حاجی محمد بفوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

حاجی محمد بفوی ایک جلیل القدر عارف کامل اور شیخ طریقت تھے۔

سلسلہ نسب[ترمیم]

حاجی محمد بفوی امام ربانی مجدد الف ثانی تک سلسلہ نسب کی تفصیل یوں ہے امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی خواجہ محمد معصوم خواجہ سیف الدین خواجہ محمداعظم خواجہ کریم احمد خواجہ مقبول احمد خواجہ نصیر احمد حاجی محمد بفوی یہ شجر نسب کتاب ہدیہ احمد مؤلف شیخ احمد مکی سے ماخوذ ہے جو سترہ سو پچپن 1307ھ میں مرتب ہوئی 1312ھ میں خواجہ محمد معصوم نے اس پر نظرثانی کی،

حصول علم و شرف بیعت[ترمیم]

حاجی محمد بفوی نے پہلے دینی علوم کے حصول کی تکمیل فرمائی اس کے بعد شاہ محمد عمر مجددی کے ہاتھ پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں بیعت کی فقہ حنفی کی معروف کتاب جامع الرموز کے آخری ورق کی پشت پر اپنی یاداشت یوں تحریر فرمائی ہے 1288ھ میںبخارا سے اپنے وطن علاقہ پکھلی ہزارہ میں آیا اسی سال مکہ معظمہ گیا پھر 1289ھ کو وہاں سے واپس بخارا آیا اس کے بعد 1290ھ میں پکھلی میں آیا آپ کا وطن بخارا کو جانے کا حصول علم معلوم ہوتا ہے

افغانستان اور مردان ہجرت[ترمیم]

حاجی ممد بفوی کے آباؤ اجداد کو سکھوں کے حملوں کی وجہ سے سرہند شریف سے ہجرت کرنا پڑی بہت سے مجددی بزرگوں کی طرح افغانستان کا رخ کرنا پڑا ایک جدامجد نے افغانستان سے نقل مکانی کرکے مردان میں سکونت اختیار فرمائی ای لاقف بھر کے متعدد لوگوں نے اپنی زمینیں آپ کی خدمت میں بطور نذر پیش کی یہ خاندان مردان کے علاقے کا بڑا زمیندار خاندان بن گیا لوگ ادب و احترام کی بدولت اس خاندان کی زمینوں میں پیشاب اور پاخانہ کرنے سے بھی اجتناب کرتے تھے

بفہ شریف آمد[ترمیم]

بعد میں یہ خاندان مردان سے بفہ شریف منتقل ہوگیا اس نقل مکانی کی وجہ بھی روحانی اور دینی اقدار کا جذبہ صادق تھا مردان سے آپ کے بزرگ اس وقت بفہ شریف منتقل ہوئے جب یہ علاقہ محمد اسماعیل دہلوی اور سید احمد بریلوی کے لشکر کی آماجگاہ تھا مقامی باشندوں نے ان کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور ان کے بہت سے لشکریوں اور ان کے حامی افراد جن میں علماء و قضاۃ بھی شامل تھے کو موت کے گھاٹ اتار دیا مردان کی اراضی خاندان کی تحویل میں کچھ عرصہ پہلے تک تھی حاجی محمد بفوی کے پوتے صاحبزادہ علی احمد نے پنجاب زمین خریدنے کا پروگرام بنایا تو اس زمین کو فروخت کر دیا

حاجی محمد بفوی کے وصال کے وقت آپ کے بیٹے دو بیٹے کمسن تھے والد ماجد کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے بعد وہ ننہال خاندان کے زیر اثر آگئے جس کی وجہ سے وہ اپنے آبائی ورثہ سے اپنا حصہ نہ پا سکے

شاہ اسماعیل اور حاجی محمد بفوی[ترمیم]

حاجی محمد بفوی صاحب کو شاہ اسماعیل سے کوئی نسبت نہ تھی ان دونوں کے خیالات اور نظریات میں بعدالمشرقین تھا حاجی صاحب صحیح عقیدہ مستند عالم دین اور مسلم روحانی پیشوا تھے ان کا مقصد لوگوں کی روحانی تربیت اور اصلاح تھا نہ کہ اقتدار اور ملک گیری آپ کے نزدیک دین کی راہ اعتقاد اور یقین کی راہ تھی اس کے حصول کے لئے دعوت و موعظت اور تلقین و ہدایت جیسے ذرائع بروئے کار لائے جاتے ہیں ظلم تعدی اور جبرواکراہ اس راستے کی بڑی رکاوٹ ہے آپ نہ کبھی ان کے لشکر کے سپاہی رہے اور نہ ہی کبھی ان کی تحریک کے حامی بنے

سفر حرمین[ترمیم]

1288ھ کو حرمین شریف جانا دو مقاصد کے پیش نظر تھا حج و زیارت خلافت مجددیہ کا حصول

مرشد سےنسبی و باطنی تعلق[ترمیم]

آپ اور آپ کے مرشد نسب اور طریقت دونوں اعتبار سے مجددی ہیں مجدد الف ثانی کے پوتے شاہ سیف الدین کی اولاد سے ہیں خواجہ سیف الدین کے آٹھ صاحبزادے تھے ان میں خواجہ محمد اعظم اور خواجہ محمد عیسی بھی تھے شاہ محمد عمر خواجہ محمد عیسی کے اولاد سے تھے جبکہ حاجی محمد بفوی خواجہ محمد اعظم کی اولاد سے تھے خواجہ محمد عیسی نے روحانی کمالات اپنے برادر اکبر خواجہ محمد اعظم سے حاصل کیے تھے جو اپنے والد ماجد خواجہ سیف الدین کے جانشین اور آپ کے مکاتیب شریفہ کے جامع ہیں ان کی تعداد 190 ہے

شیخ کی نظر میں[ترمیم]

حاجی محمد بفوی کے مرشد شاہ محمد عمر ان پر بے حد مہربان تھے ان کا ذکر خیر عمدہ القابات سے فرمایا کرتے تھے آپ کو وافر نیک دعاؤں سے یاد فرمایا کرتے تھے آپ کے دستیاب خطوط مبارک میں مرید صادق حاجی محمد بفوی کے بارے میں ان کے الفاظ کی شوکت اور دعاؤں میں جذبات کی فراوانی کچھ اس طرح ہے قرہ باہرہ، نیک نامی، جگر بند ،غرہ ناصیہ ، شاد کامی ، نور چشمی ،فرزند ارجمند عظامی حاجی محمد زید عمرہ 1288ھ کو عازم حرمین شریف ہوئے وہاں مکہ مکرمہ میں شاہ محمد عمر سے بیعت ہوئے سال بھر میں سلوک مجددی طے فرمایا اگلے سال 1289ھ میں وہاں سے واپس ہوئے اور 1290ھ میں اپنے علاقہ پکھلی پہنچے اس زمانہ میں آجکل کی سفری سہولتیں میسر نہ تھی انگریزوں نے تسلط جمایا ہوا تھا ڈاک کا انتظام بھی مربوط نہ تھا بارہ سال تک حاجی محمد بفوی کا حرمین شریف مرشد رابطہ نہ ہو سکا 1297ھ میں آپ کے مرشد کامل شاہ محمد عمر عازم ہندوستان ہوئے ایک سال بعد 1298 میں رامپور میں انتقال ہوا کسی طرح یہ خبر بفہ شریف حاجی محمد بفوی تک پہنچی آپ نے تعزیت کے لئے اپنے خادم جناب مستقیم کو دہلی بھیجا جس پرحضرت شاہ ابوالخیر نے جوابی خط لکھا

اتباعِ شریعت[ترمیم]

حاجی محمد بفوی خود شریعت مطہرہ پر سختی سے پابند تھے اپنے حلقہ اثر کو بھی تلقین شریعت کرتے بچوں کو وصیت میں فرمایا مہمانوں کے لئے حجرہ (دیوان خانہ یا بیٹھک ) تعمیر نہ کرنا مہمانوں کو گھر کی بجائے مسجد میں ٹھہرانا اور خود بھی ان کے ہمراہ مسجد میں بیٹھیں تاکہ اذان ہونے پر کسی مہمان کو نماز سے فرار کی گنجائش نہ رہے اور سب نماز با جماعت ادا کریں ہمارا خیال ہے کم از کم نماز تو قائم رہے خود اپنے مہمانوں کے ٹھہرانے کے لیے حجرہ اپنی تعمیر کردہ مسجد کے ساتھ بنوایا جس کا دروازہ مسجد میں کھلتا تھا اگرچہ گلی میں اسکا دروازہ رکھا جاسکتا تھا جب وضو فرماتے تھے تو آستینوں کی اوپر کا کچھ حصہ اوپر چڑھاتے تاکہ کہنیوں سے کچھ حصہ اوپر بھی دل جائے جو اسباغ الوضوء میں شامل ہے

خلفاء[ترمیم]

خلفاء و مریدین اور عقیدتمندوں کے نام آپ کے خطوط سے جمع کیے گئے ان کی تفصیل حسب ذیل ہے

  • سید نیک عالم شاہ میرپوری
  • ایوب شاہ
  • مرزا رحمت اللہ خان
  • خواجہ عبیداللہ اویسی
  • خلیفہ عبدالرحمن
  • عبد الرشید
  • میاں محمد
  • عبدالرحمن اخونزادہ
  • حاجی محمد حسن سرہندی
  • غلام محمد بنوری
  • حمیداللہ
  • محمد بخش
  • شاہ داد
  • علی اللہ اخونزادہ
  • فخرالدین
  • اکبر علی
  • شیخ حکیم امیراللہ
  • غلام حیدر
  • عبدالحق
  • غلام رسول
  • عبدالرشید
  • حاجی سلطان محمد
  • طوطی جان
  • میاں مستقیم

شعری ذوق[ترمیم]

آپ کا تحریری اثاثہ آپ کے قیمتی کتب خانے کے بکھر جانے کے باعث دستیاب نہیں دو کتابوں پر آپ نے اپنے قلم سے چند فارسی اور پشتو اشعار قلمبند فرمائے جن سے آپ کے شعری ذوق اور اخلاق عالیہ کا پتہ چلتا ہے قطب العارفین سید محمد نیک عالم نے آپ کی منقبت میں اشعار جواب کمالات سیرت اور رفعت درجات کی عکاسی کرتے ہیں

حضرت حاجی مرشد میرا خاص حبیب الہی نفس شریر کمینے والی کیتی جس تباہی
صورت سیرت ظاہر باطن جس دا سب نورانی صورت سیرت ظاہر باطن جس دا سب نورانی
علم حلم عرفان جنہاں دا اعلیٰ افضل عالی جس نوں خاص عنایت ہوئی صفت نبیاں والی
ولیاں دی سرداری اس نوں منصب جسدا عالی پکھلی دا اوہ قطب مکرم شہر بفے دا والی
صدق ارادت لے کے جیہڑا کول انہاں دے آیا مقصد دل دا باہجھ ریاضت اوس جنابوں پایا
میں بھی اس دا دامن پھڑیا صدقوں پاک الہی دس حقیقت چیزاں والی ہوبہو کماہی

وفات[ترمیم]

حاجی محمد بفوی نے 4 رمضان المبارک 1315ھ مطابق 27 جنوری 1898ء کو جان جان آفرین کے سپرد فرمائی[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. آفتاب مشائخ ، مفتی محمد علیم الدین نقشبندی مجددی۔صفحہ 202تا 233 خانقاہ سلطانیہ گلشن عظیم جہلم