حزین لاہیجی
ظاہری ہیئت
محمدعلی بن ابو طالب متخلص بہ حَزین المعروف شیخ علی حزین 1103 ہجری میں اصفهان میں پیدا ہوئے۔ آپ شیخ زاہد گیلانی کی اولاد سے تھے۔
حزین لاہیجی سبک ہندی کے آخری شاعر تھے۔ ان کی تصانیف میں تذکرہ شعرا، دیوان اشعار، صفیر دل ،حدیقہ ثانی تذکارات العاشقین شامل ہیں۔
آپ کا یہ شعر مشہور ہے:
؎ای وای بر اسیری کز یاد رفته باشد
در دام مانده باشد صیاد رفته باشد،
وفات
[ترمیم]حزین لاہیجی 1146ق میں هندوستان آئے۔ اور 1181ق میں بنارس میں وفات پائ اور وہیں دفن ہوئے۔
حواله جات
[ترمیم]زمرہ جات:
- 1692ء کی پیدائشیں
- 1766ء کی وفیات
- اصفہان کی شخصیات
- ایرانی شعراء
- ایرانی مصنفین
- اٹھارہویں صدی کی ایرانی شخصیات
- فارسی زبان کے شعرا
- فارسی شعرا
- لاہیجان کی شخصیات
- مغلیہ سلطنت میں ایرانی تارکین وطن شخصیات
- اٹھارویں صدی کے ایرانی شعرا
- اصفہان کے مصنفین
- صفوی خاندان
- فارسی زبان کے ہندوستانی شعراء
- ایرانی مرد شعرا
- ایرانی مرد مصنفین
- فارسی شخصیات