حج میں عورتوں کے احکام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حجاج کرام طواف کرتے ہوئے

عورتوں کا احرام یہ ہے کہ وہ اپنے سلے ہوئے کپڑوں میں ہی احرام کی نیت سے دو رکعت نماز پڑھیں ،پھر عمرہ یا حج کی نیت کریں ،اور آہستہ آواز میں تین بار تلبیہ پڑھیں،ان کو سر ڈھکنا واجب ہے اور ان کے لیے حالتِ احرام میں چہرہ چھپانا ممنوع ہے، پردہ بھی ضروری ہے،اس لیے سر پر ہیٹ رکھ کر اوپر سے نقاب ڈال لیں تو زیادہ بہتر ہے ،جس سے پردہ بھی ہو جائےگا اور چہرہ بھی کھلا رہے گا۔ خیال رکھیں کہ نقاب کا کپڑا چہرہ سے نہ لگے۔حیض و نفاس کی ناپاکی میں نیت اور تلبیہ پڑھ کر احرام باندھ لیں۔ غسل جنابت میں غسل کرکے نماز پڑھیں پھر نیت کر یں اور تلبیہ پڑھ کر احرام باندھ لیں۔ سر کے بال کو ایک کپڑے سے باندھ لیں تا کہ کوئی بال ٹوٹ کر گر نہ جائے اور یہ کپڑا صرف احتیاط کے لیے ہے ،لازم نہیں ہے۔ صفا اور مروہ کی سعی کے دوران دونوں ہرے کھمبوں کے درمیان دوڑنا عورتوں کے لیے مسنون نہیں ہے۔ احرام کھولتے وقت بالوں کے آخر سے صرف انگلی بھر کاٹ لینا کافی ہے۔ ناپاکی کی حالت میں طواف کے علاوہ حج کے تمام ارکان ادا کر سکتی ہیں۔ ایام نحر یعنی 12/11/10/ تاریخ میں پاکی کی حالت نہ ہو تو طوافِ زیارت کو پاک ہونے تک مئوخر کر دیں۔ اس تاخیر پر جرمانہ نہ ہوگا۔ جدہ یا مکہ پہونچنے کے بعد شوہر یا محرم کا انتقال ہو جائے،طلاق بائن ہو جائے تو ایسی حالت میں حج کے ارکان ادا کر سکتی ہے۔ اگر واپسی کے وقت ایام حیض کی حالت میں مبتلا ہوجائیں تو اُن کے اوپر سے طواف وداع معاف ہو جاتا ہے۔ جو عورت عدت وفات یا عدت طلاق میں ہو اس کے لیے عدت پوری ہونے سے قبل سفر حج کو جانا جائڑ نہیں ،اگر جائے گی تو اس حالت میں اس کا فریضہ تو ادا ہو جائےگا مگر وہ سخت ترین گناہ کی مرتکب ہو جائے گی۔ بہت سی لا پروا عورتوں نے یہ بات پھیلا رکھی ہے کہ احرام کی حالت میں اور سفر حج میں عورتوں پر پردہ نہیں ہے، حالا نکہ سفر حج میں بے پردگی زیادہ گناہ کا باعث ہے۔ نیز جو عورتیں تھوڑا بہت پردہ کرتی ہیں وہ بھی دوسرے ممالک کی بے پردہ عورتوں کو دیکھ کر بے پردہ ہو جاتی ہیں۔ یہ نہایت افسوسناک حرکت ہے،اور اس کی وجہ سے مردو ں کو اپنی نظریں بچانا مشکل ہو جاتا ہے اور حکم شرعی یہاں تک ہے کہ اگر شرعی محرم کو بد نظری کا خطرہ ہو تو محرم بن کر حج پر جانا جائز نہیں ہے۔ طواف میں عورتوں کے لیے رمل کرنا مسنون نہیں ہے۔ طواف کے دوران اگر عورت کو حیض آ جائے تو طواف کو وہیں موقوف کر دیں اور پاک ہونے کے بعد طواف کا اعادہ کریں۔ دورانِ سعی اگر ماہواری آجائے تو ایسی حالت میں سعی مکمل کر سکتی ہے۔ کھول کر حج کا احرام باندھ لے اور حج کے بعد ایک عمرہ کی قضاکرے اور پہلا والا احرام بغیر عمرہ کیے کھول دینے کی وجہ سے ایک دم بھی دینا لازم ہوگا اور اس کا حج حج افراد ہوگا ،تمتع نہ ہوگا۔ حیض کا خون عورتوں کے لیے قدرت کا مقرر کردہ غیر اختیاری عذر ہے۔ اس لیے اس کے جاری ہونے سے دل برداشتہ نہ ہونا چاہیے بلکہ اس پر راضی رہے، لیکن پھر بھی کسی عورت نے حیض روکنے کے لیے دوا استعمال کرلی اور اُس سے خُون رک جائے تو عورت کو پاک ہی سمجھا جا ئےگا اور اس حالت میں طواف جائز ہے۔ مگر ایسا کرنا صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ اگر حج کے بعد وہ فوراً واپسی کا وقت ہے اور عورت نے ابھی تک حیض کی وجہ سے طواف زیارت نہیں کیا تو پاک ہونے تک رُک جانا لازم ہے اس لیے کہ طواف زیارت کے بغیر حج ہی صحیح نہ ہوگا۔ اور اگر عورت اسی حالت میں طواف کر لے گی تو اُس کا طواف ہو تو صحیح ہو جائےگا مگر ساتھ میں اُس پر ایک گائے یا اونٹ کی قربانی بھی واجب ہو جائےگی۔19۔ بغیرمحرم شرعی یا بغیر شوہر کے عورت کے لیے سفر حج پر جانا جائز نہیں اگر جائے گی تو اُس کا فریضہ حج تو ادا ہو جائے گا مگر وہ عورت گنہگار ہو جائےگی ۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  • انوارِمناسک از مولانا شبیر احمد قاسمیؔ مرادابادی
  • آسان طریقئہ حج و عمرہ از مولانا امیراحمدقاسمیؔ بہرائچی0مطبوعہ 2015 تیسرا ایڈیشن 1436ہجری