حرام جانور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

حرام جانور اس جانور کو کہا جاتا ہے جس کو کھانا منع اور شریعت میں حرام ہو۔ اسلامی شریعت میں بھی کچھ جانور حرام جانور کہلاتے ہیں۔

قرآن میں حکم حرمت[ترمیم]

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالْدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلاَّ مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ ۔۔۔o
(قرآن: سورۃ المائدہ:3)
’’تم پر
مردار (یعنی بغیر ذبح کیے مرنے والا جانور) حرام کر دیا گیا ہے اور
(بہایا ہوا) خون اور
سؤر کا گوشت اور
وہ (جانور) جس کو غیر اللہ (کی تعظیم و خوشنودی) کے لیے نامزد کر دیا گیا ہو اور
گلا گھٹ کر مرا ہوا (جانور) اور
(دھار دار آلے کے بغیر کسی چیز کی) ضرب سے مرا ہوا اور
اوپر سے گر کر مرا ہوا اور
(کسی جانور کے ) سینگ مارنے سے مرا ہوا اور
وہ (جانور) جسے درندے نے پھاڑ کھایا ہو (ان میں سے ) سوائے اس کے جسے (مرنے سے پہلے) تم نے ذبح کر لیا اور
(وہ جانور بھی حرام ہے) جو باطل معبودوں کے تھانوں (یعنی بتوں کے لیے مخصوص کی گئی قربان گاہوں) پر ذبح کیا گیا ہو ۔۔۔

سنت میں حرمت[ترمیم]

عن جابر قال : حرم رسول الله صلى الله عليه و سلم يعني يوم خيبر الحمر ولحوم البغال وكل ذي ناب من السباع وذي مخلب من الطير
( سنن الترمذي : 1478 ) .
ترجمہ : حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر پالتو گدھا اور خچر کا گوشت، ہر کچلی دانت والا (کچلی اس دانت کو کہتے ہیں جو سامنے کے چار دانتوں کے بعد بھالے کی شکل میں نوکیلا ہوتا ہے اس دانت کو کیلا بھی کہتے ہیں) جانور اور ہر پنجے سے شکار کرنے والے پرندے کو حرام قرار دیا ۔

تقسیم بندی[ترمیم]

کچھ حرام جانور نجس بھی ہوتے ہیں اور کچھ جانور پاک تو ہیں لیکن ان کو کھانا حرام ہے۔ حرام جانوروں کی پانچ قسمیں ہیں۔
1-چوپائے 2-رینگنے والے جانور 3- دریائی جانور 4- پرندے 5- حشرات (کیڑے مکوڑے)

چوپائے[ترمیم]

چوپائے دو قسم کے ہیں۔
1۔ گوشت خور 2۔ سبزی خور
گوشت خور جانوروں میں کچھ درندے ہیں جنہیں السَّبُعُ (سورۃ المائدۃ 5:3) کہا جاتا ہے، یہ جانورصرف گوشت کھاتے ہیں، کچھ گوشت خورشکار کرنے کے کام بھی آتے ہیں انہیں الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِيْنَ (سورۃ النساء 6:4) کہا جاتا ہے۔ سبزی خور جانوروں کو الانعام (سورۃ یونس 24:10 وغیرہ) کہا جاتا ہے۔ یہ جانور چرندے ہیں یعنی گوشت نہیں کھاتے بلکہ سبزہ یا چارہ کھاتے ہیں۔ انگریزی میں اس سپیشز کو herbivore کہا جاتا ہے۔

فقہ جعفری[ترمیم]

فقہ حنبلی[ترمیم]

فقہ حنفی[ترمیم]

فقہ شافعی[ترمیم]

فقہ مالکی[ترمیم]

رینگنے والے جانور[ترمیم]

فقہ جعفری[ترمیم]

فقہ حنبلی[ترمیم]

فقہ حنفی[ترمیم]

فقہ شافعی[ترمیم]

فقہ مالکی[ترمیم]

دریائی جانور[ترمیم]

فقہ جعفری[ترمیم]

فقہ حنبلی[ترمیم]

فقہ حنفی[ترمیم]

فقہ شافعی[ترمیم]

فقہ مالکی[ترمیم]

پرندے[ترمیم]

فقہ جعفری[ترمیم]

فقہ حنبلی[ترمیم]

فقہ حنفی[ترمیم]

فقہ شافعی[ترمیم]

فقہ مالکی[ترمیم]

حشرات[ترمیم]

فقہ جعفری[ترمیم]

فقہ حنبلی[ترمیم]

فقہ حنفی[ترمیم]

فقہ شافعی[ترمیم]

فقہ مالکی[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]