کابل بین الاقوامی ہوائی اڈا
| کابل انٹرنیشنل ایئرپورٹ د کابل نړيوال هوايي ډګر | |||||||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
| |||||||||||
| خلاصہ | |||||||||||
| ہوائی اڈے کی قسم | Civilian/military | ||||||||||
| مالک | افغانستان | ||||||||||
| عامل | |||||||||||
| خدمت | کابل، صوبہ کابل، افغانستان | ||||||||||
| مرکز برائے | |||||||||||
| تعمیر | 1960[1] | ||||||||||
| بلندی سطح سمندر سے | 1,791 میٹر / 5,876 فٹ | ||||||||||
| متناسقات | 34°33′57″N 069°12′47″E / 34.56583°N 69.21306°E | ||||||||||
| ویب سائٹ | hamidkarzaiairport.com (2020 archive) | ||||||||||
| نقشہ | |||||||||||
| افغانستان میں مقام | |||||||||||
| رن وے | |||||||||||
| |||||||||||
کابل بین الاقوامی ہوائی اڈا (انگریزی: Kabul International Airport) (پشتو: د کابل نړيوال هوايي ډګر؛ دری: میدان هوائی بین المللی کابل؛ آئی اے ٹی اے: KBL، آئی سی اے او: OAKB)، ایک افغان بین الاقوامی ہوائی اڈا ہے جو افغانستان کے دار الحکومت کابل سے 5 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
یہ ہوائی اڈا افغانستان کے سب سے مصروف اور اہم ترین فضائی مرکزان میں شمار ہوتا ہے اور اکثر اسے افغانستان کا فضائی دروازہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس ہوائی اڈے کی تعمیر 1960ء کی دہائی میں ہوئی اور ابتدا میں اسے سول و فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ بعد ازاں، مختلف ادوار میں اسے جدید خطوط پر توسیع اور تعمیر نو کے مراحل سے بھی گزارا گیا۔
تاریخ
[ترمیم]کابل ہوائی اڈے کی اہمیت افغانستان میں سیاسی تبدیلیوں اور بین الاقوامی تعلقات سے گہری جڑی ہوئی ہے۔ سوویت یونین کے حملے (1979–1989ء) کے دوران یہ فضائیہ اور فوجی رسد کا بڑا مرکز تھا۔ 2001ء کے بعد افغانستان میں نیٹو اتحاد کی موجودگی کے دوران بھی یہ ہوائی اڈا عالمی افواج اور امدادی سرگرمیوں کا بنیادی فضائی اڈا بنا رہا۔
2021ء میں جب افغانستان کی سیاسی صورت حال میں ڈرامائی تبدیلی آئی تو اسی ہوائی اڈے سے بڑے پیمانے پر غیر ملکی سفارت کاروں، شہریوں اور بین الاقوامی اداروں کا انخلا ہوا۔ اس دوران ہوائی اڈا عالمی خبروں کا مرکز بنا رہا اور ہزاروں لوگ بیرونِ ملک روانگی کے لیے یہاں جمع ہوئے، جس سے اس کی عالمی اہمیت ایک بار پھر نمایاں ہوئی۔
بنیادی ڈھانچا
[ترمیم]کابل بین الاقوامی ہوائی اڈا جدید رن وے، ٹیکسی وے اور مسافر ٹرمینلز پر مشتمل ہے۔ یہاں ملکی اور غیر ملکی فضائی کمپنیوں کی پروازیں چلتی رہی ہیں، جن میں ترکیش ایئرلائنز، قطر ایئر ویز، کام ایئر، آریانا افغان ایئر لائنز اور دیگر ادارے شامل رہے ہیں۔
ہوائی اڈے میں امیگریشن کے جدید نظام، کارگو سہولیات، ریسکیو سروسز، ایوی ایشن سیکیورٹی اور بین الاقوامی معیار کی کسٹم سہولیات موجود رہی ہیں۔ فضائیہ کا ایک الگ سیکشن بھی ہے جسے افغان فضائیہ اور اس کے اتحادی استعمال کرتے رہے۔
اہمیت
[ترمیم]کابل بین الاقوامی ہوائی اڈا افغانستان کی سفارتی، معاشی اور انسانی امداد کی نقل و حمل کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ملکی و غیر ملکی مسافروں کے لیے یہ اہم فضائی رابطہ ہے اور افغانستان کی عالمی سطح پر رسائی کا بنیادی مرکز سمجھا جاتا ہے۔[4]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑
- ↑ Airport record for Kabul Khwaja Rawash International Airport at Landings.com. اخذکردہ بتاریخ 2013-08-01
- ↑ AIP Afghanistan – Important Information آرکائیو شدہ 2016-06-17 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ https://www.airport-technology.com/projects/kabul-airport/%7C%D9%88%DB%8C%D8%A8
- افغانستان کی عمارات و ساخات کے سانچے
- افغانستان ترکیہ تعلقات
- افغانستان ریاستہائے متحدہ تعلقات
- افغانستان سوویت یونین تعلقات
- افغانستان کی عسکری تنصیبات
- افغانستان کے ہوائی اڈے
- افغانستان میں ریاستہائے متحدہ کی فوجی تنصیبات
- حامد کرزئی
- 1960ء میں قائم ہونے والے ہوائی اڈے
- ترکیہ کی عسکری تنصیبات
- افغانستان میں 1960ء کی تاسیسات