جولیس سیزر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
جولیس سیزر

Gaius Julius Caesar
(GAIVS IVLIVS CAESAR)


Bust of Caesar in Naples National Archaeological Museum

در منصب
اکتوبر 49 ق-م – 15 مارچ 44 ق-م[lower-alpha 1]

در منصب
1 جنوری 44 ق-م – 15 مارچ 44 ق-م
Serving with مارک انتھونی 
پیشرو C. Caninius Rebilus (کونسلر)
اور Gaius Trebonius (کونسلر)
جانشین P. Cornelius Dolabella (کونسلر)
اور مارک انتھونی
در منصب
1 جنوری 46 ق-م – ستمبر 45 ق-م
Serving with M. Aemilius Lepidus (46 ق-م)
پیشرو Q. Fufius Calenus
اور Publius Vatinius
جانشین Q. Fabius Maximus (کونسلر)
اور Gaius Trebonius (کونسلر)
در منصب
1 جنوری 48 ق-م – 1 جنوری 47 ق-م
Serving with P. Servilius Vatia Isauricus
پیشرو C. Claudius Marcellus Maior
اور L. Cornelius Lentulus Crus
جانشین Q. Fufius Calenus
اور Publius Vatinius
در منصب
1 جنوری 59 ق-م – 1 جنوری 58 ق-م
Serving with Marcus Calpurnius Bibulus
پیشرو Q. Caecilius Metellus Celer
اور Lucius Afranius
جانشین L. Calpurnius Piso Caesoninus
اور Aulus Gabinius

پیدائش جولائی 100 ق-م
روم
وفات 15 مارچ 44 ق-م (سال 55)
روم
ازواج
  • کرنیلا (84–69 ق-م; میں اس نے وفات پائی)
  • پومپیا (68–63 ق-م; میں طلاق ہوئی)
  • کاپورنیا (59–44 ق-م; میں اس نے وفات پائی)
بچے
  • جولیا c.76–54 ق-م
  • سسرو (متنازع) 47–30 ق-م
  • آگسٹس (گود لیا) 63 ق-م–14 عیسوی
مذہب Roman Polytheism

جولیس سیزر (Julius Caesar) (پیدائش جولائی 100 قبل مسیح، وفات 15 مارچ 44 قبل مسیح) رومی سلطنت کا ایک فوجی جرنیل اور حکمران تھا جس نے رومی سلطنت کو اتنی توسیع دی کہ یہ افریقہ سے لے کر یورپ تک پھیل گئی۔

وہ سکندر اعظم سے بے حد متاثر تھا اور اس سے بڑھ کر فاتح عالم بننا چاہتا تھا تاہم دنیا فتح کرنے میں سکندر اعظم کی ہمسری نہ کرسکا۔ سکندر اعظم کی طرح جولیس سیزر بھی پیدائشی طور پر مرگی کا مریض تھا۔ وہ دورے کی حالت میں سر دربار بے ہوش ہوجاتا۔

اس نے حریف جرنیل پامپے کو شکست دی اور اسکندریہ میں اسے قتل کردیا گیا۔

جب اس نے مصر فتح کیا تو وہاں کی ملکہ قلوپطرہ کی زلفوں کا اسیر ہوگیا اور کافی عرصہ وہاں مقیم رہا۔ مصر سے واپسی پر سیزر نے سربراہ مملکت کے طور پر روم کے امور سنبھالے اور شاید وہی دنیا کا پہلا جرنیل بادشاہ تھا۔

ایک طرف تو سلطنت روم کی کونسل نے سیزر کو اٹلی کے علاوہ سبھی ملکوں کا بادشاہ بنانا طے کرکے اس کے تخت پر بیٹھنے کی تاریخ مقرر کر لی دوسری طرف اس کے ساتھی مارکوس جونیئس بروٹس نے دیگر کے ساتھ مل کر اس کے قتل کی سازش شروع کردی۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ سیزر کو بادشاہ بننے کا کوئی حق نہیں کیونکہ بادشاہ بننا روم کے قانون کے خلاف ہے۔ اس سے صرف سیزر ہی روم کے سیاہ و سفید کا مالک بن جاتا۔

15 مارچ 44 قبل مسیح میں اسے سر دربار قتل کردیا گیا۔ قاتلوں کا سربراہ بروٹس تھا۔ سیزر نے قاتلانہ حملے میں اپنے ساتھی کی شرکت دیکھی تو کہا کہ بروٹس تم بھی؟ پھر تو سیزر کو ضرور مر جانا چاہئے۔

سیزر کو قتل کر کے قاتلوں نے اس کے خون میں ہاتھ دھوئے اور آزادی کے نعرے لگائے۔

سیزر کے قتل کے نتیجے میں روم میں خانہ جنگی شروع ہوگئی جس میں بروٹس کے تمام ساتھی مارے گئے جبکہ اس نے خود کشی کرلی۔

Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔

نگار خانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

حواشی[ترمیم]

  1. ^ Caesar ruled as undisputed master of the Roman Republic from 49 BC until his assassination in 44 BC. During that time, he served as either Dictator or کونسل، یا both