنے والے اپنے ایک واقف کار جوزیف فرائی ہَیر فان فیورن بیرگ کی دعوت پر نوجوان ہائیڈن اُن کے محل میں گئے۔ وہاں اُنہوں نے اپنے اِس واقف کار اور موسیقی میں دلچسپی رکھنے والے اُن کے تین دوستوں کے لیے موسیقی کمپوز کرتے ہوئے اپنا پہلا سٹرنگ کوارٹیٹ لکھا۔ یوں اٹھارویں صدی کی اُس مرکزی اور نئی صنف کی پیدائش ہوئی، جس نے ہائیڈن کو ایک نئی مقبولیت بخشی۔1761ء میں ہائیڈن اُنتیس برس کے تھے، جب گراف پاؤل انٹون ایسترہازی اُنہیں اپنےساتھ آئزن شٹٹ لے گئے۔ اگلے تیس برس اُنہوں نے اِسی گراف کی سرپرستی میں موسیقی تخلیق کرتے گذار دئے۔ کلاسیکی موسیقی کے بڑے بڑے مراکز سے دور رہ کر اُنہوں نے ہر صنفِ موسیقی میں نت نئے تجربات کئے۔اگرچہ اُنہیں بابائے سٹرنگ کوارٹیٹ اور بابائے سمفنی کہا جاتا ہے لیکن اپنے سرپرست گراف ایسترہازی کی پسند کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اُنہوں نے بہت سے اوپیراز بھی کمپوز کئے۔ ’’اورلاندو پاراڈینو‘‘ اُن آخری اوپیراز میں سے ایک ہے، جو ہائیڈن نے کمپوز کئے۔ یہ اوپیرا اُن کا سب سے کامیاب اوپیرا ہے۔

انگلینڈ آمد[ترمیم]

گراف ایسترہازی کے انتقال کے بعد ہائیڈن ویانا چلے آئے اور دسمبر سن 1790ء ہی میں انگلینڈ کے پہلے سفر پر روانہ ہو گئے۔ بعد ازاں وہ کئی بار انگلینڈ گئے، وہاں بے انتہا کامیابی حاصل کی، بہت زیادہ پیسہ جمع کیا اور کئی نئے تجربات حاصل کئے۔

شاہکار[ترمیم]

1799ء میں آسٹریا کے شہنشاہ کی موجودگی میں اُن کا شاہکار Schöpfung یعنی ’’تخلیق‘‘ پہلی بار باقاعدہ طور پر پیش کیا گیا اور اُسے ناقابل بیان کامیابی ملی۔ اُنیس ویں صدی کے اوائل میں وہ زیادہ تر اپنے گھر تک محدود ہو کر رہ گئے اور بالآخر اکتیس مئی 1809ء کو 77 برس کی عمر میں انتقال کیا