حجر بن عدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حجر بن عدی
حجر بن عدي.png
 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 1 ہزاریہ  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 660 (59–60 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عدرا  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن عدرا  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قاتل معاویہ بن ابو سفیان  ویکی ڈیٹا پر (P157) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

حجر بن عدی نام، خیر لقب، کندہ کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے، نسب نامہ یہ ہے، حجر بن عدی بن معاویہ بن حارث بن عدی بن ربیعہ بن معاویہ الاکبر بن حارث بن معاویہ بن ثور بن مرتع بن معاویہ بن کندہ کندی۔بعض لوگ آپ کو صحابی کہتے ہیں ان کے پاس صحیح سند سے کوئی ایک دلیل نہیں ہے۔ کچھ لوگوں آپ کے صحابی ہونے کا انکار کیا ہے۔ یہ لوگ بنو امیہ کی حمایت کرنے والے لوگ ہیں۔ انکار کی وجہ یہ ہے ان کی مظلومانہ شہادت اور بے خطا قتل کو کم رنگ کرنا مقصود ہے۔

اسلام[ترمیم]

ان کے زمانۂ اسلام کی تعیین میں ارباب سیر خاموش ہیں، لیکن اغلب یہ ہے کہ 9ھ میں نبی پاک کے پاس اسلام کے شرف سے مشرف ہوئے ہوں گے، کیونکہ اسی سنہ میں کندہ کا وفد مدینہ آیا تھا [1] اس میں حجر بھی تھے۔ [2] کچھ لوگ کہتے ہیں کہ صحابی نہیں تھے۔ جیسا کہ بخاری، خلیفہ بن خیاط ان کو تابعی شمار کرتے ہیں۔ لیکن ان دو مورخین کے علاوہ بقیہ جیسے حاکم نیشاپوری اور ابن عبد البر انہیں صحابی کہتے ہیں، نیز ذہبی، ابن اثیر و ابن حجر انہیں صحابی لکھا ہے اور کتب تراجم و رجال جیسا کہ طبقات ابن سعد، اسدالغابہ، اصابہ، استیعاب، مستدرک حاکم، سیر اعلام النبلا، تاریخ ابن کثیر، تاریخ الاسلام ذہبی ان کو با عظمت صحابی سمجحتے ہیں۔ [3] اور انہیں حجر الخیر کہا جاتا ہے۔

مگر مخالفت کرنے والے کہتے ہیں کہ امام ابن الجوزی نے اپنی کتاب ( تلقیح فہوم اہل الأثر فی عیون التاريخ والسیر) ص 129 پر تفصیل سے تمام دلائل نقل کر کے ثابت کیا ہے کہ وہ صحابی نہیں ہے اور ایک روایت المستدرک کی پیش کی جاتی ہے جو سخت منقطع ہے صحیح سند سے کوئی ایک دلیل موجود نہیں۔

عہد فاروقی[ترمیم]

حجر بہت آخر میں اسلام لائے، اس لیے عہد نبوی میں شرفِ جہاد سے محروم رہے سب سے اول فاروقی عہد میں میدان جہاد میں قدم رکھا، دور فارس کی فتوحات میں مجاہدانہ شریک ہوئے، قادسیہ کے مشہور معرکہ میں موجود تھے، قادسیہ کے بعد مدائن کی فتح میں تھے مدائن کی تسخیر کے بعد جب یزدگرد نے جلولا میں فوجیں جمع کیں تو حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے اس کے مقابلہ کے لیے ہاشم بن عتبہ کی سرکردگی میں ایک فوج روانہ کی، حجر اس فوج کے میمنہ کے افسر تھے، ان مجاہدوں نے یزدگرد کا نہایت کامیاب مقابلہ کیا اوراسے جلولا سے بھی بھاگنا پڑا۔

عہد مرتضوی[ترمیم]

جنگِ جمل وصفین میں خلیفۃ المسلمین امیرالمومنین حضرت علیؓ کے پرجوش حامیوں میں تھے، شروع سے آخر تک ان کے ساتھ رہے، جنگ جمل سے پہلے جب خلیفہ حضرت علی نے حضرت حسنؓ اور عمار بن یاسر کو کوفیوں کی مدد حاصل کرنے کے لیے بھیجا تھا تو حجر ہی کی تحریک پر 9650 اہل کوفہ امیر المومنین حضرت علیؓ کی حمایت پر آمادہ ہوئے تھے، اس کے بعد جنگِ جمل میں حضرت علیؓ نے حجر کو کندہ، حضرموت، قضاعہ اورمہرہ کے قبائل کا افسر بنایا۔ [4] جنگ جمل کے بعد صفین کا معرکہ پیش آیا، اس میں بھی حجر نے بڑی سرگرمی کے ساتھ حصہ لیا، معزول گورنر شامامیر معاویہ کے سخت دشمن تھے اوران پر علانیہ سب وشتم کرتے تھے، میدان جنگ میں ایک شامی حجر الخیر کے مقابلہ میں آیا اور زخمی ہوکر گھوڑے کی پیٹھ سے گرے۔[5]

جنگ صفین کے بعد جب نہروان میں خارجیوں پر فوج کشی ہوئی تو میمنہ کی قیادت پر حجر الخیر مقرر ہوئے، غرض شروع سے آخر تک برابر امیر المومنین خلیفہ حضرت علیؓ کے دست وبازو رہے، حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد بھی حجر کی فدویت اورجان نثاری میں فرق نہ آیا اور وہ اسی طرح جناب امیر کے خلف الصدق خلیفہ حضرت امام حسنؓ کے حامی اورخیر خواہ رہے، چونکہ حجر معاویہ کو برسرحق نہیں سمجھتے تھے، اس لیے حضرت حسن کی مشروط صلح کے بعد ان کی زبان سے ایسے نازیبا کلمات نکل گئے، جس سے حضرت حسن کو تکلیف پہنچی، انہوں نے کہا یا ابن رسول اللہ !کاش میں یہ دن دیکھنے کے لیے زندہ نہ رہتا، آپ نے ہم کو عدل سے ہٹا کر جور کے راستہ پر ڈال دیا اورہم راہ حق کو چھوڑ کے باطل کے راستہ پر آگئے جس سے بھاگتے تھے، حضرت حسنؓ نے انہیں سمجھا بجھا کر خاموش کیا۔ [6]

گرفتاری[ترمیم]

پھر حضرت حسنؓ کی مشروط صلح کے بعد خاموش ہو گئے تھے، مگر امیر معاویہ نے جب زیاد کو عراق کا والی بنایا تو اس کی تند خوئی اوربد اخلاقی کی وجہ سے اس میں اور حجر میں مخالفت شروع ہو گئی، ایک دن زیاد جامعِ کوفہ میں تقریر کررہا تھا اور نماز کا وقت آخر ہورہا تھا، حجر اوران کے ساتھیوں نے زیاد کو متنبہ کرنے کے لیے اس پر کنکریاں پھینکیں، زیاد نے بڑی حاشیہ آرائی کے ساتھ بڑھا چڑھا کر ان کی شکایت لکھ بھیجی کہ یہ لوگ عنقریب ایسا رخنہ ڈالیں گے کہ اس میں پیوند نہ لگ سکے گا اوربہت سے لوگوں نے ان کے خلاف شہادت دی، اس لیے امیر معاویہ نے ان کو بلا بھیجا؛چنانچہ حجر اوردوسرے گیارہ آدمی پابجولان شام روانہ کیے گئے، امیر معاویہ نے ان میں سے چھ آدمیوں کو رہا کر دیا اورچھ کو جن میں ایک حجر تھے ( اپنی مجلس مشاورت سے جن میں صحابہ تابعین[حوالہ درکار] بھی تھے ان سے مشورہ کر کے اکثریت کی رائے کے مطابق) دلیل کے لیے دیکھیے (مستدرک الحاکم) قتل کا حکم دیا۔[7] (چونکہ حجر الخیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سیاسی مخالف تھے اور اپنی اجتہادی رائے میں معاویہ کو حق پر نہیں سمجھتے تھے) اسی لیے اکثر لوگوں نے انہیں مظلوم قرار دیا ہے اور معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کیا ہے جولوگ بنو امیہ کے تابعدار ہیں وہ کہتے ہیں انہیں امت مسلمہ کی اجتماعیت میں رخنہ ڈالنے کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا اور اتحاد و وحدت امت جسے حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کے مطابق ایک مشروط صلح کے ذریعے قائم کیا تھا اس میں دوبارہ پھوٹ ڈالنے کے جرم میں ملوث سمجھے گئے تو انہیں شہید کر دیا گیا تھا۔

نماز کی مہلت[ترمیم]

جب جلاد مقتل کی طرف لے چلے تو حجر الخیر نے دورکعت نماز پڑھنے کی مہلت مانگی، مہلت دی گئی، نماز پڑھنے کے بعد کہا کہ اگر لمبی لمبی رکعتیں پڑھنے میں اس کا خطرہ نہ ہوتا کہ تم لوگ گمان کروگے کہ میں نے خوف سے نماز کو طول دیا ہےتو لمبی رکعتیں پڑھتا، اگر میری گذشتہ نمازیں اس قابل نہیں ہیں کہ مجھے فائدہ پہنچا سکیں تو یہ دونوں کیا فائدہ پہنچا سکتی ہیں، پھر یہ وصیت کی کہ میری بیڑیاں نہ اتارنا اورخون نہ دھونا کہ میں اسی حالت میں معاویہ سے پل صراط پر ملوں گا۔ [8]

قتل[ترمیم]

وصیت وغیرہ کے بعد جلاد نے وار کیا اور ایک کشتہ ستم خاک وخون میں تڑپنے لگا یہ واقعہ 51ھ میں پیش آیا۔ حجر کا قتل معمولی واقعہ نہ تھا، اپنے صحابی ہونے اور خاندانی اعزاز نیز حضرت علیؓ کی حمایت کی وجہ سے کوفہ میں بڑی وقعت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اس لیے اہل کوفہ میں بڑی برہمی پیدا ہو گئی، معزز ین کوفہ حضرت حسنؓ کے پاس فریاد لے کر پہنچے، آپ بیحد متاثر ہوئے ؛لیکن امیر معاویہ سے صلح مشروط کرچکے تھے اس لیے مجبور تھے۔

اہل بیت نبوی میں بھی حجر الخیر کی بڑی وقعت تھی؛ چنانچہ حضرت عائشہؓ نے جس وقت ان کی گرفتاری کی خبر سنی، اسی وقت انہوں نے عبدالرحمن بن حارث کو امیر معاویہ کے پاس دوڑایا کہ وہ حجر اور ان کے رفقا کے معاملہ میں خدا کا خوف کریں، لیکن یہ اس وقت پہنچے جب حجر قتل ہوچکے تھے، پھر بھی انہوں نے امیر معاویہ کو بڑی ملامت کی، امیر معاویہ نے جواب دیا میں کیا کرتا ان کی بڑی شکایات کی تھیں اور لکھا تھا کہ عنقریب یہ لوگ ایسا رخنہ پیدا کریں گے جس میں پیوند نہ لگ جائےگا۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کو خبر ہوئی تو زار زار رونے لگے، خود امیر معاویہ کے آدمیوں نے اس قتل کو پسندید گی کی نظر سے نہیں دیکھا؛چنانچہ ربیع بن زیادحارثی گورنر خراسان نے سنا، تو اس درجہ متاثر ہوئے کہ دعا کی کہ خدایا اگر تیرے یہاں ربیع کے لیے بھلائی ہو تو اس کو جلد بلائے معلوم نہیں یہ دعا کس دل سے نکلی تھی کہ سیدھی بابِ اجابت پر پہنچی اورربیع کو خدانے بہت جلد بلالیا۔ حضرت عائشہؓ کو بڑا صدمہ تھا؛چنانچہ اسی سال جب امیر معاویہ حج کو گئے اورزیارت کے لیے مدینہ حاضر ہوئے اورحضرت عائشہ کی خدمت میں گئے، تو انہوں نے کہا معاویہ تم کو میرے پاس آتے وقت اس کا خوف نہیں ہوا کہ میں نے کسی شخص کو اپنے بھائی محمد بن ابی بکر کے خون کا بدلہ لینے کے لیے چھپا دیا ہو، عرض کیا میں بیت الامان میں آیا ہوں، فرمایا تم کو حجر اوران کے ساتھیوں کے قتل کے بارہ میں خدا کا خوف نہیں معلوم ہوا، عرض کیا ان کو ان لوگوں نے قتل کیا جنہوں نے ان کے خلاف شہادت دی۔[9]

اولاد[ترمیم]

حجر کے دو لڑکے تھے، عبدالرحمن اورعبداللہ، لیکن یہ دونوں عبد اللہ بن زبیرؓ اور امویوں کی ہنگامہ آرائیوں میں مصعب کے ہاتھوں قتل ہو گئے۔ [10]

مزار کی تباہی[ترمیم]

آپ کا مزار دمشق کے قریب مقام عدرا (سابقہ نام: مرج عذرا) پر تھا۔ اس میں ان کے بیٹے کی قبر بھی تھی۔ قبریں ایک مسجد کے اندر تھیں۔ 2 مئی، 2013ء کو دہشت گردوں نے مسجد اور قبر بارود سے اڑا دی۔ اور قبر کو کھود کر جسم کو نکال کر نامعلوم مقام پر لے گئے۔[11]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (زاد المعاد:2/31)
  2. (اسد الغابہ:1/385)
  3. دیکھیں۔ کتاب عبداللہ بن سباتحریر۔ علامہ عسکری ص733
  4. (اخبار الطوال:154/155)
  5. (ایضاً)
  6. (ابن اثیر)
  7. (استیعاب :1/137،واسد الغابہ:1/356)
  8. (استیعاب:1/137 ، واسد الغابہ:1/386)
  9. (استیعاب:1/118)
  10. (مستدرک حاکم:2/)
  11. پریس ٹی وی 3 مئی 2013