جولیس سیزر
| جولیس سیزر | |
|---|---|
| (لاطینی میں: Gaius Iulius Caesar) | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | سنہ 100 ق م[1] روم[2] |
| وفات | مارچ 44 ق م[3] روم[4] |
| وجۂ وفات | چھریوں کے وار |
| قاتل | بروٹس |
| طرز وفات | قتل |
| رہائش | روم |
| شہریت | قدیم روم |
| ساتھی | قلوپطرہ |
| اولاد | سیزاریئن، آگسٹس |
| خاندان | جولیو کلاڈیوی خاندان |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | سیاست دان[5]، مصنف، یاداشت نگار، فوجی افسر، حاکم[6]، مؤرخ، فوجی افسر |
| پیشہ ورانہ زبان | لاطینی زبان |
| ویب سائٹ | |
| IMDB پر صفحہ | |
| ترمیم | |
جولیس سیزر (Julius Caesar) (پیدائش جولائی 100 قبل مسیح، وفات 15 مارچ 44 قبل مسیح) رومی سلطنت کا ایک فوجی جرنیل اور حکمران تھا جس نے رومی سلطنت کو اتنی توسیع دی کہ یہ افریقا سے لے کر یورپ تک پھیل گئی۔
وہ سکندر اعظم سے بے حد متاثر تھا اور اس سے بڑھ کر فاتح عالم بننا چاہتا تھا تاہم دنیا فتح کرنے میں سکندر اعظم کی ہمسری نہ کرسکا۔ سکندر اعظم کی طرح جولیس سیزر بھی پیدائشی طور پر مرگی کا مریض تھا۔ وہ دورے کی حالت میں سر دربار بے ہوش ہوجاتا۔
اس نے حریف جرنیل پامپے کو شکست دی اور اسکندریہ میں اسے قتل کر دیا گیا۔
جب اس نے مصر فتح کیا تو وہاں کی ملکہ قلوپطرہ کی زلفوں کا اسیر ہو گیا اور کافی عرصہ وہاں مقیم رہا۔ مصر سے واپسی پر سیزر نے سربراہ مملکت کے طور پر روم کے امور سنبھالے اور شاید وہی دنیا کا پہلا جرنیل بادشاہ تھا۔
ایک طرف تو سلطنت روم کی کونسل نے سیزر کو اٹلی کے علاوہ سبھی ملکوں کا بادشاہ بنانا طے کرکے اس کے تخت پر بیٹھنے کی تاریخ مقرر کر لی دوسری طرف اس کے ساتھی مارکوس جونیئس بروٹس نے دیگر کے ساتھ مل کر اس کے قتل کی سازش شروع کردی۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ سیزر کو بادشاہ بننے کا کوئی حق نہیں کیونکہ بادشاہ بننا روم کے قانون کے خلاف ہے۔ اس سے صرف سیزر ہی روم کے سیاہ و سفید کا مالک بن جاتا۔
15 مارچ 44 قبل مسیح میں اسے سر دربار قتل کر دیا گیا۔ قاتلوں کا سربراہ بروٹس تھا۔ سیزر نے قاتلانہ حملے میں اپنے ساتھی کی شرکت دیکھی تو کہا کہ بروٹس تم بھی؟ پھر تو سیزر کو ضرور مر جانا چاہیے۔
سیزر کو قتل کر کے قاتلوں نے اس کے خون میں ہاتھ دھوئے اور آزادی کے نعرے لگائے۔
سیزر کے قتل کے نتیجے میں روم میں خانہ جنگی شروع ہو گئی جس میں بروٹس کے تمام ساتھی مارے گئے جبکہ اس نے خود کشی کرلی۔
| ویکی کومنز پر جولیس سیزر سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |
نگار خانہ[ترمیم]
حوالہ جات[ترمیم]
- ↑ http://www.bbc.co.uk/history/historic_figures/caesar_julius.shtml
- ↑ اجازت نامہ: CC0
- ↑ مصنف: Leofranc Holford-Strevens اور Bonnie J. Blackburn — عنوان : The Oxford Companion to the Year — صفحہ: 119, 671 — ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس
- ↑ اجازت نامہ: CC0
- ↑ http://www.infoplease.com/encyclopedia/people/caesar-julius.html
- ↑ http://collection.britishmuseum.org/id/person-institution/58909
حواشی[ترمیم]
- 100 ق مء کی پیدائشیں
- 44 ق مء کی وفیات
- جولیس سیزر
- 100 ق م
- 100 ق م کی پیدائشیں
- 44 ق م
- 44 ق م کی وفیات
- پہلی صدی ق م کی رومی شخصیات
- پہلی صدی ق م کے حکمران
- پہلی صدی ق م کے مصنفین
- پہلی صدی ق م کے مؤرخین
- تیز دھار ہتھیار سے اموات
- روم کی شخصیات
- عہد زریں کے لاطینی مصنفین
- قدیم رومی جرنیل
- قدیم رومی مصنفین
- قلوپطرہ
- کاؤ دائی بزرگان
- لاطینی زبان کے مصنفین
- مرگی کے مرض میں مبتلا شخصیات
- مقتول سربراہان ریاست
- مقتول فوجی اہلکار
- یاداشت نگار