جھاؤ
| جھاؤ، تمرس، اثل | |
|---|---|
| جھاؤ کا پودا اسرائیل کے میں قدرتی ماحول میں | |
| سائنسی درجہ بندی | |
| اقلیم: | |
| (غیر درجہ بند): | |
| (غیر درجہ بند): | |
| (غیر درجہ بند): | |
| فصیلہ: | |
| خاندان: | |
| جنس: | تمرسک |
| Species | |
|
See text | |
اردو میں جھاؤ ہندی میں تمرس (عربی:اثل) اور(انگریزی، جرمنی، فرانسیسی:Tamarix)، ایک خودرو پودا ہے جو دنیا بھر میں ان مقامات پر ہوتا ہے جو آبپاشی یا زراعت کے قابل نہیں ہوتیں،بنجر صحرائی زمین میں عام طور پر دریا کنارے کنارے اگتا ہے۔ یہ کڑوا ہوتا ہے اور کھانے کے کام نہیں آتا۔ اس کی ٹہنیوں سے ٹوکریاں بنائی جاتی ہیں۔ اس کا ذکر مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن میں بھی ایک مقام پر آیا ہے۔[2]
جھاؤ کا ایک اور مطلب
[ترمیم]جھاؤ جسم کی کھال پر جم جانے والے اس مواد کو کہتے ہیں جو کھال سے رسنے والی کچھ رطوبتوں کے ساتھ مل کر ایک ایسی سخت تہ کی صورت اختیار کر لیتا ہے جسے صابن یا دیگر مصفٰی چیزوں سے ہٹانا ممکن نہیں رہتا۔ بعض اوقات جلدی بیماری کی وجہ سے چھوٹے مہین دانے سوکھ کر جھاؤ بنا دیتے ہیں۔ اس کو کھرچنے کے لیے کھردرا پتھر یا ٹوٹے پھوٹے گھڑے کا ٹکڑا استعمال کیا جاتا ہے جسے جھانواں کہتے ہیں، بمعنی جھاؤ کا گند کھینچ کر اپنے اندر جذب کرکے جھاؤ جسم سے دور کرنے والا پتھر یا ٹھیکرا۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ "Genus: تمرسک L."۔ Germplasm Resources Information Network۔ United States Department of Agriculture۔ 28 اپریل 1998۔ 2015-09-23 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-02-18
- ↑ قرآن:سورہ سبا، آیت 15، 16