حج بدل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

حج بدل: کسی کانائب بن کر اس کی طرف سے حج فرض اداکرناکہ اس پرسے فرض کوساقط کرے۔ [1]

حج بدل کے شرائط[ترمیم]

حج بدل کے لیے چند شرطیں ہیں:

  • 1 جو حج بدل کراتا ہو اس پر حج فرض ہو یعنی اگر فرض نہ تھا اور حج بدل کرایا تو حج فرض ادا نہ ہوا، لہٰذا اگر بعد میں حج اس پر فرض ہوا تو یہ حج اس کے لیے کافی نہ ہوگا بلکہ اگر عاجز ہو تو پھر حج کرائے اور قادر ہو تو خود کرے۔
  • 2 جس کی طرف سے حج کیا جائے وہ عاجز ہو یعنی وہ خود حج نہ کر سکتا ہو اگر اس قابل ہو کہ خود کر سکتا ہے، تو اس کی طرف سے نہیں ہو سکتا۔
  • 3 وقتِ حج سے موت تک عذر برابر باقی رہے اگر درمیان میں اس قابل ہو گیا کہ خود حج کرے تو پہلے جو حج کیا جاچکا ہے وہ نا کافی ہے۔
  • 4 جس کی طرف سے کیا جائے اس نے حکم دیا ہو بغیر اس کے حکم کے نہیں ہو سکتا۔ ہاں وارث نے مورث کی طرف سے کیا تو اس میں حکم کی ضرورت نہیں۔
  • 5 مصارف اُس کے مال سے ہوں جس کی طرف سے حج کیا جائے۔

حج بدل کے مسائل[ترمیم]

  • حج بدل میں اپنا اور جس کاحج کر رہا ہے کے مال سے زیادہ حصہ کے برابر خودخرچ کیا تو حج بدل ہو گیا اور اس ملانے کی وجہ سے اُس پر تاوان لازم نہ آئے گا۔[2]
  • اگر کسی نے وصیت کی تھی کہ میرے مال سے حج کرا دیا جائے اور وارث نے اپنے مال سے تبرّعاً کرایا تو حج بدل نہ ہوا اور اگر اپنے مال سے حج کیا یوں کہ جو خرچ ہوگا ترکہ میں سے لے لے گا تو ہو گیا اور لینے کا ارادہ نہ ہو تو نہیں۔[3]
  • میّت کی طرف سے حج کرنے کے لیے مال دیا اور وہ کافی تھا مگر اُس نے اپنا مال بھی کچھ خرچ کیا ہے تو جو خرچ ہوا وصول کر سکتا ہے اور اگر نا کافی تھا مگر اکثر میّت کے مال سے صرف ہوا تو میّت کی طرف سے ہو گیا[2]
  • حج بدل کا جس کو حکم دیا وہی کرے، دوسرے سے اُس نے حج کرایا تو حج بدل نہ ہوگا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. فتاوی رضویہ، ج10،ص 659
  2. ^ ا ب عالمگیری کتاب المناسک، الباب الرابع عشر في الحج عن الغیر
  3. ردالمحتار،کتاب الحج،ج4، ص28