جے منی
| جے مِنی | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| تاریخ پیدائش | تقریباً چوتھی سے دوسری صدی قبل مسیح[1] |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | فلسفی |
| درستی - ترمیم | |
| مضامین بسلسلہ |
| ہندو فلسفہ |
|---|
جے مِنی ہندوستان کے ایک قدیم دانش ور تھے جنھوں نے ہندو فلسفہ کے میمانسا مکتبِ فکر کی بنیاد رکھی۔ وہ پراشر کے بیٹے اور رشی ویاس کے شاگرد سمجھے جاتے ہیں۔ روایتی طور پر انھیں میمانسا سوتر[2][3] اور جیمنی سوتر کا مصنف تسلیم کیا جاتا ہے۔[4][5] ان کا عہدِ حیات تقریباً چوتھی سے دوسری صدی قبل مسیح کے درمیان بتایا کیا گیا ہے۔[4][1][6] بعض محققین نے 250 قبل مسیح سے 50 عیسوی کے درمیان ان کے عہد کا تعین کیا ہے۔[7] ان کا مکتبِ فکر خدا ناپرست سمجھا جاتا ہے،[8] لیکن یہ ویدوں کے ان حصوں پر زور دیتا ہے جو رسومات سے متعلق ہیں اور انھیں ' دھرم کے لیے ناگزیر قرار دیتا ہے۔[9] جیمنی قدیم ویدک رسومات کے مطالعے کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔
جیمنی کے گرو بادراین تھے،[3] جنھوں نے ہندو فلسفے کے مکتبِ فکر ویدانت کی بنیاد رکھی۔ انھیں برہم سوتر کی تصنیف کا سہرا بھی دیا جاتا ہے۔[10] بادراین اور جیمنی نے ایک دوسرے کے نظریات کا تجزیہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کے حوالے دیے ہیں۔ بادراین علم پر زور دیتے ہیں، جبکہ جیمنی رسومات کو اہمیت دیتے ہیں۔ وہ کبھی ایک دوسرے سے اتفاق کرتے ہیں، کبھی اختلاف اور اکثر ایک دوسرے کے تضادات کو پیش کرتے ہیں۔[10]
متنی تجزیے اور تفسیریات میں جے مِنی کی خدمات نے ہندوستانی فلسفے کے دیگر مکاتبِ فکر کو بھی متاثر کیا ہے۔ جے منی کی کتابوں کی سب سے مقبول بھاشیہ (جائزے اور تفاسیر) شبر، کمارل بھٹ اور پربھاکر جیسے دانش وران نے تحریر کی ہیں۔[11]
تصانیف
[ترمیم]جے منی کا مکتب فکر میمانسا ایک ایسے دور میں ابھرا جب روایتی ویدک عقائد اپنا اثر و نفوذ کھو رہے تھے۔ اب یہ بات طے شدہ نہیں سمجھی جاتی تھی کہ قربانیاں دیوتاؤں کو خوش کرتی ہیں، کائنات کو برقرار رکھتی ہیں یا وید خطاؤں سے پاک ہیں۔ بدھ مت، جین مت اور تشکیک پسند نقطہ ہائے نظر نے قربانیوں کی اہمیت پر سوال اٹھائے، جن معتقدین نے اپنے مذہبی اعمال جاری رکھے ہوئے تھے، ان کے ذہن و دماغ پر بھی شکوک و شبہات کا غلبہ تھا۔ رسومات کی جامع تفہیم کا مکمل تصور ہی معرض خطر میں آچکا تھا۔ ایسے دور ميں جے مِنی نے اپنی تصانیف میں ان تنقیدوں کا جواب دینے کی کوشش کی۔[12]
پورو میمانسا سوتر
[ترمیم]جے مِنی اپنی عظیم تصنیف پورو میمانسا سوتر کی وجہ سے زیادہ مشہور ہوئے۔ اس کتاب کو "کرم میمانسا" (رسوماتی عمل کا مطالعہ) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو ویدک صحائف میں موجود رسومات کی تحقیق کرتا ہے۔ اسی کتاب نے ہندوستانی فلسفے کے مکتبِ فکر "پورو میمانسا" (میمانسا) کی بنیاد رکھی، جسے ہندوستانی فلسفے کے چھ درشنوں یا مکاتبِ فکر میں شمار کیا جاتا ہے۔
تقریباً چوتھی صدی قبل مسیح میں لکھی جانے والی اس یہ کتاب تقریباً 3,000 سوتروں پر مشتمل ہے اور میمانسا مکتبِ فکر کا اساسی متن سمجھی جاتی ہے۔[2] اس کتاب کا مقصد رسوماتی مشق (کرم) اور مذہبی فریضہ (دھرم) کے حوالے سے ویدوں کی تشریح کرنا ہے، ساتھ ہی ابتدائی اپنشدوں پر بھی تبصرہ کیا گیا ہے۔ ویدانت فلسفے نے ذات (آتما) اور برہم کے علم اور مابعد الطبیعیات پر توجہ مرکوز رکھی جبکہ اس کے برعکس جے منی کی میمانسا نمایاں طور پر رسومات (کرم کانڈ) پر زور دیتی ہے۔[3][10] ان کے میمانسا سوتر کی بہت سے لوگوں نے شرحیں لکھیں، جن میں [شبر]] ابتدائی شارحین میں سے تھے۔[13][14]
جے منی بھارت
[ترمیم]جے منی نے مہا بھارت بھی لکھی تھی جو انھیں ان کے استاد ویاس نے سنایا تھا، لیکن آج ان کی اس کاوش کے صرف "اشو میدھیک پرو" اور "سہسرمُکھ چرتم" نامی اجزا دستیاب ہیں۔[15] ان کی تصنیف کردہ مہا بھارت کا نام "جے منی بھارت" ہے۔[16] اس کا انگریزی ترجمہ دو جلدوں میں "مے راون چرتم" کے ساتھ ریٹائرڈ برگیڈیئر جنرل شیکھر کمار سین اور ڈاکٹر پردیپ بھٹاچاریہ نے شائع کیا ہے، جو اس ترجمے کے مدیر بھی ہیں۔
جے منی کی مہا بھارت ویاس کی مہا بھارت سے مختلف ہے کیونکہ یہ یودھیشتر کے اشومیدھ اور دشمنوں کی اولادوں، جیسے کرن، جے درتھ اور شکونی کے بچوں کے درمیان امن کی بحالی پر زیادہ توجہ دیتی ہے۔ یہ کرشن کو وشنو کے اوتار کی حیثیت سے پوجنے پر بھی زور دیتی ہے۔ جے منی مہا بھارت کو "جے منی اشو میدھ" بھی کہا جاتا ہے۔[17]
جے منی کا ذکر مختلف کتابوں میں
[ترمیم]سام وید
[ترمیم]جب رشی ویاس نے قدیم ویدک بھجنوں کو قربانی کی رسومات میں ان کے استعمال کی بنیاد پر چار حصوں میں تقسیم کیا اور انھیں اپنے چار اہم شاگردوں پائل، ویشمپیان، جے مِنی اور سومنتو کو سکھایا تو سام وید رشی جے مِنی کو دی گئی۔[18]
انھوں نے وید کو چار حصوں میں تقسیم کیا رِگ، یجُر، سام اور اَتھرو۔ تاریخوں اور پرانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پانچواں وید ہیں۔
— برہمانڈ پران 1.4.21
مارکنڈیہ پران
[ترمیم]بڑے پرانوں میں سے ایک مارکنڈیہ پران رشی جے مِنی اور مارکنڈیہ کے درمیان ایک مکالمے سے شروع ہوتا ہے اور اس میں فلسفہ، الٰہیات، کونیات، تولد کائنات، دھرم اور کرم پر بحث کی گئی ہے۔[19]
برہمانڈ پران
[ترمیم]برہمانڈ پران کے پہلے باب میں ذکر کیا گیا ہے کہ برہمانڈ پران ایک ایسی کہانی ہے جسے جے مِنی نیمیشارنیہ کے جنگل میں راجا ہرنئے نابھ کو سنا رہے ہیں۔[20]
مہا بھارت
[ترمیم]جے مِنی مہا بھارت کے کئی حصوں میں بھی نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر آدی پرو کے باب 53، بند 6 میں کہا گیا ہے کہ جے مِنی، جنمے جے کے سرپ ستر کے دوران موجود تھے، یہ وہ یگیہ (قربانی کی رسم) تھی جو اس نے اپنے والد پریکشت کی موت کا بدلہ لینے کی غرض سے تمام سانپوں کو مارنے کے لیے انجام دی تھی۔ مزید برآں سبھا پرو کے باب 4 کے بند 11 میں کہا گیا ہے کہ جے مِنی یودھیشتر کی مجلس کا حصہ تھے۔ شانتی پرو کے باب 46، بند 7 کے مطابق انھوں نے جنگ کے دوران میں تیروں کی سیج پر لیٹے ہوئے بھیشم سے ملاقات بھی کی تھی۔[20]
جے مِنی کو مہا بھارت سے جوڑنے والی ایک کہانی یہ ہے کہ اپنے استاد ویاس (مہا بھارت کے مصنف) سے مہا بھارت کی روایت سننے کے بعد جے مِنی الجھن کا شکار ہو گئے تھے۔ چونکہ ویاس ان کی الجھنیں دور کرنے کے لیے موجود نہیں تھے، اس لیے وہ مارکنڈیہ کے پاس گئے۔ تاہم جب تک وہ ان کے پاس پہنچے، مارکنڈیہ نے کلام کرنا ترک کر دیا تھا۔ مارکنڈیہ کے شاگردوں نے جے مِنی کی رہنمائی ان چار پرندوں کی طرف کی جنھوں نے مہا بھارت کی اٹھارہ روزہ عظیم جنگ کا مشاہدہ کیا تھا۔ ان چار پرندوں کی ماں عظیم جنگ کے میدانِ کارزار کے اوپر اڑ رہی تھی جب اسے ایک تیر لگا جس نے اس کا پیٹ چاک کر دیا۔ چار انڈے گرے اور بحفاظت کروکشیتر کی زمین پر اترے، جو خون سے شرابور ہونے کی وجہ سے نرم ہو چکی تھی۔ ایک ہاتھی کا گھنٹا ان چار پرندوں پر گرا اور انھیں بحفاظت ڈھانپ لیا، جس سے انڈے باقی ماندہ جنگ کے دوران محفوظ رہے۔ جنگ کے بعد انھیں رشیوں نے دیکھا اور محسوس کیا کہ ان چار پرندوں نے جنگ کے دوران میں بہت کچھ سنا ہے اور ان کے پاس ایسا علم ہے جو کسی دوسرے انسان کے پاس نہیں ہے، لہذا انھوں نے ان پرندوں کو قوت گویائی بخشی۔ جے مِنی ان چار پرندوں کے پاس گئے اور اپنی تمام تر الجھنیں اور شکوک دور کرنے میں کامیاب رہے۔[17]
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ^ ا ب James Lochtefeld (2002), The Illustrated Encyclopedia of Hinduism, Vol. 1, Rosen Publishing, ISBN 978-0823931798, pages 310, 438, 537-538
- ^ ا ب James Lochtefeld (2002), The Illustrated Encyclopedia of Hinduism, Vol. 1 & 2, Rosen Publishing, ISBN 978-0823931798, pages 438, 437-438, 746
- ^ ا ب پ Sarvepalli Radhakrishna (1960ء)۔ Brahma Sutra, The Philosophy of Spiritual Life۔ ص 22 with footnote 3 and 4
- ^ ا ب "Jaimini Sutras"۔ 2013-02-07 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-06-21
- ↑ P.S.Sastri (2006)۔ Maharishi Jaimini's Jaimini Sutram (complete) (2006 ایڈیشن)۔ Ranjan Publications۔ ISBN:9788188230181
- ↑ Klaus K. Klostermaier (1 Jan 1994). A Survey of Hinduism: Second Edition (بزبان انگریزی). SUNY Press. ISBN:978-0-7914-2109-3.
- ↑ Peter Adamson; Jonardon Ganeri (26 Mar 2020). Classical Indian Philosophy: A History of Philosophy Without Any Gaps, Volume 5 (بزبان انگریزی). Oxford University Press. ISBN:978-0-19-885176-9.
- ↑ FX Clooney (1997), What’s a god? The quest for the right understanding of devatā in Brāhmaṅical ritual theory (Mīmāṃsā), International Journal of Hindu Studies, August 1997, Volume 1, Issue 2, pages 337-385
- ↑ P. Bilimoria (2001), Hindu doubts about God: Towards Mimamsa Deconstruction, in Philosophy of Religion: Indian Philosophy (Editor: Roy Perrett), Volume 4, Routledge, ISBN 978-0-8153-3611-2, pages 87-106
- ^ ا ب پ Paul Deussen, The System of the Vedanta: According to Badarayana's Brahma-Sutras and Shankara's Commentary thereon, Translator: Charles Johnston, ISBN 978-1519117786, page 20
- ↑ James Lochtefeld (2002), The Illustrated Encyclopedia of Hinduism, Vol. 1 & 2, Rosen Publishing, ISBN 978-0823931798, pages 438, 616
- ↑ Francis X. Clooney (1987ء)۔ "Why the Veda Has No Author: Language as Ritual in Early Mīmāṃsā and Post-Modern Theology"۔ Journal of the American Academy of Religion۔ ج 55 شمارہ 4: 659–684۔ DOI:10.1093/jaarel/LV.4.659۔ ISSN:0002-7189۔ JSTOR:1464680
- ↑ جیمنی کے پوروا میمانسا سوتر آرکائیو شدہ 2007-06-09 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ James Lochtefeld (2002), The Illustrated Encyclopedia of Hinduism, Vol. 1 & 2, Rosen Publishing, ISBN 978-0823931798, page 616
- ↑ "The Jaimini Bharata: A Celebrated Canarese Poem, with Translations and Notes"۔ Printed at the Wesleyanmission press۔ 1852ء
- ↑ "Jaimini"۔ hinduonline.co۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-01-26
- ^ ا ب Devdutt Pattanaik (16 Aug 2010). Jaya: An Illustrated Retelling of the Mahabharata (بزبان انگریزی). Penguin UK. ISBN:978-81-8475-169-7.
- ↑ Shripad Bhat (2019ء). Introduction To Purvamimamsa System By Shripad Bhat In English (بزبان انگریزی). TTD.
- ↑ Saagar Sharma (1 May 2024). SAAT CHIRANJEEVI The Eternal Guardians of Hinduism (بزبان انگریزی). Abhishek Publications. ISBN:978-93-5652-581-8.
- ^ ا ب Vettam Mani (1975ء)۔ Puranic encyclopaedia : a comprehensive dictionary with special reference to the epic and Puranic literature۔ Robarts - University of Toronto۔ Delhi : Motilal Banarsidass۔ ISBN:978-0-8426-0822-0
