جولیاں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جولیاں
Jaulian Buddhist Monastery in Taxila.jpg
جولیاں میں واقع ایک بدھ مت کی خانقاہ کے کھنڈروں کا منظر
جولیاں is located in پاکستان
جولیاں
پاکستان میں محل وقوع
مقام ضلع ہری پور، خیبر پختونخوا
متناسقات 33°45′56″N 72°52′30″E / 33.76552°N 72.87498°E / 33.76552; 72.87498متناسقات: 33°45′56″N 72°52′30″E / 33.76552°N 72.87498°E / 33.76552; 72.87498
قسم خانقاہ
تاریخ
قیام دوسری صدی عام زمانہ
متروک وسط پانچویں صدی عام زمانہ
ثقافتیں کوشان سلطنت، Kidarite
مزید معلومات
ماہرین آثار قدیمہ سر جان مارشل
رسمی نام ٹیکسلا
معیار iii, iv
نامزد 1980
حوالہ نمبر 139
Jaulian ruins taxila20


جولیاں پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور میں واقع ٹیکسلا کے قریب ایک قدیم بدھ درسگاہ کے کھنڈر ہیں۔

کھنڈر[ترمیم]

جولیاں کے کھنڈر پانچویں صدی عیسوی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کھنڈر کے دو بڑے حصے ہیں۔ اول ایک بڑا سٹوپہ، دوم جولیاں کی درسگاہ یا یونیورسٹی۔ یہ کھنڈر ایک پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہیں اور اہنی ہیئت میں 1 کیلومیٹر دور واقع موہرا مرادو کی عمارت سے مشابہ ہیں۔

اسٹوپا[ترمیم]

جولیاں کا بڑا سٹوپہ کافی حد تک تباہ ہو چکا ہے۔ اس بڑے اسٹوپا کے ارد گرد چھوٹے چھوٹے 21 سٹوپے واقع ہیں۔ ان میں سے بعض کے متعلق ماہرین کا خیال ہے کہ وہ درحقیقت وہاں مدفون راہبوں کی قبروں پر بنائے گئے ہیں۔ ان سٹوپوں میں موجود مجسمے محفوظ ہیں اور بعض میوزیم میں رکھنے کے لیے یہاں سے منتقل بھی کر دیے گئے ہیں۔

بڑے سٹوپہ کی عمارت کے بعض حصے اور پلستر تک محفوظ ہیں۔ یہاں موجود بدھ کا ایک مجسمہ بہت مشہور ہے جس کی ناف میں ایک سوراخ واقع ہے۔ اسے شفاء بخش بدھ کہا جاتا ہے اور اس کی ناف کے اس سوراخ میں انگلی رکھ کر شفاء کے لیے دعا منگی جاتی تھی۔ اس مجسمے کے نیچے موجود تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مجسمہ بدھمترا دھرمنندن نامی ایک شخص نے ہبی کیا تھا۔[1] اس تحریر اور ایسی ہی دوسری چند تحریرات سے وہاں رائج رسم الخط کا پتہ چلتا ہے۔

درسگاہ[ترمیم]

یہاں واقع درسگاہ ایک تالاب اور طالب علموں کے لیے کمروں پر مشتمل تھی۔ پہلی منزل پر 28 کمرے واقع تھے جبکہ دوسری منزل پر بھی اتنے ہی کمرے بنائے گئے تھے۔ دوسری منزل تک جانے کے لیے پتھر کے زینے اب بھی موجود ہیں۔ بعض کمروں کے سامنے بدھ کے مجسمے بھی موجود ہیں۔

ہر کمرے میں ہوا اور روشنی کے لیے ایک روشندان موجود تھا۔ اسی طرح دئے کے لیے ایک طاق بھی بنایا گیا تھا۔ روشندان باہر کی طرف چھوٹا اور اندر کی طرف بڑا بنایا گیا تھا تاکہ باہر سے جانور نہ آ سکیں۔ کمروں میں پلستر کیا گیا تھا اور ان میں تصاویر آویزاں کی گئی تھیں۔ درسگاہ کی بیرونی دیوار کافی حد تک محفوظ ہے اور نہایت سیدھی اور ہموار ہے۔

درسگاہ میں ایک باورچی خانہ بھی بنایا گیا تھا جس میں مصالحہ جات کو پیسنے کے لیے استعمال ہونے والا پتھر اب بھی موجود ہے۔ اسی طرح دانے پیسنے کے لیے دو چکیاں بھی محفوظ ہیں۔ باورچی خانہ کی دیوار میں ایک سوراخ کر کے چمچ رکھنے کے لیے جگہ بنائی گئی تھی۔

یہ درسگاہ 455ء میں سفید ہن نامی قوم نے نذر آتش کر دی تھی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. John Marshall۔ Taxila: An Illustrated Account of Archaeological Excavations Carried Out at Taxila Under the Orders of the Government of India between the years 1913 and 1934۔ صفحہ 372۔

نگار خانہ[ترمیم]

نیز دیکھیں[ترمیم]

  1. ٹیکسلا
  2. بھڑ ماونڈ
  3. سرکپ
  4. سرسکھ
  5. موہرا مرادو