جگا گجر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جگا گجر
ਪੰਜਾਬੀ ਜੱਗਾ ਗੁੱਜਰ
ہدایت کار کیفی
پروڈیوسر چوہدری معراج دین
تحریر ناصر ادیب
ماخوذ از ایک سچی کہانی زنجیروں کی شعلوں کی اور بہتے ہوئے لہو کی زبانی
ستارے
راوی حاجی محبت علی
موسیقی بخشی وزیر
سنیماگرافی ایم لطیف
ایڈیٹر ضمیر قمر، بشارت
پروڈکشن
کمپنی
تقسیم کار بڈھا گجر پروڈکشن
تاریخ اشاعت
دورانیہ
133 دقیقہ
ملک Flag of Pakistan (bordered).svg پاکستان
زبان پنجابی، اردو
بجٹ $80,00
باکس آفس روپیہ 50 کروڑ (US$4.7 ملین)

جگا گجر (انگریزی: Jagga Gujjar) ‏ پنجابی زبان میں فلم کا آغاز کیا۔ فلم كى نمائش 26 ستمبر، 1976ء كو ہوئى۔ پاکستانی پلاٹینم جوبلی ایکشن فلم، جراٸم کے بارے میں فلم کی تکمیل کی گی ہیں۔ اس فلم کے ہدایتکار کیفی تھے۔ اور کی طرف سے فلمساز تیار کردہ چوہدری معراج دین. فلم کے اداکاروں نے اپنی اداکاری کے جوہر دیکھے۔ ان اداکاروں کے منفرد کردار سلطان راہی، کیفی، عنایت حسین بھٹی، ننھا تھے۔

1965ء[ترمیم]

ایک سچی کہانی زنجیروں کی شعلوں کی اور بہتے ہوئے لہو کی زبانی جگا گجر کا اصل نام محمد شریف تھا، اسے اس کی والدہ پیار سے جگا کہا کرتی تھی۔ جگا کے غنڈہ بننے کی کہانی بھی دلچسپ ہے ، اس کے بھائی مکھن گجر کا ایک میلے میں نامی گرامی بدمعاش اچھا شوکر والا سے جھگڑا ہو گیا۔ شوکر والا کے آدمی نے مکھن گجر کو قتل کر دیا، تب جگا کی عمر چودہ سال تھی، جگا نے آٹھ دن بعد اپنے بھائی کے قاتل کو قتل کر دیا اور جیل جا پہنچا۔ وہاں جب اسے پتا چلا کہ قتل کا اصل محرک شوکر والا ہے تو اس نے اس کے خلاف جیل میں ہی ایک منظم تحریک کا آغاز کیا اور اس پر حملہ بھی کروایا۔ اس حملے میں شوکو والا کے دو آدمی مارے گئے اور شوکر والا زخمی ہوا، تاہم یہ سلسلہ جگا کو باقاعدہ غنڈہ بنانے میں اہم کردار کا حامل رہا۔ جگا گجر پر فلم بنی جس میں جگا گجر کا کردار سلطان راہی نے ادا کیا یہ فلم 1976ء میں بنی۔ شروع ہی سے خیر اور شر چلتا آ رہا ہے۔ ہر شخص میں دونوں قوتیں موجود ہوتی ہیں۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ ان میں سے کس کازیادہ استعمال کرتے ہیں۔‘‘

کاسٹ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]