جہاں آرا بیگم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مغلیہ سلطنت کی شاہزادی
جہاں آرا بیگم - Jahanara Begum Sahib
جہاں آرا بیگم

مغلیہ سلطنت کی شاہزادی
معلومات شخصیت
پیدائش 2 اپریل 1614
آگرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 16 ستمبر 1681
مدفن نظام الدین درگاہ, نئی دہلی
مذہب اسلام
شوہر غیر شادی شدہ
والد شاہ جہاں
والدہ ممتاز
بہن/بھائی
خاندان تیموری
نسل کوئی نہیں
دیگر معلومات
پیشہ شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

شاہزادی جہاں آرا بیگم صاحب : شاہ (Imperial شہزادی) Jahanara Begum Sahib (اپریل 2، 1614 - ستمبر 16, 1681) مغل سلطان شاہ جہاں اور ممتاز محل کی دختر۔ [1] اورنگ زیب کی بڑی بہن۔

زندگی[ترمیم]

ممتاز محل کی وفات 1631ء میں ہوئی، اس وقت جہاں آرا کی عمر 17 سال کی تھی، تب مغلیہ سلطنت کی شاہزادی کہلانے لگیں۔ [2] اپنے بھائی بہنوں کی دیکھ بھال کے ساتھ اپنے شفیق والدِ محترم کی بھی دیکھ بھال اپنے سر لیں۔

جب ان کی ماں کا انتقال ہوا، تو ان پر بہت ساری ذمہ داریاں تھیں، ان میں ایک یہ کہ اپنے بھائی دارا شکوہ کی سرمِ منگنی اور “نادرہ بانو“ سے نکاح، جو ممتاز محل کا ہی ارادہ تھا۔

ممتاز محل اپنے 14ویں بچے کی تولید کے وقت انتقال ہوا۔ مانا جاتا ہے کہ ممتاز محل کے نجی زروزیور کی قیمت اس دور کے 1 کروڑ روپئے تھے، جنہیں شاہجہاں نے دو حصوں میں تقصیم کیا، ایک حصہ جہاں آرا کو اور دوسرا حصہ بقیہ بچوں میں تقسیم کیا۔[3] شاہ جہاں اکثر اپنی بیٹی جہاں آرا سے رائے مشورے لیتے تھے، اور سرکاری انتظامیہ کے امور میں اکثر جہاں آرا کا دخل بھی ہوا کرتا تھا۔ اپنی عزیز بیٹی کو شاہ جہاں “صاحبات الزمانی“، “پادشاہ بیگم“، “بیگم صاحب“ جیسے القاب سے پکارا کرتا تھا۔ جہاں آرا کو اتنا اختیار بھی تھا کہ وہ اکثر قصر آگرہ سے باہر بھی جایا کرتی تھیں۔[4]

سنہ 1644 میں,[5] جہاں آرا کی 30ویں سالگرہ کے موقع پر، ایک حادثہ ہوا جس میں جہاں آرا کے کپڑوں کو آگ لگ گئی اور وہ جھلس کر زخمی ہو گئیں۔ شاہ جہاں اس بات سے نہایت رنجیدہ ہوا، اور انتظامی امور دوسروں کو سونپ کر اپنی بیٹی کی دیکھ بھال کرنے لگا۔ اور اجمیر شریف میں خواجہ معین الدین چشتی کی زیارت پر گیا۔

جب جہاں آرا ٹھیک ہوئیں، شاہ جہاں انہیں قیمتی ہیرے جواہرات اور زیورات تحفے میں دئے، اور سورت بندرگاہ سے آنے والی آمدنیات کو بھی تحفے میں پیش کی۔[4] جہاں آرا بعد میں اجمیر شریف کی زیارت بھی کی، جو کہ ان کے پر دادا شاہنشاہ اکبر کا طور تھا۔ [6]

خاندان سے تعلقات[ترمیم]

شاہ زادی جہاں آرا کے کنارے سے گذرتا ہوا شاہجہاں - ایک تصویر۔

کئی انکشافات بھی اس بات کی ہیں کہ جہاں آرا اپنے بھائی اورنگ زیب کو “سفید سانپ“ (ہوسکتا ہے اورنگ زیب کے چہرے کی رنگت کی وجہ سے ہو) ہہ کر پکارا کرتی تھیں، کبھی کبھی، شیر اور چیتا کے نام سے بھی بلایا کرتی تھیں۔[7] اپنی بہن “روشن آرا“ سے بھی کچھ ان بن ہوا کرتی تھی۔ وجہ یہ کہ جہاں آرا کی مقبولیت سے روشن آرا حسد کرتی تھیں.[8] سلطنت کی گدہ نشینی کے لیے جہاں آرا کا میلان “دارا شکوہ“ کی طرف تھا، تو روشن آرا اورنگ زیب کو سلتطان دیکھنا چاہتی تھیں۔ جب اورنگ زیب مغلیہ سلطنت کا جانشین ہوا تو شاہ جہاں قید کیا گیا، جہاں آرا اپنے والد کے ساتھ قید میں رہا کرتی تھیں، اور والد کی بیمار پرسی کیا کرتی تھیں، اور شاہ جہاں کی وفات تک جہاں آرا اپنے والد کی خدمت کرتی رہیں۔ [9] شاہ جہاں کی وفات کے بعد، اورنگزیب اور جہاں آرا کے درمیان رہی کشیدگی کم ہوئی، اورنگزیب نے جہاں آرا کو صاحب-شاہزادی کا لقب دیا۔ جہاں آرا روشن آرا کو شاہزادی بناکر خود خاموش رہ گئیں۔[10] جہاں آرا کو اتنے اختیارات تھے کہ وہ اورنگزیب کی نکتہ چینی کرتیں اورنگزیب کے انتظامی طریقوں پر تنقید بھی۔

تدفین[ترمیم]

جہاں آرا کا مقبرہ (دائیں جانب)، حضرت نظام الدین اولیا کا مقبرہ (بائیں جانب)، پیچھے کی جانب جماعت خانہ مسجد۔ دہلی کے نظام الدین کامپلیکس کی تصویر۔

جہاں آرا کی وفات پر، اورنگ زیب نے انہیں “صاحباۃالزمانی“ لقب دیا۔ [11] جہاں آرا کی تدفین حضرت خواجہ نظام الدین کی درگاہ کے قریب ہوئی۔ ان کے مزار پر ذیل کا کتبہ لکھا ہوا ہے جو ان کی سادہ زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔

Allah is the Living, the Sustaining.
Let no one cover my grave except with greenery,
For this very grass suffices as a tomb cover for the poor.
The mortal simplistic Princess Jahanara,
Disciple of the Khwaja Moin-ud-Din Chishti,
Daughter of Shah Jahan the Conqueror
May Allah illuminate his proof.
1092 [1681 AD]

انفرادی زندگی[ترمیم]

ان کی نجی زندگی کے بارے میں تفصیلات تو کم ملتے ہیں.[12] یہ کافی تعلیم یافتہ تھیں، عربی فارسی زبانوں میں کافی عبور تھا,[12] وہ ایک اچھی مصور نگار، مصنف اور شاعرہ بھی تھیں۔[13] جہاں آرا کی خدا ترسی، غربا کے تئیں خلوص و رحیمیت کافی مقبول تھی۔ مساجد کی تعمیر بھی کافی عقلمدن ثابط ہوئی.[14] جہاں آرا کافی علوم میں ماہرہ تھیں، انہوں نے خود ایک کشتی بنوائی جس کا نام “صاحبی“ تھا۔ جب اُس کشتی کے سفر کی بات آئی تو انہوں نے مکہ مکرمہ کا سفر 29 اکتوبر 1643 کو طئے کیا۔ اور یہ بھی حکم صادر کیا کہ 50 کونی (ایک کونی 4 من کے برابر) چاول مکہ شریف روانہ کیا جائے اور اس چاول کو غرباء اور ضرورت مندوں میں تقسیم کیا جائے۔"[15] شہر آگرہ میں ان کی پہچان اس بات سے بنی کہ انہیں کی کاوشوں سے آگرہ کی جامعہ مسجد کی تعمیر 1648 میں ہوئی، جو آج کل پرانے آگرہ شہر میں ہے۔ [16] انہوں نے شاہجہاناباد شہر کی بھی تعمیر کروائی، اور کی توسیع، عماراتی کام انجام دلوائے۔ جو آگے چل کر 1650 میں مکمل ہوئے۔ چاندنی چوک اور مرکزی بازار کی بھی انہوں نے ہی تعمیر کروائی۔

صوفی[ترمیم]

جہاں آرا، بھائی دارا شکوہ دونوں بھائی بہن ملا بدخشی کے مرید تھے، جنہوں نے دونوں کو صوری طریقہ قادریہ سے 1641آراستہ کروایا۔ ملا شاہ بدخشی جہاں آرا سے اتنا متاثر تھے کہ اپنے بعد اس سلسلے کی ذمہ داری جہاں آرا کو سونپنا چاہا مگر صوفی طریقہ اجازت نہ دینے کی وجہ سے چپ رہ گئے۔ [6]

جہاں آرا نے حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی سوانح لکھی جس کا نام “مونث الارواح“ تھا، اسی طرح اپنے پیر و مرشد ملا شاہ کی بھی سوانح لکھی جس کا نام “رسالہِ صاحِبیہ“ تھا.[17] جہاں آرا کی تصنیف معین الدین چشتی کی سوانح اس دور کا ایک بڑا ادبی کارنامہ مانا جاتا ہے، حضرت کے انتقال کے چار سو سال بعد اُن کی سوانح لکھنا ایک کمال تھا۔ جہاں آرا اجمیر شریف کی زیارت کے موقع پر خود کو “فقیرہ“ کہا اور خود کو ایک صوفی خاتون مانا۔ [18] جہاں آرا یہ کہا کرتی تھیں کہ وہ خود اور اپنے بھائی دارا شکوہ دونوں ہی تیموری خاندان کے وہ افراد ہیں جنہوں نے صوفی طریقہ اپنایا ہے۔ [19] اوررنگ زیب بھی صوفی طریقے کے پابند تھے۔ جہاں آرا، صوفی طریقوں کے پاسبان کی طرح کام کیا، اور بی الخصوص صوفی ادب کی ترتیبات میں کافی کام کیا۔ کلاسیکی ادب کے ترجمات، صوفی ادب کے ترجمات بھی کروائے۔[20]

ابلاغ میں[ترمیم]

  • جہاں آرا (1964) نام کی ایک ہندی فلم 1964 میں بنی، جس میں جہاں آرا کا کردار “مالا سنہا“ نے ادا کیا۔

حوالہ جات - ثقافتی ورثے میں[ترمیم]

حواشی[ترمیم]

  1. [1]
  2. Preston, page 176.
  3. Preston, page 175.
  4. ^ 4.0 4.1 Preston, page 235.
  5. http://www.thedelhiwalla.com/2011/07/14/the-biographical-dictionary-of-delhi-%E2%80%93-jahanara-begum-b-ajmer-1614-1681/
  6. ^ 6.0 6.1 Schimmel، Annemarie (1997)۔ My Soul Is a Woman: The Feminine in Islam۔ New York: Continuum۔ صفحہ۔50۔ 
  7. Review: A princess with taste
  8. Preston, page 266.
  9. Delhi Information: Tomb of Begum Jahanara
  10. Preston, page 285.
  11. Preston, page 286.
  12. ^ 12.0 12.1 Preston, page 232.
  13. Lasky، Kathryn (2002)۔ The Royal Diaries: Jahanara, Princess Of Princesses۔ Scholastic Inc.۔ صفحات۔147۔ 
  14. WISE: Muslim Women: Past and Present - Jahanara
  15. Moosvi، Shireen (2008)۔ People, Taxation, and Trade in Mughal India۔ Oxford University Press۔ صفحات۔264۔ 
  16. Agra: The Taj City - Jami Masjid Agra
  17. Rizvi، Saiyid Athar Abbas (1983)۔ A History of Sufism in India۔ 2۔ New Delhi: Mushiram Manoharlal۔ صفحہ۔481۔ 
  18. Helminski، Camille Adams (2003)۔ Women of Sufism: A Hidden Treasure۔ Boston: Shambhala۔ صفحہ۔129۔ 
  19. Hasrat، Bikrama Jit (1982)۔ Dārā Shikūh: Life and Works (second ed.)۔ New Delhi: Munshiram Manoharlal۔ صفحہ۔64۔ 
  20. Schimmel، Annemarie (1997)۔ My Soul Is a Woman: The Feminine in Islam۔ New York: Continuum۔ صفحہ۔51۔ 

ادب[ترمیم]