جہم بن صفوان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جہم بن صفوان
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 696  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سمرقند  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 745 (48–49 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مرو  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات سر قلم  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Umayyad Flag.svg سلطنت امویہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ الجعد بن درہم  ویکی ڈیٹا پر استاد (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ الٰہیات دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل علم کلام  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

جہم بن صفوان فرقہ جہمیہ کا بانی ہے۔ قدیم زمانے کے علمائے الہیات سے تعلق رکھتا تھا۔
ابو محرز کنیت جبکہ اسے الترمذی اور السمرقندی بھی کہا جاتا ہے یہ راسب جو قبیلہ ازد کی ایک شاخ ہے کا غلام تھا۔ یہ حارث بن سریج جسے صاحب الرایۃ السوداء(کالے جھنڈے والا)کا کاتب تھا۔
جہم بن صفوان فرقہ جبریہ میں سے تھا جو اصلا کوفی نسل میں سے تھا یہ خلافت بنو امیہ کے دور میں نہر جیحون کے کنارے واقع شہر ترمذ میں پیدا ہوا جو حقیقتا یہودی تھا، صحیح ابن خزیمہ نے ابن قدامہ کے طریق سے ابو معاذ بلخی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جہم بن صفوان نہایت فصیح وبلیغ تھا لیکن علم سے بے بہرہ جا ہل ہو نے کے ساتھ اہل علم کی مجلسوں سے قطعا نا آشنا تھا اور صرف معرفت قلب کو عین ایمان سمجھتا تھا ۔
ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ باری تعالیٰ کے بارے میں جہم بن صفوان نے تشبیہ کی نفی میں اتنی شدت برتی کہ وہ تعطیل وتمجید کی دلدل میں جا گھسا، خلافت بنو امیہ کے آخری دور میں تقریباً 128ھ میں مسلم بن احوز مازنی نے خراسان کے مشہور شہر مرو میں جہم بن صفوان کو قتل کر دیا، اس طرح امت کو ایک فتنے سے نجات ملی ،اس کی طرف منسوب فرقہ کو، فرقہ جہمیہ کہا جاتا ہے لیکن جہمی خود اپنے آپ کو صوفیا کے نام سے پکارتا تھا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد 7 -صفحہ 558، مؤلف : دانش گاہ پنجاب لاہور - ناشر : پنجاب یونیورسٹی لاہور پاکستان