جھاؤ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
جھاؤ، تمرس، اثل
Tamarix aphylla.jpg
جھاؤ کا پودا اسرائیل کے میں قدرتی ماحول میں
صنف بندی
مملکت: نباتات
درجہ: Caryophyllales
خاندان: Tamaricaceae
جنس: تمرسک
Species

See text

اردو میں جھاؤ ہندی میں تمرس (عربی:اثل) اور(انگریزی، جرمنی، فرانسیسی:Tamarix)، ایک خودرو پودا ہے جو دنیا بھر میں ان مقامات پر ہوتا ہے جو آبپاشی یا زراعت کے قابل نہیں ہوتیں،بنجر صحرائی زمین میں عام طور پر دریا کنارے کنارے اگتا ہے۔ یہ کڑوا ہوتا ہے اور کھانے کے کام نہیں آتا۔ اس کی ٹہنیوں سے ٹوکریاں بنائی جاتی ہیں۔اس کا ذکر مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن میں بھی ایک مقام پر آیا ہے۔[1]

جھاؤ کا ایک اور مطلب[ترمیم]

جھاؤ جسم کی کھال پر جم جانے والے اس مواد کو کہتے ہیں جو کھال سے رسنے والی کچھ رطوبتوں کے ساتھ مل کر ایک ایسی سخت تہہ کی صورت اختیار کر لیتا ہے جسے صابن یا دیگر مصفٰی چیزوں سے ہٹانا ممکن نہیں رہتا. بعض اوقات جلدی بیماری کی وجہ سے چھوٹے مہین دانے سوکھ کر جھاؤ بنا دیتے ہیں. اس کو کھرچنے کے لیے کھردرا پتھر یا ٹوٹے پھوٹے گھڑے کا ٹکڑا استعمال کیا جاتا ہے جسے جھانواں کہتے ہیں، بمعنی جھاؤ کا گند کھینچ کر اپنے اندر جذب کرکے جھاؤ جسم سے دور کرنے والا پتھر یا ٹھیکرا.


حوالہ جات[ترمیم]

  1. قرآن:سورہ سبا، آیت 15، 16