حبیب بورقیبہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حبیب بورقیبہ
(عربی میں: الحبيب بورقيبةخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Bourguiba 1960.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 3 اگست 1903[1][2][3][4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
منستیر، تیونس[5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 6 اپریل 2000 (97 سال)[1][2][3][4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
منستیر، تیونس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن منستیر، تیونس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Tunisia.svg تونس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ پیرس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان،وکیل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی[6]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
ESP Isabella Catholic Order CROSS.svg آرڈر آف اسابیلا دی کیتھولک
Orderelefant ribbon.png آرڈر آف ایلی فینٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
Signature Habib Bourguiba.svg 
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
منستر میں حبیب بورقیبہ کا مزار

حبیب بورقیبہ (عربی : حبيب بورقيبة ) (اگست 03، 1903ء تا اپریل 6، 2000ء) تیونس کے بانی، سیاستدان اور جمہوریہء تیونس کے پہلے صدر تھے، جن کی صدارت 25 جولائی، 1957ء سے 07 نومبر، 1987ء تک رہی۔ اپنے دورِ صدارت میں ترقی و جدت پسندی کے مغربی تقلید پرمبنی اصلاحات کے نفاذ کی بدولت اکثر اُن کا موازنہ ترکی کے مصطفٰی کمال اتاترک سے بھی کیا جاتاہے۔ ليكن عام طور پر اسلام اور مسلمان كے خلاف كام كرتے تہے- حبیب بورقیبہ کے دورِ اقتدار میں تعلیم حکومت کی اولین ترجیح رہی جبکہ عورتوں کے حقوق کے حوالے سے بھی حبیب بورقیبہ نے عرب اور اسلامی دنیا کے مقابلے میں وسیع تر اصلاحات کا نفاذ یقینی بنایا۔ اُنہوں نے ایک سے زیادہ شادیاں کرنے پر پابندی لگائی اور طلاق کو قانونی شکل دی۔ لڑکیوں کی کم عمری میں شادی کے حوالے سے، اُنہوں نے شادی کے لیے لڑکی کی عمر کی کم سے کم حد 17 سال مقرر کی۔ اُنہوں نے اگست 1956ء میں انقلابی قانونی اصلاحات نافذ کیں، جس کی بدولت عورتوں کو تاریخی حقوق اور تحفظ ملا اور تیونس کا معاشرہ اچانک بدل گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12014190p — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. ^ 2.0 2.1 دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Habib-Bourguiba — بنام: Habib Bourguiba — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  3. ^ 3.0 3.1 ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6bw1jbc — بنام: Habib Bourguiba — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. ^ 4.0 4.1 قبر ڈھونڈیں شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=13789527 — بنام: Habib Bourguiba — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — باب: Бургиба Хабиб — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  6. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12014190p — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ