حاجی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حج 2010ء

حاجی (عربی: الحجّي؛ فارسی: حاجیانگریزی: Hajji, Hadji, Haji) ایک اعزازی لقب ہے جو ایک ایسے مسلمان کو دیا جاتا ہے جس نے ذوالحجہ کے مہینے میں مکہ مکرمہ میں مناسک حج ادا کیے ہوں۔ [1] یہ اکثر کسی بزرگ کی طرف اشارہ کرنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے، چونکہ اس سفر کے لیے مالی وسائل جمع کرنے میں سالوں لگ سکتے ہیں (تاہم موجودہ دور میں یہ سفر نسبتا آسان ہو گیا ہے)، اس کے علاوہ بہت سے مسلم معاشروں میں ایک معزز شخص کے لئے ایک اعزاز والا لقب ہے۔

حاجی یروشلم میں مسیح کی قبر پر زیارت کے لئے جانے والے لوگوں کے لئے آرتھوڈوکس مسیحیت میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اسے نام میں سابقے کے طور پر اسستعال کیا جاتا ہے مثلا: حاجی پرودان (Hadži-Prodanحاجی دیرا (Hadži-Đeraحاجی رووم (Hadži-Ruvim)

حاجی یا حجی عربی زبان کے لفظ حج سے ماخوذ ہے۔ کچھ علاقوں میں یہ لقب خاندانی نام بن گیا ہے، مثال کے طور پر بوسنیائی مسلم خاندانی نام حاجی عثمانوچ (Hadžiosmanović) ("حاجی عثمان کا بیٹا")۔

استعمال[ترمیم]

عرب اور کئی مسلم ممالک اور میں حاجی یا حجی (تلفظ عربی بولی جانے والی شکل کے مطابق مختلف ہوتا ہے) کسی بوڑھے شخص کو احترام سے مخاطب کرنے کا عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے، اس بات سے قطع نظر کہ مخاطب شخص نے حج کیا ہے یا نہیں۔

مالے زبان بولنے والے ممالک میں حاجی اور حجہ بالترتیب مسلمان مرد اور خواتین کو دیئے گئے اعزاز ہیں جنہوں نے مکہ میں مناسک حج ادا کیے ہوں۔

یہ اصطلاح بلقان کے مسیحی ممالک میں بھی استعمال ہوتی ہے جو کبھی عثمانی حکمرانی کے تحت تھے (بلغاریہ، سربیا، یونان، مونٹینیگرو، شمالی مقدونیہ اور رومانیہ) اسے ایک ایسے مسیحی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جس نت یروشلم اورارض مقدسہ کا سفر کیا ہو۔ [2]

قبرص میں یہ لقب اس قدر عام ہوگیا کہ مستقل طور پر کچھ یونانی مسیحی خاندان کے ناموں میں ضم ہو چکا ہے، مثلاً حاجی ایواناو (Hajiioannou) وغیرہ۔ اس کی وجہ قبرص کے ارض مقدسہ اور یروشلم سے قربت اور اس کے علاوہ قبرص ایک ایسی جگہ ہے جہاں مسیحی اور مسلمان بہت سی صدیوں سے آزادانہ طور پر ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔

ایران میں اعزازی لقب حاج بعض اوقات آئی آر جی سی کمانڈروں کے لئے سردار ("جنرل") کی بجائے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ لقب یہودی برادریوں میں بھی ان لوگوں کے اعزاز کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جنہوں نے یروشلم یا اسرائیل کے دوسرے مقدس مقامات کی زیارت کی ہو۔

اکیسویں صدی میں امریکی فوجیوں نے حاجی کی اصطلاح عراقیوں، افغانیوں یا عام طور پر عرب لوگوں کو مخاطب کرنے کے لیے استعمال کرنا شروع کیا۔ [3][4][5][6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Malise Ruthven (1997). Islam: A very short introduction. اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس. صفحہ 147. ISBN 978-0-19-285389-9. 
  2. "Jerusalem and Ancient Temples (in Greek)". apologitis.com. اخذ شدہ بتاریخ 4 مئی، 2010. 
  3. "Archived copy". 16 فروری 2011 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 16 اپریل 2011. 
  4. "Learning to 'embrace the suck' in Iraq" - https://www.latimes.com/archives/la-xpm-2007-jan-28-op-bay28-story.html
  5. Slang from Operation Iraqi Freedom http://www.globalsecurity.org/military/ops/iraq-slang.htm
  6. Herbert، Bob (May 2, 2005). "From 'Gook' to 'Raghead'". The New York Times.