حد قذف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

حد کے معنی[ترمیم]

حد کی جمع حدود ہے اس آڑ اور روک کو کہتے ہیں جو دو چیزوں کو ملنے سے روکے[1] وہ سزا جو شریعت اسلامی کے موافق دی جائے حد کہلاتی ہے(فرہنگ آصفیہ) جب کوئی جرم کرتا ہے تو اس میں وہ اللہ کی نافرمانی بھی کرتا ہے اور کسی دوسرے انسان کا نقصان بھی کرتا ہے۔ اب اگر اس جرم میں اللہ کی معصیت اور اس کی نافرمانی کا حصہ زیادہ ہے تو اس پر جو سزا دی جاتی ہے اس کو حد کہتے ہیں‘ جس کی جمع حدود ہے۔ یہ حدود چار ہیں۔ حد زنا‘ حد سرقہ‘ حد قذف اور حد خمر[2]

قذف کے معنی[ترمیم]

قذف کے اصلی معنی تیر کو دور پھینکنا،پھر تیر کی شرط ختم کرکے مطلق پھینکنے ڈالنے اور اتارنے کے معنی میں استعمال کیا جانے لگا،جبکہ مجازاًگالی دینے اور تہمت زنا لگانے اور کسی کو عیب لگانے سے منسوب کیا جانے لگا۔[1] ایک اسلامی فقہی عدلیہ سے متعلقہ اصطلاح، کسی پر زنا کی تہمت لگائی اور گواہوں سے ثابت نہ کر سکا اس وجہ سے تہمت لگانے والے کو جو سزا دی جاتی ہے وہ حدِ قذف کہلاتی ہے۔[3] قرآن میں ہے

اور جو پارسا عورتوں کو عیب لگائیں پھر چار گواہ معائنہ کے نہ لائیں تو انہیں اسّی کوڑے لگاؤ اور ان کی گواہی کبھی نہ مانو اور وہی فاسق ہیں۔[4]

قذف کی سزا[ترمیم]

اس کی سزا اسی کوڑے ہے اور مستقبل میں کسی معاملے میں ان کی گواہی مقبول نہیں۔

قرآن میں[ترمیم]

قرآن ميں سورۂ نور کی آیت چار میں اس کی سزا کا بیان ہوا ہے۔ اگر قرآن میں کسی غلطی کی سزا مقرر کی گئی ہو تو وہ اسلامی اصطلاح میں حد کہلاتی ہے۔ اس لیے اس کو بھی حد قذف کہا جاتا ہے۔ سورۂ نور میں اس کے بارے واضح سزا مقرر ہے۔

اور جو پارسا عورتوں کو عیب لگائیں پھر چار گواہ معائنہ کے نہ لائیں تو انہیں اسّی کوڑے لگاؤ اور ان کی گواہی کبھی نہ مانو اور وہی فاسق ہیں۔[4]

لیکن حد تب ہی جاری کی جا سکتی ہے، جب مجرم و جرم عین قرآن میں پیش کردہ حکم پر پورے اترتے ہوں، جیسے اس آیت میں پاک دامن عورت کا لفظ صراحت سے آيا ہے، اب اگر کوئی ایسی عورت پر الزام لگا دیتا ہے جو اس سے پہلے زنا کا فعل کرتی رہی ہو، مگر ثابت نہ کر سکا تو اس پر قذف نہیں کیونکہ نے کسی پاک دامن عورت پر الزام نہیں لگایا۔

حدیث میں[ترمیم]

فقہ میں =[ترمیم]

حد قذف سے اختلاف[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب لغات القرآن،محمد عبد الرشید نعمانی، مکتبہ حسن سہیل لاہور
  2. تفسیر روح القران۔ ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی،المائدہ،33
  3. تفسیر نعیمی، سورہ نور، ص 17
  4. ^ ا ب ترجمہکنزالایمان ، سورہ نور، آیت 4