جھوٹ کی نفسیات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

انسانی مزاج اور نفسیات میں مختلف عناصر کو دخل ہے۔ ماہرین نفسیات انسانی عادات، اطوار اور جرائم کا نفسیتاتی تجزیہ مختلف انداز میں پیش کرتے ہیں۔ کہیں انسان کے متشدد ہونے کا تجزیہ کیا جاتا ہے، کہیں جرائم کی نوعیت پر تحقیق ہوتی ہے، کوئی مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے عناصر اور تشدد پسند اور تنہائی پسند آدمی پر تحقیق کرتا ہے۔ یوں فلسفی اور دانشور انسانی مزاج اور حرکات و سکنات کا مختلف انداز میں تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ جھوٹ بھی انسانی نفسیات کا ایک جزو ہے جس کا تعلق مختلف عوامل سے ہے۔ جھوٹ کیا ہے؟ انسان جھوٹ کیوں بولتا ہے؟۔ کون سے عناصر ایسے ہیں جو کسی آدمی کو جھوٹ بولنے پر اکساتے ہیں؟ اور جھوٹ کو پروان چڑھانے والے معاشرے پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان اہم سوالات پر پاکستان کے صحافی و دانشور شاہنواز فاروقی قلم اٹھاتے ہیں اور اپنے انداز میں اس کا تجزیہ کرتے ہیں۔ (ہم اور جھوٹ کی نفسیات) نامی یہ تجزیاتی مضمون روزنامہ جسارت کراچی میں 30 جون 1991 کو شائع ہوا۔ بعد ازاں یہی مضمون ان کی کتاب کاغذ کے سپاہی میں بھی شامل کیا گیا جو اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی نے شائع کی ہے۔ مضمون کا خلاصہ ناشر اور مصنف کی اجازت سے درج کیا جا رہاہے۔ اکثر جملے مصنف کے اپنے لکھے ہوئے ہیں مگر چند جملوں کو مختصر کرنے کی غرض سے تبدیل بھی کیا گیا ہے۔ مضمون نگار اپنے معاشرے کے رویہ کا تجزیہ کرتے ہوئے ابتدا کچھ یوں کرتے ہیں۔

اگر قوم کی اسلام پسندی کو دیکھا جائے تو ہم میں سے ہرشخص اپنے مسلمان ہونے کا شدت سے دعویدار ہے اور محسوس یہ ہوتا ہے گویا اسلام سے محبت اور اس کا تحفظ صرف اور صرف اسی کی ذمہ داری ہو۔ مگر جب اس کی عملی زندگی کو دیکھو تو دوسرا ہی منظر سامنے آتا ہے۔ ہم میں سے اکثر جتنی پابندی سے پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں اتنی ہی پابندی سے رشوت بھی لیتے ہیں، جتنے خلوص سے روزے رکھتے ہیں اتنے ہی خلوص کے ساتھ اشیاء میں ملاوٹ بھی کرتے ہیں۔ جتنی خاموشی سے غریبوں کی مالی مدد کرتے ہیں اتنی ہی خاموشی سے ریاستی ٹیکس چراتے ہیں۔ جھوٹ، جھوٹ، جھوٹ، ہرجگہ جھوٹ، یہ سب صورتیں جھوٹ عملی شکلیں ہیں۔ اگر اہرمن کا وجود تسلیم کر لیا جائے تو ہم میں سے ہر ایک جھوٹ کا ایک مستند پیغمبر ہے۔ ہماری زندگی ہم پہر نازل ہونے والا جھوٹ کا صحیفہ ہے۔ اور ہم خود اپنی امت ہیں، امت ِ شر، ایسی امتِ شر جس کے شر کا نشانہ کوئی اور نہیں ہم خود ہیں۔

جھوٹ سے نفرت کی خواہش[ترمیم]

مصنف کے مطابق سچ کی اہمیت یہ ہے ہر شخص سچ کا طالب ہوتا ہے اور جھوٹ کو سخت ناپسند کرتا ہے اس کی مثال وہ یوں دیتے ہیں کہ اگر کسی بہت بڑے دروغ گو یا جھوٹے شخص سے بھی دروغ گوئی کی جائے تو وہ اس پر شدید برہمی کا اظہار کرے گا اور مطالبہ کرے گا کہ اس سے سچ بولا جائے۔ مصف کا کہنا ہے کہ انسان جب تک دوسروں سے جھوٹ بولتا ہے مگر اپنے آپ سے جھوٹ نہیں بولتا تو معاملہ ایک حد میں رہتا ہے۔ مگر انسان اپنے آپ سے بھی جھوٹ بولنے لگے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ انسان کو اپنے ضمیر کے پست ترین درجے سے بھی محروم ہو گیا ہے۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔

جھوٹ کا سب سے خطرناک پہلو[ترمیم]

شاہنواز فاروقی دروغ گوئی کے ایک پہلو کو خطرناک ترین قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جھوٹ کی سب مکروہ بات یہی ہے کہ وہ سچ کی قیمت پر بولا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس صورت حال کا سبب کیا ہے؟؟ اور جھوٹ کی نفسیات کیا ہے؟؟ یعنی انسان جھوٹ کیوں بولتا ہے۔؟؟

دروغ گئی کی ابتدا کیسے ہوتی ہے؟[ترمیم]

وہ اک عربی ضرب المثل سے اپنی بات واضع کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مچھلی ہمیشہ سر کی جانب سے سڑتی ہے۔ قومی یا اجتماعی کا معاملہ بھی یہی ہے، یعنی کسی بھی قوم کے سڑنے کا آغاز اس کے سر کی جانب سے ہی ہوا کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ برائی سب سے پہلے کسی قوم کے اہلِ دانش میں پیدا ہوتی ہے۔ ان میں مفکرین، فلسفی، علماء کرام، شاعر، ادیب، صحافی، سیاسی و سماجی رہنما وغیرہ شامل ہیں۔ یہ منطقی بات ہے کہ ابتدا میں ابلاغ کا عمل اوپر سے نیچے کی جانب ہوتا ہے، جب ابلاغ کے عمل کا یہ مرحلہ مکمل ہوجاتا ہے تو ابلاغ کا یہ عمل اپنے پھیلائو کے لیے دوسری سمتیں تلاش کرتا ہے۔

قومی معاملات کا تجزیہ[ترمیم]

مصنف تاریخی مثال سے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے یہاں ہر برائی کا آغاز ہمارے سر کی جانب سے ہوا ہے ہمارے سیاست دانوں نے ہم سے جھوٹ بولا۔ شاعروں اور ادیبوں اور دانشوروں نے جھوٹ بولا، علما نے جھوٹ بولا، صحافیوں نے جھوٹ بولا، ہمیں سب نے جھوٹ کا تجربہ فراہم کیا اور اب بھی کر رہے ہیں۔ دلچسب بات یہ ہے کہ جو اس عمل کے ذمہ دار ہیں وہی اس پر واویلا بھی کر رہے ہیں۔

جھوٹ کے معاشرے پر اثرات[ترمیم]

جھوٹ یا دروغ گوئی کے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ اس سوال کا جواب وہ کچھ یوں دیتے ہیں اگرچہ کہ اہل دانش کی اہمیت بہت ہوتی ہے مگر ایک خاص مرحلے پر جاکر عوام کی اہمیت اہل دانش سے بڑھ جاتی ہے اور وہ اس طرح کے اوپر سے آنے والے پیغام کو عوام ہی زندگی کا تجربہ بناتے ہیں، ہر پیغام اس وقت تک بے معنی ہوتا ہے جب تک وہ زندگی کا عام تجربہ نہ بن جائے۔ تجربہ سے معاشرتی قدریں وجود میں آتی ہیں۔ یہی قدریں معاشرے میں زندگی کا پورا منظر نامہ ترتیب دیتی ہیں۔ شاہنواز فاروقی کا تجزیہ ہے کہ جب کوئی پیغام تجربے میں ڈھل جاتا ہے تو اس کی گو نہ گوں صورتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ کیونکہ ہر انسان ایک خاص پیغام کو ایک خاص طریقے سے قبول کرکے اسے اپنے داخلیت کا حصہ بناتا ہے۔ عوام اہل دانش کے پیغام سے ہی نہیں بلکہ ان کے عمل کے سانچے سے بھی اثر قبول کرتے ہیں۔ اگر اوپر کی سطح پر پیغام اور عمل کا سانچہ پیچیدہ ہوتو وہ عوامی تجربہ بنتے بنتے اور بھی پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ یہ تو تھا جھوٹ کا اجتماعی معاملہ تاہم انفرادی سطح پر یہ صورت حال کچھ دوسرے محرکات کے باعث ظہور پزیر ہوتی ہے۔

جھوٹ اور سچ کی نفسیاتی جہت میں فرق[ترمیم]

سوال یہ ہے کہ جھوٹ اور سچ کی نفسیاتی جہت میں بنیادی فرق کیا ہے؟ مصنف کے خیال میں جھوٹ ایک پیچیدہ اور پراگندہ ذہنی صورت حال کا عکاس ہوتا ہے۔ اس کے برعکس سچ واضع اور صاف ذہنی کیفیات کا مظہر ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان کو ایک جھوٹ بول کر ہزار جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ انسانی ذہن تہ در تہ ذہنی الجھنون کا شکار ہوتا چلا جاتا ہے۔ ایک جھوٹ کو جواز فراہم کرنے کے لیے اسے دوسرا جھوٹ گھڑنا ہوتا ہے۔ دوسرے جھوٹ کو ثابت کرنے کے لیے تیسرا جھوٹ ایجاد کرنا پڑتا ہے اور یوں یہ صورت حال ایک کبھی نہ ختم ہونے والے سلسلے کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ اس سفر میں ہر قدم پر انجام ہی انجام ہے آغاز کہیں نہیں۔

اس کے برعکس سچ کا معاملہ آفتاب آمد دلیل آفتاب والا ہوتا ہے۔ اسے مخصوص معنوں میں کسی جواز کسی سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کا کوئی جواز ہوتا بھی ہے تو وہ اس کے سہارے کے لیے نہیں بلکہ اس تک پہنچنے کے لیے پل Bridge کے طور پر موجود ہوتا ہے۔ بلکہ یہ جواز اس سچ کی کوئی بہت معولی جہت ہوتی ہے۔ جو پل کا کام انجام دے کر نمایاں اور معتبر ہوجاتی ہے۔

آدمی جھوٹ کیوں بولتا ہے؟[ترمیم]

آدمی کے جھوٹ بولنے کی درج ذیل وجوہات ہوتی ہیں۔

  • ناکافی Inadequate ہونے کا احساس
  • ذمہ داری سے بچنے کی خواہش

مصنف کا خیال ہے کہ جب کوئی انسان اپنے آپ کو کسی خاص صورت حال میں ناکافی محسوس کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس صورت حال میں (کافی) بنانے کے لیے جھوٹ بولتا ہے۔ ہر انسان بیک وقت کئی اقسام کے ماحول اور صورت حال میں زندہ رہتا ہے۔ مثال کے طور پر

  • علمی صورت حال
  • معاشی صورت حال
  • سماجی صورت حال
  • سماجی مرتبے کی صورت حال
  • خاندانی صورت حال
  • جسمانی خصوصیات کی صورت حال وغیرہ

ان صورتوں میں اعلیٰ اور ادنیٰ کے کچھ معاشرتی پیمانے مقرر ہوتے ہیں۔ (یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ آج کے معاشروں میں یہ پیمانے حد درجہ جعلی ہوتے ہیں) ہر انسان ان صورتوں میں سے کسی خاص صورت میں موجود ہوتا ہے تو وہ کسی دوسرے شخص یا اشخاص کے سامنے اپنے آپ کو اسی صورت کے حوالے سے ناکافی محسوس کرتا ہے۔ ناکافی ہونے کا احساس اس کے اندر احساس کمتری پیدا کرتا ہے۔ اکثر لوگ اپنے ناکافی پن کو دور کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ جس کے باعث وہ جھوٹ کے ذریعے اپنے آپ کو کافی ثابت کرتے ہیں۔

فروغ میں معاشرہ کا کردار[ترمیم]

جھوٹ کے معاشرے پر اثرات کا ذکر کرتے ہوئے وہ مختلف پہلو اجاگر کرتے ہیں جن میں سے ایک پہلو پر وہ لکھتے ہیں کہ جھوٹ کا ایک منفی گوشہ یہ سامنے آیا ہے کہ معاشرے میں نظام مراتب کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔ یعنی اس بیماری کا شکار معاشرہ یہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالٰی ہرشخص کو ہر صلاحیت دے کر پیدا نہیں کرتا لیکن ہر شخص کو ایک خاص صلاحیت یا Uniqueness دے کر پیدا کرتا ہے۔ کچھ ہی لوگ ہوتے ہیں جن کو قدرت کئی صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کرتی ہے۔ انسانوں کی انہیں صلاحیتوں کے اعتبارسے معاشرے میں ایک خاص نظام ِ مراتب وجود میں آتا ہے۔ اس نظام میں کوئی شخص غیر اہم نہیں ہوتا البتہ ایک شخص دوسرے شخص سے بعض خصائص کی بنا پر زیادہ اہم ہوتا ہے۔ اس نظام میں روحانی سرگرمیوں میں مصروف لوگوں کا مقام سب سے بلند ہوتا ہے۔ اس کے بعد تخلیقی کام کرنے والوں کا نمبر آتا ہے۔ اس کے بعد ہنر مندوں اور پھر جسمانی محنت کرنے والوں کی باری آتی ہے۔

ان افراد کے مرتبے تو ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں لیکن ایک دوسرے کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں۔ ان سب کو ایک دوسرے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی ضرورت انہیں مستقل اہم بنائے رکھتی ہے۔

جھوٹ کا رجحان کم رکھنے والے معاشرے[ترمیم]

حفظ مراتب کا خیال رکھنے والے معاشروں کے متعلق مصنف کا خیال ہے کہ ایسے نظام مراتب کا تصور رکھنے والے اور اس تصور پر یقین رکھنے والے معاشروں میں حسد کا مادہ اور اس ھوالے سے جھوٹ کا رجحان بہت کم ہوتا ہے۔ کیونکہ ان معاشروں میں ہر مرتبے پر فائز شخص کو اپنی اہلیت و اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ جس کے باعث وہ، (وہ) بننے کی کوشش نہیں کرتا جو وہ نہیں ہوتا۔ اسی لیے وہ ناکافی پن احساس کا شکار نہیں ہوتا جو ہمارے معاشرے میں اور دنیا کے دیگر معاشروں میں بہت عام ہوچکا ہے۔

جھوٹ، ذمہ داری سے بچنے کا رجحان[ترمیم]

جھوٹ بولنے یا دروغ گوئی سے کام لینے والوں کا تجزیہ کرتئ ہوئے شاہنواز فاروقی لکھتے ہیں کہ جھوٹ بولنے کا دوسرا سبب ذمہ داری سے بچنے کا رجحان ہے۔ اگرچہ کہ ذمہ داری سے بچنے کا رجحان بھی انسان کی پست اخلاقی حالت کی طرف اشارہ کرتا ہے لیکن انسان جب اس سے ایک قدم بڑھ جاتا ہے تو ہم اسے پست اخلاقی کی انتہا قرار دے سکتے ہیں۔ یہ اگلا قدم ہے کہ اپنی ذمہ داری یا اس کے نتائج کو دوسروں پر منتقل کرنا۔ اس صورت حال کے مظاہر عام زندگی سے لے کر قومی زندگی کے اہم ترین معاملات تک آسانی سے دیکھ جا سکتے ہیں۔

مصنف اپنے معاشرے کی مثال پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پورے اخلاقی نظام سے واقف لوگ اپنی ذمہ داری کا بھرپور احساس کرتے ہیں چونکہ یہ جواب طلب کرسکتے ہیں اس لیے جواب دینے کے مکلف بھی ہیں، مصنف اپنی دلیل میں ایک تلخ مثال دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پاکستان دوٹکڑے ہو گیا کوئی اس کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ذمہ دار بھٹو صاحب ہیں، بھٹو صاحب کہتے ہیں کہ وہ اس کے ذمہ دار نہیں۔ اس کی ذمہ دار عوامی لیگ ہے، عوامی لیگ کو مغربی پاکستان کے سب سے بڑے صوبے سے مسلسل شکایتیں تھیں۔ کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔

اس صورت حال پر سخت الفاظ میں تبصرہ کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ جب قوم کے بااثر اور حکمران طبقہ جھوٹ بولنے لگیں تو قومیں بڑے بڑے سانحوں سے دوچار ہوتی ہیں مگر اس قدر عظیم سانحے بھی ان کے حکمرانوں کو سچ بولنے پر مجبور نہیں کرسکتے چونکہ بگاڑ کافی حد تک بڑھ چکا ہوتا ہے۔ اپنے وطن کے دولخت ہونے کو وہ ایک سانحہ قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اتنے بڑے سانحے پر بھی حکمرانوں کو اتنا تاسف بھی نہیں ہے جتنا کہ ایک گلاس کے ٹوٹنے پر ہوا کرتا ہے چونکہ بقول مصنف قوم جھوٹی ہے اور اس کے حکمران جھوٹوں سردار۔۔۔۔

مذہبی تناظر میں وہ اپنی بات کو کچھ اس طرح لکھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں کوئی حقیقی مذہبی صورت حال موجود نہیں ہے۔ نعرے بازی اور حماقت کی حدود کو چھوتی ہوئی سادہ لوحی کی بات اور ہے۔ ورنہ درحقیقت ہمارا معاشرہ مذہب سے بے نیاز دکھائی دیتا ہے۔ اپنے مشاہدات کا تذکرہ کرتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں کہ انہوں نے ایسے بے شمار لوگوں کو دیکھا ہے جو دوسروں کی معاشی صورت حال کو بہتر دیکھ کر اپنی معاشی حالت کو بہتر بنانے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ کچھ لوگ ان کے نزدیک ایسے بھی ہیں جو دوسروں کے بلند سماجی مرتبوں کو دیکھ کر اپنے سماجی مرتبوں کو بلند کرنے کے لیے کمر ہمت کس کے میدان عمل میں کودے ہوئے ہیں۔ مگرلوگ کسی متقی پ رہی ز گار آدمی کو دیکھ کر اپنے روحانی مرتبے کی بلندی کے لیے کوشاں نہیں ہوتے۔ دوسروں کی بہتر معاشی حالت اور بلند سماجی مرتبے انسانوں کو ان کے ناکافی ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔ مگر کسی روحانی ترقی کو دیکھ کر انہیں ایک لمحے کے لیے بھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ اس میدان میں کتنے پیچھے ہیں اور انہیں اس شخص کی طرح اس میدان میں آگے بڑھنا چاہیے۔

مصنف کا کہنا کہ خدانخواستہ راقم کے کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ ہمارے معاشرے میں سچے مذہبی لوگ نہیں ہیں۔ میرا یقین ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ موجود ہیں اور یہ معاشرہ انہی کے اعمال کی برکتوں سے ابھی تک سالم اور قائم ہے۔ مگر یہ لوگ تعداد میں اتنے ہیں کہ

ہرچند کہیں کہ ہیں، نہیں ہیں

جھوٹ کے سیاسی نام[ترمیم]

شاہنواز فاروقی کا سیاست میں دروغ گوئی اور جھوٹ کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ سیاست کے میدان میں جھوٹ کے احساس جرم کو کم کرنے کے لیے بڑی دلکش اصلاحات وضع کی گئی ہیں۔ مقامی سیاست میں جھوٹ کو حکمتِ عملی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جبکہ بین الاقوامی سیاست میں اسے ڈپلو میسی کہا جاتا ہے ہمارے انفرادی اور اجتماعی زندگی کی حکمت عملی اور ڈپلومیسی کے پاٹوں کے درمیان پس رہی ہے۔ نہ جانے کب تک پستی رہے گی۔؟؟؟؟؟