حبش الحاسب المروزی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حبش الحاسب المروزی
(عربی میں: أحمد المروزي ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 766  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مرو  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 874 (107–108 سال) اور سنہ 870 (103–104 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بغداد  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ ریاضی دان، ماہر فلکیات، سائنس دان، منجم  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل ریاضی، فلکیات  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت بیت الحکمت  ویکی ڈیٹا پر نوکری (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

حبش الحاسب المروزی (پیدائش: 770ء — وفات: 874ء) قرون وسطیٰ کے مسلم جغرافیہ نگار، ریاضی دان، ماہر علم الفلکیات تھے۔ حبش الحاسب کی وجہ شہرت مثلثیاتی دالے ہیں۔مسلم فلکیات میں حبش الحاسب کا مقام نہایت اہم ہے۔

سوانح[ترمیم]

حبش الحاسب کا نام احمد بن عبداللہ ہے۔ غالباً پیدائش مرو میں 770ء میں ہوئی۔ مرو میں پیدائش کے بعد حبش کس دور میں بغداد میں آئے؟ اِس کا کوئی تاریخی ثبوت موجود نہیں۔ بعد ازاں بغداد میں سکونت اِختیار کی۔ عرفِ عام ’’حبش‘‘ کی کہیں وضاحت نہیں ملتی، شاید یہی ممکن ہوگا کہ اُن کی جلد کی سیاہ رنگت سے یہ نسبت ہو۔ ابن ندیم نے کتاب الفہرست میں لکھا ہے کہ: اُس (یعنی حبش الحاسب) نے سو سال سے زیادہ کی عمر پائی لیکن ابن القفطی نے حبش کی زندگی اور علمی سرگرمیوں کے مختلف مراحل کے متعلق مفصل معلومات فراہم کی ہیں۔

فلکی مشاہدات[ترمیم]

ابن القفطی کے قول کے مطابق حبش کا زمانہ المامون اور المعتصم باللہ کا عہد حکومت تھا۔ اِس کی توثیق ابن یونس کی الزیج الکبیر الحاکمی سے بھی ہوتی ہے کہ حبش نے بغداد میں 829ء سے 874ء کے درمانی زمانے میں فلکی مشاہدات کیے۔ اگر یہ درست ہے تو مستشرقین میں نالینو (Nallino) کی رائے صحیح ثابت ہوسکتی ہے کہ حبش نے الزیج کو غالباً 300ھ مطابق 912ء میں مکمل کیا جس کا ایک مخطوطہ برلن کے ایک کتب خانہ میں محفوظ ہے۔ اگر نالینو (Nallino) کی یہ رائے درست تسلیم کرلی جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ فلکی مشاہدے (جن کے متعلق ابن یونس نے لکھا ہے) حبش نے اپنے عہد لڑکپن میں کیے ہوں گے جبکہ اُس کی عمر پندرہ سولہ سال سے زائد نہ ہوگی۔یہ رائے محال ہے اور اِسی وجہ سے نالینو (Nallino) اِس بات کو خارج از اِمکان قرار دیتا ہے کہ اُس نے عہد مامون میں فلکی مشاہدات میں حصہ لیا۔[1] مستشرق ورنٹ (Vernet) کا خیال ہے کہ حبش الحاسب نام کے دو مختلف اشخاص تھے، ایک عہد المامون میں اور دوسرا غالباً 300ھ مطابق 912ء کے لگ بھگ زندہ تھا۔ یہ رائے یا خیال درست ہوسکتے ہیں اور دونوں اشخاص کے مابین ایک طویل وقت کا فاصلہ ثابت ہونا بھی ممکن ہے۔ 825ء سے 835ء تک حبش نے فلکی مشاہدات کی تفصیلات اُس کی تصانیف سے معلوم ہوتی ہیں جیسے کہ 829ء کے سورج گرہن میں حبش نے وقت کے اعتبار سے سورج کا ارتفاع معلوم کیا اور 830ء میں حبش نے سائے کی مدد سے مثلثیات کے دالے یعنی (Trigonometry Functions) دریافت کیے۔[2][3]

فلکی کوائف[ترمیم]

خلیفہ عباسی المامون کے عہد حکومت میں رصدگاہ الشمسیہ، بغداد میں جن مسلم فلکیات دانوں نے فلکی مشاہدات میں حصہ لیا، حبش بھی اُن میں شامل تھے۔ حبش کے پیمائش کردہ فلکی کوائف یوں ہیں:[4]

زمین کے کوائف[ترمیم]

  • زمین کا محیط: 20,160 میل (32,444 کلومیٹر)
  • زمین کا قطر: 6414.54 میل (10323.201 کلومیٹر)
  • زمین کا رداس: 3207.275 میل (5161.609 کلومیٹر)

سورج کے کوائف[ترمیم]

  • سورج کا قطر: 35,280;1,30 میل (56,777.6966 کلومیٹر)
  • سورج کا محیط : 110,880;4,43 میل (178,444.189 کلومیٹر)

چاند کے کوائف[ترمیم]

  • چاند کا قطر: 1886.8 میل (3036.5 کلومیٹر)
  • چاند کا محیط : 5927.025 میل (9538.622 کلومیٹر)

وفات[ترمیم]

حبش کے سال وفات کا انداز محض قیاس کے علاوہ کچھ نہیں، کیونکہ مؤرخین و محققین نے حبش کے سال وفات کی بابت کچھ نہیں لکھا۔ البتہ اِس ابن یونس کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خلیفہ المعتصم باللہ کے عہد حکومت کے بعد تک بقید ِحیات تھا۔ محض ایک قیاس کے مطابق حبش کا انتقال 874ء میں بغداد میں ہوا جبکہ اُس کی عمر سو سال سے زائد ہوچکی تھی۔ بغداد میں اُس کا مدفن نامعلوم ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. دائرہ معارف اسلامیہ: جلد 7، صفحہ 860۔
  2. trigonometry | Definition, Formulas, Ratios, & Identities | Britannica.com
  3. Mathematics Across Cultures: The History of Non-western Mathematics, Springer, "Islamic mathematics", p. 157
  4. Langermann, Y. Tzvi (1985), "The Book of Bodies and Distances of Habash al-Hasib", Centaurus (journal), p.108–128