حبیب الرحمن خیر آبادی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مولانا، مفتی

حبیب الرحمن خیرآبادی
دار العلوم دیوبند کے 13ویں صدر مفتی
عہدہ سنبھالا
2000ء سے تاحال
پیشرونظام الدین اعظمی
نائب مہتمم دار العلوم دیوبند
عہدہ سنبھالا
1992 سے 1997 تک
ذاتی
پیدائش11 اگست 1933ء (عمر 88 سال)
مذہباسلام
نسلیتبھارتی
فرقہسنی
فقہی مسلکحنفی
تحریکدیوبندی
قابل ذکر کامفتاوی حبیبیہ، المسک الشذی شرح جامع الترمذی، دہشت گردی کے خلاف فتویٰ ، 2008
مرتبہ
استاذمولانا حسین احمد مدنی، مولانا محمد زکریا کاندھلوی، حبیب الرحمٰن الاعظمی

حبیب الرحمن خیرآبادی (پیدائش:11 اگست 1933ء) ایک بھارتی عالمِ دین و مفتی ہیں، جو دار العلوم دیوبند کے موجودہ صدر مفتی ہیں۔ وہ دارالعلوم مئو ، مظاہر علوم سہارنپور اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق طالب علم رہے ہیں اور ان کی کئی تصانیف ہیں، جن میں زکوة کی اہمیت، مسائل قربانی اور مسائل سود وغیرہ شامل ہیں۔ 2008 میں انھوں نے دہشت گردی کے خلاف دار العلوم دیوبند کی طرف سے ایک فتوی جاری کیا۔

سوانح[ترمیم]

حبیب الرحمن 11 اگست 1933 کو خیر آباد ، (جو اُس وقت اعظم گڑھ میں آتا تھا) میں پیدا ہوئے تھے۔[1] ان کی تعلیم احیاء العلوم مبارک پور، دارالعلوم مئو اور دار المبلغین لکھنؤ میں ہوئی۔[2] ان کی عالمیت کی تکمیل مظاہر علوم سہارنپور سے ہوئی، جہاں انھوں نے صحاح ستہ اور تفسیر بیضاوی تک کی کتابیں پڑھیں۔[3] انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔[2] انھوں نے نجی طور دار العلوم دیوبند میں داخلہ کے بغیر حسین احمد مدنی سے صحیح بخاری " و جامع ترمذی کا درس لیا۔ اور معراج الحق دیوبندی سے دیوانِ متنبی پڑھی۔[2]

تحصیل علم کی تکمیل کے بعد وہ 5 سال معہدِ ملت مالیگاؤں، 2 سال ادارہ محمودیہ لکھیم پور میں مدرس رہے۔[4] پھر جامعہ عربیہ حیات العلوم مراد آباد میں 23 سال درس و تدریس اور فتوی نویسی کی خدمات انجام دیں۔[3][5] 1404ھ بمطابق 1984ء میں دار العلوم دیوبند میں بطور مفتی تقرر ہوا اور اب تک اسی منصب پر رہتے ہوئے وہاں فتوی نویسی کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔[1][3] انھیں 2008ء میں مفتی ظفیر الدین مفتاحی کے بعد دار العلوم دیوبند کا صدر مفتی مقرر کیا گیا۔[6] نیز دار العلوم دیوبند کے افتاء کے طلبہ کی سراجی ، رسم المفتی اور الدر المختار کے اسباق مفتی حبیب الرحمن سے متعلق ہیں۔[4] ان کے شاگردوں میں مدرسہ شاہی کے مفتیان مفتی سلمان منصورپوری و مفتی شبیر احمد بھی شامل ہیں۔[7]

2008 میں حبیب الرحمن نے دہشت گردی کے خلاف دار العلوم دیوبند سے ایک فتوی جاری کیا اور اس پر دستخط کیا۔[8][9] اس فتوی میں کہا گیا تھا:

اسلام ہر طرح کے غیر منظم تشدد ، امن کی خلاف ورزی ، خوں ریزی ، قتل و غارت گری کو مسترد کرتا ہے اور کسی بھی شکل میں اس کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ یہ اسلام کا بنیادی اصول ہے کہ آپ نیک مقاصد کے حصول میں ایک دوسرے کی مدد کریں۔ اور کسی کے ساتھ بھی گناہ یا ظلم کا ارتکاب کرنے میں تعاون نہ کریں۔ قرآن مجید میں دی گئی واضح ہدایت نامہ سے یہ بات عیاں ہے کہ اسلام جیسے مذہب کے خلاف دہشت گردی کا الزام جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جو دنیا کے امن کو حاصل کرتا ہے اور ہر طرح کی دہشت گردی کو ختم کرنے اور عالمی امن کے پیغام کو عام کرنے کے لیے پیدا ہوا تھا۔ (انگریزی عبارت کا ترجمہ)

[9] کہا گیا کہ دار العلوم دیوبند سے جاری ہونے والا یہ اپنی نوعیت کا پہلا فتوی تھا۔[8]

تصانیف[ترمیم]

مفتی حبیب الرحمن نے "المسک الشذی علی جامع الترمذی" کے عنوان سے جامع ترمذی کی ایک شرح لکھی ہے۔ ان کی بعض تصانیف کے نام درج ذیل ہیں:[4]

  • المسائل الحنفیۃ المؤیَّدۃ بالأحادیث النبویۃ (زیر طبع عربی میں)
  • حاشیہ فتاوٰی رشیدیہ (رشید احمد گنگوہی کے مجموعۂ فتاوٰی؛ فتاوٰی رشیدیہ پر حواشی۔)
  • مسائلِ قربانی
  • مسائلِ سود
  • رمضان اور اس کے روزے
  • شبِ براءت اور قرآن
  • شرحِ مفید الطالبین
  • زکوٰۃ کی اہمیت
  • فتاوٰی حبیبیہ (ان کے فتاوٰی کا مجموعہ)

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب محمد اللّٰہ قاسمی. دار العلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ (ایڈیشن 2020). دیوبند: شیخ الہند اکیڈمی. صفحہ 704-705. 
  2. ^ ا ب پ آفتاب غازی قاسمی؛ عبد الحسیب قاسمی. فضلائے دیوبند کی فقہی خدمات (ایڈیشن فروری 2011). دیوبند: کتب خانہ نعیمیہ. صفحہ 350. 
  3. ^ ا ب پ شاہد سہارنپوری. علمائے مظاہر علوم اور ان کی علمی و تصنیفی خدمات. 1 (ایڈیشن 2005). سہارنپور: مکتبہ یادگار شیخ. صفحات 275–276. 
  4. ^ ا ب پ آفتاب غازی قاسمی؛ عبد الحسیب قاسمی. فضلائے دیوبند کی فقہی خدمات (ایڈیشن فروری 2011). دیوبند: کتب خانہ نعیمیہ. صفحہ 351. 
  5. آفتاب غازی قاسمی؛ عبد الحسیب قاسمی، فضلائے دیوبند کی فقہی خدمات (اشاعت فروری 2011۔)، صفحہ 143 
  6. ضیاء الدین سردار؛ میرل وِن ڈیویز (2008). وِل امیریکا چینج؟ (ایڈیشن 2008). آئیکن بکس. صفحہ 227. ISBN 9781840468793. 
  7. آفتاب غازی قاسمی؛ عبد الحسیب قاسمی، فضلائے دیوبند کی فقہی خدمات (اشاعت فروری 2011۔)، صفحہ 352 
  8. ^ ا ب "دیوبند فرسٹ: اے فتوٰی اگینسٹ ٹکرر". دی ٹائمز آف انڈیا. 1 جون 2008. اخذ شدہ بتاریخ 30 مئی 2021. 
  9. ^ ا ب شِشر گپتا (2012). انڈین مجاہدین. ہیشٹ یو کے. ISBN 9789350093757. 

کتابیات[ترمیم]

  • آفتاب غازی قاسمی؛ عبد الحسیب قاسمی. فضلائے دیوبند کی فقہی خدمات (ایڈیشن فروری 2011). دیوبند: کتب خانہ نعیمیہ. صفحہ 143، 350-352. 
  • محمد اللّٰہ قاسمی. دار العلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ (ایڈیشن 2020). دیوبند: شیخ الہند اکیڈمی. صفحہ 704-705. 
مذہبی القاب
ماقبل 
ظفیر الدین مفتاحی
دار العلوم دیوبند کے 14ویں صدر مفتی
2008 -
مابعد 
"ابھی باحیات اور منصب پر فائز ہیں"