حجرہ نبوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

حجرہ نبوی سے مراد رسول اللہ ﷺ کے رہنے کیلئے کمرہ، کوٹھڑی، گھر یا خلوت خانہ ہے.

حجرہ زمین کا ایسا ٹکڑا جس کو چاروں طرف سے دیوار کھینچ کر بند کر دیا گیا ہو، اس کی جمع حُجُرات ہے۔جیسے رسول اللہ ﷺ کی ازواج کے حجرات تھے۔ ہر زوجہ محترمہ کے لئے ایک حجرہ تھا۔ [1] حضرت محمد کی وفات کے بعد تعلیمات نبوی کے مطابق آپ کو اسی حجرہ نبوی میں دفن کیا گیا جہاں آپ کا انتقال ہوا اور یہ حجرہ ام المومنین عائشہ صدیقہ کا تھا اور اب یہی گنبد خضرا کہلاتا ہے[2] ایک خواب کی تعبیر میں ابوبکر صدیق نے عائشہ صدیقہ کو فرمایا تھاکہ تیرے حجرے میں زمین کے افضل ترین لوگ دفن ہونگے اس سے مراد رسول للہﷺ ابوبکر صدیق اور عمر فاروق تھے [3]

ام المومنین عائشہ صدیقہ نے کہا میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے حجرے میں تین چاند گرپڑے سو میں نے اس خواب کو ابوبکر صدیق سے بیان کیا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو حضرت عائشہ کے حجرہ میں دفن ہوچکے تھے ابوبکر نے کہا کہ ان تین چاندوں میں سے ایک چاند آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے اور یہ تینوں چاندوں میں بہتر ہیں۔ [4]
ابن سعد نے بروایت عطاء خراسانی لکھا ہے کہ یہ حجرات کھجور کی شاخوں سے بنے ہوئے تھے اور ان کے دروازوں پر موسیاہ اون کے پردے پڑے ہوئے تھے، امام بخاری نے الادب المفرد میں اور بیہقی نے داؤد بن قیس سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان حجروں کی زیارت کی ہے، میرا گمان یہ ہے کہ حجرے کے دروازے سے مسقف حصہ تک چھ یا سات ہاتھ اور کمرہ دس ہاتھ اور چھت کی اونچائی سات یا آٹھ ہاتھ ہوگی، امہات المومنین کے یہ حجرے ولید بن عبد الملک کے دور میں اسا کے حکم سے مسجد نبوی میں شامل کردیئے گئے، مدینہ منورہ میں اس روز گریہ و بکا کا سماں تھا۔[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیر مدارک التنزیل ،ابو البرکات عبد اللہ النسفی سورۃ الحجرات آیت4
  2. سیرت حلبیہ جلد 6
  3. شمائل کبریٰ جلد 11 مفتی محمد ارشاد
  4. موطا امام مالک:جلد اول:حدیث نمبر 489
  5. تفسیر جلالین ،علامہ جلال الدین سیوطی سورۃ الحجرات آیت4
Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔