حامد رضا گیلانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حامد رضا گیلانی
تفصیل=

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 17 اگست 1936  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 24 جنوری 2004 (68 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت پاکستان پیپلز پارٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ اوکسفرڈ
ایچی سن کالج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سفیر،سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

پاکستان کے ممتاز سیاست دان۔ ملتان میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے لاہور کے ایچی سن کالج سے تعلیم حاصل کی۔ ان کی سیاست روایتی جاگیر دارانہ سیاست رہی اور پنجاب کے بڑے سیاسی گھرانوں سے ان کے ذاتی مراسم رہے۔ حامد رضا گیلانی انیس سو باسٹھ میں پہلی بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور پارلیمانی سیکرٹری بنے۔ انیس سو پینسٹھ میں وہ کنوینشن مسلم لیگ کے ٹکٹ پر دوبارہ رکن قومی اسمبلی بنے اور صدر ایوب خان نے انھیں دوبارہ پارلیمانی سیکرٹری بنایا۔

حامد رضا کو اس وقت انھیں ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی دوستوں میں سمجھا جاتا تھا۔ انھوں نے غلام مصطفے کھر کو ذوالفقار علی بھٹو سے متعارف کرایا جو بعد میں پنجاب کے ایک اہم رہنما بن کر ابھرے۔

جب ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان سے الگ ہوئے تو حامد رضا گیلانی کنوینشن مسلم لیگ میں ہی شامل رہے تاکہ ملتان میں ان کا حریف قریشی گروپ حکومت سے مل کر ان کی پوزیشن کو کمزورنہ کرسکے۔ تاہم ایوب خان کے آخری دنوں میں وہ ملک سے باہر چلے گئے تھے کیونکہ ان کے بارے میں خیال تھا کہ وہ خفیہ طو پر بھٹو کے ساتھ ہیں۔

گیلانی خاندان کے سربراہ اور اپنے بڑے بھائی سید علمدار گیلانی، جن کے بیٹے یوسف رضا گیلانی پیپلز پارٹی کے نائب صدر ہیں، کی مخالفت کی وجہ سے حامد رضا گیلانی پیپلز پارٹی میں شامل نہیں ہوئے۔ انیس سو ستر کے انتخاب میں انھیں مسلم لیگ (قیوم گروپ) کے ٹکٹ پر شکست ہوئی۔

جب ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالا تو حامد رضا گیلانی کچھ عرصہ پس منظر میں رہنے کے بعد انہیں کینیا میں پاکستان کا سفیر مقرر کر دیا گیا جہاں وہ انیس سو چھہتر تک رہے۔ قومی اسمبلی کے لیے انیس سو ستتر کا انتخاب انھوں نے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر جیتا اور چند ماہ وفاقی وزیر رہے۔

انیس سو پچاسی کے غیر جماعتی انتخاب میں بھی وہ کامیاب ہوئے لیکن بعد میں انیس سو اسی کے انتخابات میں کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ تاہم انیس سو نوے میں انھیں مسلم لیگ کی ٹکٹ پر سینیٹر منتخب کر لیا گیا۔ لاہور میں ان کا انتقال ہوا اور اپنے آبائی شہر ملتان میں سپرد خاک ہوئے۔