جیلانی کامران

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
پروفیسر جیلانی کامران
پیدائش 24 اگست 1926 (1926-08-24)ء
پونچھ، ریاست جموں و کشمیر، برطانوی ہندوستان
وفات 22 فروری 2003(2003-20-22) (عمر  76 سال)
لاہور، پاکستان
قلمی نام جیلانی کامران
پیشہ شاعر، محقق، نقاد، معلم
زبان اردو، انگریزی
قومیت پاکستانپاکستانی
نسل مہاجر
تعلیم ایم اے (انگریزی)
مادر علمی ایڈنبرگ یونیورسٹی
صنف شاعری، تحقیق، تنقید
ادبی تحریک حلقہ ارباب ذوق
نمایاں کام استانزے
قومیت کی تشکیل اور اُردو زبان
چھوٹی بڑی نظمیں
تنقید کا نیا پس منظر
قائداعظم اور آزادی کی تحریک
اہم اعزازات تمغا امتیاز
صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی

پروفیسر جیلانی کامران (پیدائش: 24 اگست، 1926ء- وفات: 22 فروری، 2003ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر، محقق، نقاد اور انگریزی کے پروفیسر ایمریطس تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

پروفیسر جیلانی کامران 24 اگست، 1926ء کو پونچھ، ریاست جموں و کشمیر ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔[1][2][3]۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ایم اے اور 1957ء میں ایڈنبرگ یونیورسٹی سے ایم اے (آنرز) کی ڈگری حاصل کی۔[4]

ملازمت[ترمیم]

جیلانی کامران 1957ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے بطور انگریزی استاد وابستہ ہوئے۔ اسی کالج میں 1971ء سے 1973ء تک وائس پرنسپل مقرر ہوئے۔1973ء سے 1975ء تک گورنمنٹ کالج اصغر مال راولپنڈی میں پرنسپل کے عہدے پر فائض رہے۔ 1979ء سے 1989ء تک ایف سی کالج لاہور میں شعبۂ انگریزی کے صدر اور پھر 1999ء میں پروفیسر ایمریطس مقرر ہوئے۔[4]

ادبی خدمات[ترمیم]

جیلانی کامران کے شعری مجموعوں میں استانزے، نقش کف پا، چھوٹی بڑی نظمیں، اور نظمیں، دستاویز اور جیلانی کامران کی نظمیں اور نثری کتب میں تنقید کا نیا پس منظر، نئی نظم کے تقاضے، غالب کی تنقیدی شخصیت، نظریہ پاکستان کا ادبی و فکری مطالعہ، اقبال اور ہمارا عہد، لاہورکی گواہی، قائد اعظم اور آزادی کی تحریک، ہمارا ادبی و فکری سفر، امیر خسرو کا صوفیانہ مسلک اور ادب کے مخفی اشارے شامل ہیں۔[3]

تصانیف[ترمیم]

شعری مجموعے[ترمیم]

  • استانزے
  • نقش کف پا
  • چھوٹی بڑی نظمیں
  • اور نظمیں
  • دستاویز
  • جیلانی کامران کی نظمیں

نثری کتب[ترمیم]

  • تنقید کا نیا پس منظر
  • نئی نظم کے تقاضے
  • غالب کی تہذیبی شخصیت
  • نظریہ پاکستان کا ادبی و فکری مطالعہ
  • اقبال اور ہمارا عہد
  • لاہورکی گواہی
  • قائد اعظم اور آزادی کی تحریک
  • ہمارا ادبی و فکری سفر
  • ادب کے مخفی اشارے
  • امیر خسرو کا صوفیانہ مسلک
  • مغرب کے تنقیدی نظریے
  • انگریزی زبان و ادب کی تدریس میں قومی زبان کا کردار
  • قومیت کی تشکیل اور اُردو زبان
  • زندہ رہنما قائداعظم

اعزازات[ترمیم]

جیلانی کامران کی خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان نے 1986ء میں تمغا امتیاز اور 2002ء میں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی کا اعزاز عطا کیا۔[4]

وفات[ترمیم]

جیلانی کامران 22 فروری، 2003ء کو لاہور، پاکستان میں 77 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ وہ اقبال ٹاؤن لاہور میں نشتر بلاک کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔[1][2][3]

حوالہ جات[ترمیم]