جولیس سیزر
| جولیس سیزر Gaius Julius Caesar (GAIVS IVLIVS CAESAR) |
|
|---|---|
Bust of Caesar in Naples National Archaeological Museum
|
|
| Dictator of the رومی جمہوریہ | |
| عہدہ سنبھالا اکتوبر 49 ق-م – 15 مارچ 44 ق-م[lower-alpha 1] |
|
| کونسل رومی جمہوریہ کا | |
| عہدہ سنبھالا 1 جنوری 44 ق-م – 15 مارچ 44 ق-م Serving with مارک انتھونی |
|
| پیشرو | C. Caninius Rebilus (کونسلر) اور Gaius Trebonius (کونسلر) |
| جانشین | P. Cornelius Dolabella (کونسلر) اور مارک انتھونی |
| عہدہ سنبھالا 1 جنوری 46 ق-م – ستمبر 45 ق-م Serving with M. Aemilius Lepidus (46 ق-م) |
|
| پیشرو | Q. Fufius Calenus اور Publius Vatinius |
| جانشین | Q. Fabius Maximus (کونسلر) اور Gaius Trebonius (کونسلر) |
| عہدہ سنبھالا 1 جنوری 48 ق-م – 1 جنوری 47 ق-م Serving with P. Servilius Vatia Isauricus |
|
| پیشرو | C. Claudius Marcellus Maior اور L. Cornelius Lentulus Crus |
| جانشین | Q. Fufius Calenus اور Publius Vatinius |
| عہدہ سنبھالا 1 جنوری 59 ق-م – 1 جنوری 58 ق-م Serving with Marcus Calpurnius Bibulus |
|
| پیشرو | Q. Caecilius Metellus Celer اور Lucius Afranius |
| جانشین | L. Calpurnius Piso Caesoninus اور Aulus Gabinius |
| ذاتی تفصیلات | |
| پیدائش | جولائی 100 ق-م روم |
| وفات | 15 مارچ 44 ق-م (سال 55) روم |
| مقام تدفین | Temple of Caesar، روم |
| شریک حیات |
|
| اولاد |
|
| ماں | Aurelia Cotta |
| باپ | Gaius Julius Caesar |
| مذہب | قدیم روم میں مذہب |
جولیس سیزر (Julius Caesar) (پیدائش جولائی 100 قبل مسیح، وفات 15 مارچ 44 قبل مسیح) رومی سلطنت کا ایک فوجی جرنیل اور حکمران تھا جس نے رومی سلطنت کو اتنی توسیع دی کہ یہ افریقہ سے لے کر یورپ تک پھیل گئی۔
وہ سکندر اعظم سے بے حد متاثر تھا اور اس سے بڑھ کر فاتح عالم بننا چاہتا تھا تاہم دنیا فتح کرنے میں سکندر اعظم کی ہمسری نہ کرسکا۔ سکندر اعظم کی طرح جولیس سیزر بھی پیدائشی طور پر مرگی کا مریض تھا۔ وہ دورے کی حالت میں سر دربار بے ہوش ہوجاتا۔
اس نے حریف جرنیل پامپے کو شکست دی اور اسکندریہ میں اسے قتل کردیا گیا۔
جب اس نے مصر فتح کیا تو وہاں کی ملکہ قلوپطرہ کی زلفوں کا اسیر ہوگیا اور کافی عرصہ وہاں مقیم رہا۔ مصر سے واپسی پر سیزر نے سربراہ مملکت کے طور پر روم کے امور سنبھالے اور شاید وہی دنیا کا پہلا جرنیل بادشاہ تھا۔
ایک طرف تو سلطنت روم کی کونسل نے سیزر کو اٹلی کے علاوہ سبھی ملکوں کا بادشاہ بنانا طے کرکے اس کے تخت پر بیٹھنے کی تاریخ مقرر کر لی دوسری طرف اس کے ساتھی مارکوس جونیئس بروٹس نے دیگر کے ساتھ مل کر اس کے قتل کی سازش شروع کردی۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ سیزر کو بادشاہ بننے کا کوئی حق نہیں کیونکہ بادشاہ بننا روم کے قانون کے خلاف ہے۔ اس سے صرف سیزر ہی روم کے سیاہ و سفید کا مالک بن جاتا۔
15 مارچ 44 قبل مسیح میں اسے سر دربار قتل کردیا گیا۔ قاتلوں کا سربراہ بروٹس تھا۔ سیزر نے قاتلانہ حملے میں اپنے ساتھی کی شرکت دیکھی تو کہا کہ بروٹس تم بھی؟ پھر تو سیزر کو ضرور مر جانا چاہئے۔
سیزر کو قتل کر کے قاتلوں نے اس کے خون میں ہاتھ دھوئے اور آزادی کے نعرے لگائے۔
سیزر کے قتل کے نتیجے میں روم میں خانہ جنگی شروع ہوگئی جس میں بروٹس کے تمام ساتھی مارے گئے جبکہ اس نے خود کشی کرلی۔
| ویکی کومنز پر جولیس سیزر سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |