حامد حسن قادری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حامد حسن قادری
پیدائش 25 مارچ 1887(1887-03-25)ء

بچھرایوں، مراد آباد ضلع، برطانوی ہندوستان
وفات 6 جون 1964(1964-06-06)ء

کراچی، پاکستان
آخری آرام گاہ
پاپوش نگر قبرستان، کراچی
قلمی نام حامد حسن قادری
پیشہ نقاد، مورخ، محقق، شاعر، معلم
زبان اردو
نسل مہاجر
شہریت Flag of پاکستانپاکستانی
اصناف تنقید، تحقیق، شاعری، تاریخ
نمایاں کام ادبی مقالات
داستانِ تاریخ ِ اردو
میزان التواریخ
تاریخ مرثیہ گوئی

پروفیسر حامد حسن قادری (پیدائش: 25 مارچ، 1887ء - وفات: 6 جون، 1964ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے معروف مورخ، نقاد، تاریخ گو شاعر، مترجم، محقق اور معلم تھے جو اپنی تصنیف داستانِ تاریخ ِ اردو کی وجہ سے دنیائے اردو میں شہرت رکھتے ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

حامد حسن قادری 25 مارچ، 1887ء کو بچھرایوں، مراد آباد ضلع، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے[1][2]۔ریاست رامپور میں واقع مدرسہ عالیہ سے علومِ شرقیہ السنہ یعنی اردو، فارسی اور عربی کے علوم میں دسترس حاصل کی۔ بعد ازاں اسٹیٹ ہائی اسکول رامپور سے میٹرک پاس کیا۔ جامعہ پنجاب سے منشی فاضل اور اردو فاضل کے امتحانات پاس کرنے کے بعد ایف اے کیا۔ بڑودہ کالج اور اسلامیہ کالج اٹاوہ میں تدریس کی خدمات انجام دیں۔ 1917ء میں بڑودہ سے ملازمت کو خیرباد کہہ کر حلیم مسلم کالج جیسے اہم ادارے میں تدریس کے بعد سینٹ جونز کالج، آگرہ میں پروفیسر مقرر ہوئے جہاں 25 سال تک اردو اور فارسی کی تدریسی خدمات انجام دیں۔ 1952ء میں 65 سال کی عمر میں وہ صدر شعبہ اردو و فارسی ریٹائر ہوئے۔ 1955ء میں وہ پاکستان منتقل ہو گئے اور کراچی میں مستقل سکونت اختیار کی۔[3]

ادبی خدمات[ترمیم]

حامد حسن قادری بیک وقت شاعر، مورخ، نقاد، مترجم اور محقق تھے۔ ان کی تصانیف کی تصانیف کی تعداد 40 کے لگ بھگ ہے۔ تاہم ان میں سب سے زیادہ شہرت 'داستانِ تاریخ ِ اردو' کو ملی[1]۔ ان دیگر تصانیف میں ' مثنوی نمونۂ عبرت'، 'تاریخ و تنقید ادبیات اُردو '، 'غالب کی اُردو نثر اور دوسرے مضامین'، 'جامع التواریخ'، 'تاریخ مرثیہ گوئی'،'ادبی مقالات'، 'نقد و نظر'، 'انتخاب دیوان مومن'، 'سفینۂ تواریخ'، 'مضامینِ کائنات'، 'دفترِ تواریخ' اور 'سفینۂ نثر و نظم'سرِ فہرست ہیں۔

تصانیف[ترمیم]

  • ادبی مقالات
  • مثنوی نمونۂ عبرت
  • میزان التواریخ
  • تاریخ مرثیہ گوئی
  • جامع التواریخ
  • سفینۂ تواریخ
  • دفترِ تواریخ
  • آثارالتواریخ
  • غالب کی اُردو نثر اور دوسرے مضامین
  • داستانِ تاریخ ِ اردو
  • انتخاب دیوان مومن
  • تاریخ و تنقید ادبیات اُردو
  • نقد و نظر
  • تمثیل یوسف و زلیخا (ترجمہ)
  • مضامینِ کائنات
  • الکوحل اور زندگی
  • صید و صیاد
  • تاریخ و تنقید
  • سفینۂ نثر و نظم
  • تربیتِ اطفال (ترجمہ)
  • رباعیات شیخ ابو سعید ابو الخیر (ترجمہ)

حامد حسن قادری کے فن و شخصیت پر کتب ومقالہ جات[ترمیم]

  • مولانا حامد حسن قادری سوانح حیات اور ادبی خدمات (پی ایچ ڈی مقالہ)، سید نور محمد سرور، جامعہ سندھ،1978ء

وفات[ترمیم]

حامد حسن قادری 6 جون، 1964ء کو کراچی، پاکستان میں انتقال کر گئے اور کراچی کے پاپوش نگر ناظم آباد کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔[1][3][4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ عقیل عباس جعفری: پاکستان کرونیکل، ص 230، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء
  2. سید نور محمد سرور: مولانا حامد حسن قادری سوانح حیات اور ادبی خدمات (پی ایچ ڈی مقالہ)، ص 7، جامعہ سندھ، 1978ء
  3. ^ ا ب پروفیسر ڈاکٹر ناصر الدین صدیقی قادری: بزرگان کراچی، ص 17، مرکز فیض قادریہ احمدیہ رشیدیہ، کراچی، 2004ء
  4. حامد حسن قادری، سوانح وتصانیف ویب ، پاکستان