جہانگیر ترین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

صنعتکار، سیاست دان

جہانگیر خان ترین کے والد اللہ نواز ترین ایوب خان کے دور میں کراچی پولیس میں ڈی آئی جی کے عہدے پر تعینات تھے۔ کہنے والے کہتے ہیں اس عہدے تک رسائی میں ان کی قابلیت سے زیادہ فیلڈ مارشل ایوب خان سے ان کی رشتہ داری کا دخل رہا۔ ان کی آبائی زمینیں تربیلا کے مقام پر بننے والے ڈیم میں آگئں جن کے بدلے انھیں جنوبی پنجاب کے شہر لودھراں میں زرعی زمین الاٹ کی گئی۔

جہانگیر ترین 4 جولائی 1953ء کو کومیلا (مشرقی پاکستان ) میں پیدا ہوئے،

پولیس سے ریٹائرمنٹ کے بعد اللہ نواز نے ملتان میں رہائش اور لودھراں میں کاشتکاری اختیار کر لی۔ 20 سال ملتان میں رہے،

جہانگیر ترین کو تعلیم کے لیے لاہور بھجوایا گیا جہاں سے انھوں نے گریجویشن اور امریکہ کی نارتھ کیرولینا یونیورسٹی سے 1974ء میں بزنس ایڈمنسرٹیشن میں ماسٹرز کیا۔

تدریس کی بنکر بھی رہے، پھر کاشتکاری کرنے لگے، والد کی 400 ایکڑ جگہ پر زراعت سے امدن ہوئی تو، شوگر مل لگائی، مخدوم حسن محمود ان کے سسر ہیں، جہانگیر ترین 2002ء میں ق لیگ کی طرف سے رکن قومی اسمبلی بنے، وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے زرعی مشیر رہے بعد ازاں وفاقی وزیر صنعت و پیداوار بن گئے، 2008ء میں فبگشنل لیگ کی طرف سے ایم این اے بنے، 2011ء میں فارورڈ بلاک بنا کر الگ ہو گئےنومبر 2011ء میں تحریک انصاف سے وابستہ ہوئے 2013ء کا انتخاب لودھراں سے ہار گئے، تاہم 2015ء کے ضمنی الیکشن میں کامیابی ملی، عمران خان نے ان کو پارٹی کا سیکرٹری جنرل بنایا، دسمبر 2017ء میں نااہل ہو گئے،[1]

حوالہ جات[ترمیم]

حوالہ جات

  1. https://www.bbc.com/urdu/pakistan-52225924