حافظ محمود خان شیرانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حافظ محمود شیرانی
پیدائش محمد میکائیل
5 اکتوبر 1880ء
وفات 16 فروری 1946ء (65 سال)

ٹونک، بھارت،ریاست ٹونک،
موجودہ ضلع ٹونک، راجستھان، بھارت
پیشہ نقاد، محقق، مورخ
نمایاں کام مقالات حافظ محمود شیرانی

حافظ محمود خان شیرانی (پیدائش: 5 اکتوبر 1880ء– وفات: 14 فروری 1947ء) اردو زبان کے مایہ ناز محقق اور شاعر (اگرچہ ان کی شاعری نہایت کم ہے اور اس میدان میں انہوں نے کم ہی رغبت دکھائی) تھے۔ وہ معروف رومانوی شاعر اختر شیرانی کے والد تھے۔ انہیں پنجاب میں اردو کے نام سے لکھی گئی کتاب کے سبب بے حد شہرت حاصل ہوئی۔ ان کے اسی کام کو دیکھ کر اردو کی تاریخ کے حوالے گجرات میں اردو بنگال میں اردو وغیرہ سامنے آئے۔ انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور اور اورینٹل کالج لاہور میں اردو کی تدریس کی۔ ان کے وفات کے بعد شائع ہونے والے مقالے مقالاتِ حافظ محمود شیرانی میں ان کے فرزند لکھتے ہیں کہ بعض اوقات علامہ اقبال بھی ان سے بعض اصلاحات کے متعلق دریافت کیا کرتے تھے نیز اورینٹل کالج سے جب انہیں نکال جا رہا تھا تو علامہ اقبال نے ان کی قابلیت کو دیکھ کر ان کی مدت ملازمت میں توسیع کی گزارش کی جسے بعد میں منظور کیا گیا۔ اردو ادب کے علاوہ وہ قدیم چیزوں کو جمع کرنے کا بھی شوق رکھتے تھے۔ انکی وفات ٹونک میں ہی ہوئی ان کے خاندان والے تقسیم ہند کے بعد پاکستان چلے آئے۔

تصانیف و تالیف[ترمیم]

  • تنقید شعرالحجم، دہلی،انجمن ترقی اردو ہند،1942ء
  • خالق باری ،دہلی،انجمن ترقی اُردو (ہند)،1944ء
  • پرتھی راج رسا ،دہلی،انجمن ترقی اُردو (ہند)،1943ء
  • قرآن پاک کی ایک قدیم تفسیر، دہلی،دیوان پریس،1932ء، (تفاسیرِ قرآن) فارسی میں تفسیر ہے،صرف دیباچہ اُردو میں لکھا گیا ہے
  • پنجاب میں اُردو حصہ اول لکھنؤ،مکتبہ کلیان بشیریت گنج، لکھنؤ، اُترپردیش اُردو اکادمی،بار اول 1980ء، بار دوم 1990ء ،اسلام آباد،مقتدرہ قومی زبان،1988ء

حوالہ جات[ترمیم]

  • واحد الزّمان؛ «حافظ محمود شيراني: شاهنامہ شناس بزرگ ِهند»، سہ ماہی «نقد و تحقیق»، شاپا: 2563-2454، مدیر و سردبیر: سید نقی عباس (کیفی)، جلد 1، شماره 1، صص 102-95، دهلی نو، 2015م۔ (فارسی)