مندرجات کا رخ کریں

حسرت جے پوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
حسرت جے پوری
معلومات شخصیت
پیدائش 15 اپریل 1922ء [1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جے پور   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 17 ستمبر 1999ء (77 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ممبئی   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت برطانوی ہند (–14 اگست 1947)
ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–26 جنوری 1950)
بھارت   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فنکارانہ زندگی
پیشہ غنائی شاعر ،  نغمہ نگار ،  شاعر ،  مصنف   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان ہندوستانی   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ویب سائٹ
IMDB پر صفحہ[2]  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

حسرتؔ جے پوری (15 اپریل 1922ء – 17 ستمبر 1999ء) بھارتی شاعر تھے جو اردو زبان میں لکھتے تھے۔ وہ 15 اپریل 1922ءکو راجستھان کے جے پور شہر میں پیدا ہوئے۔ حسرت کا اصل نام اقبال حسین تھا۔ وہ بالی وڈ فلموں کے مشہور و معروف گیت کار تھے اور انھیں بہترین گیت کار کے لیے 1966ء اور 1972ء میں فلم فیئر اعزازات سے نوازا۔

ابتدائی زندگی

[ترمیم]

اقبال حسین حسرت جے پوری جے پور پیدا یدا ہوئے، جہاں حسرت نے درمیانی درجے تک کی انگریزی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اپنے نانا فدا حسین فدا[3] جو ایک شاعر تھے، سے اردو اور فارسیکی تعلیم حاصل کی۔ حسرت نے تقریباََ 20 سال کی عمر میں شاعری شروع کی۔ اسی زمانے میں انھیں رادھا نام کے ایک پڑوسی لڑکی سے عشق بھی ہوا۔ حسرت نے بعد میں ایک انٹرویو میں اس لڑکی کے نام لکھا محبت نامے کے بارے میں کہا ہے کہ میرا عشق خاموش انداز کا تھا، لیکن میں نے ایک نظم اس کے لیے لکھی کہ یہ میرا پریم پتر پڑھ کر کہ تم ناراض نہ ہونا۔ فلمی تخلیق کار راج کپور کو یہ نظم بہت پسند آئی اور اپنی فلم سنگم (1964ء) میں اس گانے کو شامل کیا جو بہت مشہور ہوا۔

پیشہ ورانہ زندگی

[ترمیم]

1940ء میں وہ بمبئی آئے اور ذریعہ معاش کے لیے گیارہ روپے ماہانہ تنخواہ پر بس کنڈیکٹر کے طور کام شروع کیا۔ ساتھ ہی ساتھ وہ مشاعروں میں شرکت کیا کرتے تھے۔ پرتھوی تھیٹر کے ایک مشاعرے میں پرتھوی راج کپور نے اپنے بیٹے سے ان کی سفارش کی جو شنکر جے کشن کی موسیقار جوڑی کے ساتھ فلم برسات بنانے کی تیاری کر رہے تھے۔ برسات 1949ء کے لیے حسرت جے پوری نے پہلا سولو نغمہ ’’جیا بے قرار ہے، چھائی بہار ہے ‘‘ اور پہلا ڈوئیٹ نغمہ’’ چھوڑ گئے بالم ،مجھے ہائے اکیلا چھوڑ گئے ‘‘ لکھا تھا۔

گیت کار شلیندر کے ساتھ نغمہ نگار حسرت جے پوری نے راج کپور کے لیے 1971ء تک گیت لکھے۔ شلیندر کی موت اور ’’میرا نام جوکر ‘‘ اور ’’کل آج اور کل ‘‘کی ناکامی کے بعد راج کپور نے دیگر موسیقاروں اور گیت کاروں کی خدمت حاصل کرنا شروع کر دی۔ راج کپور فلم پریم روگ کے ذریعے حسرت صاحب کو واپس لینا چاہتے تھے مگر قرعہ فال امیر قزلباش کے نام نکلا،لیکن ’’رام تیری گنگا میلی ‘‘ میں راج کپور نے حسرت کو ایک گیت لکھنے کو کہا اور اس فلم کے لیے حسرت نے’’ سن صاحبہ سن پیار کی دھن ‘‘ نغمہ لکھا جو اس فلم کا سب سے زیادہ مقبول گیت ثابت ہوا۔ گیت کار شلیندر ’’تیسری قسم ‘‘نامی فلم پروڈیوس کی تب انھوں نے اس فلم کے گیت حسرت سے لکھوائے۔ حسرت نے 1951ء کی فلم ’’ہلچل‘‘ کے منظرنامے بھی لکھے تھے۔ بطور نغمہ نگار ان کی آخری فلم ’’ہتیہ :دی مرڈر‘‘ 2004ء تھی۔

منتخب فہرست کے گانے، نغمے

[ترمیم]

حسرت جے پوری نے یادگار ہندی فلموں برسات، داغ، آہ، انارکلی، بوٹ پالش، چوری چوری، یہودی، جنگلی، ہمراہی، دل ایک مندر، میرے حضور، گمنام، جانور، میرا نام جوکر وغیرہ کے لیے گیت لکھے۔ ان کے لکھے مقبول گیتوں میں ’جیا بے قرار ہے چھائی بہار ہے ‘، ’چھوڑ گئے بالم‘، ’اب میرا کون سہارا‘، ’بچھڑے ہوئے پردیسی‘، ’آج کل ریتے میرے پیار کے چرچے ‘، ’بدن پہ ستارے لپیٹے ہوئے ‘، ’دل کا بھنور کرے ‘، ’احسان تیرا ہوگا مجھ پر‘، ’بہاروں پھول برساؤ‘، ’زندگی اک سفر ہے سہانہ‘، ’دل کے جھرونکوں میں تجھ کو‘، ’اکیلے اکیلے کہاں جا رہے ہو‘، ’جانے کہاں گئے وہ دن‘، ’آجا صنم مدھر چاندنی میں ہم ‘، ’تم سے اچھا کون ہے ‘، ’سن صاحبا سن پیار کی دھُن‘، ’پردے میں رہنے دو‘، ’اک گھر بناؤں گا‘، ’تجھے جیون کی ڈور سے ‘، ’کون ہے جو سپنوں میں آیا‘، ’تیری پیاری پیاری صورت کو‘، ’سو سا ل پہلے مجھے تم سے پیار تھا‘، ’یہ میرا پریم پتر پڑھ کر‘، ’تم نے پکارا اور ہم چلے آئے ‘، ’دنیا بنانے والے ‘، ’تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤ گے ‘، ’گمنام ہے کوئی بدنام‘، ’جانے جہ نظر پہچانے جگر‘، ’اے گل بدن‘، ’آجا رے اب میرا دل پکارے ‘، ’پنکھ ہوتے تو اڑ جاتی‘، ’ہے نہ بولو بولو‘، ’ب دردی بالما تجھ کو‘، ’آروز دے کے ہمیں تم بلاؤ‘، ’اک بے وفا سے پیار کیا‘، ’میں کا کروں رام مجھے بڈھا‘، ’آجا تجھ کو پکارے میرے گیت‘، ’برسات م،یں جب آئے گا ساون کا مہینہ‘ وغیرہ شامل ہیں۔[4][5]

گانے کا عنوان فلم نوٹ
جیا بے قرار ہے برسات پہلے سے ریکارڈ گیت
چھوڑ گئے بالم ،مجھے ہائے اکیلا چھوڑ گئے برسات سب سے پہلے یوگل نغمہ
زندگی اک سفر ہے سہانا انداز
تیری پیاری پیاری صورت کو سسرال چندہ جے پوری کے لیے خاص طور پر کے لیے لکھا
پنکھ ہوتی تو اڑ آتی رے' سہرا
تیرے خیالوں میں ہم' گیت گیا پتھروں نے
احسان تیراہوگا مجھ پر جنگلی
تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤ گے پگلا کہیں کا
سایونارا سایونارا لو ان ٹوکیو
دنیا بنانے والے تیسری قسم
سن صاحبہ سن پیار کی دھن رام تیری گنگا میلی
بدن پہ ستارے لپٹے ہیو پرنس حوصلہ افزائی کے لیے یہ لکھنے کے گیت پر ایک عورت کو دیکھ کر میں ملبوس ایک ساڑھی کے ساتھ studded درخشندہ ستاروں میں پیرس
یہ میرا پریم خط پڑھ کر سنگم لکھا جب وہ محبت میں گر گیا کے ساتھ ایک ہندو لڑکی کا نام رادھا
بول رادھا بول سنگم ہو گا کہ نہیں سنگم گذشتہ کی طرح گیت اس گیت کا ذکر اس کے پریمی رادھا کی طرف سے نام۔ یہ گیت بھی لکھا جائے کے لیے ہندو لڑکی رادھا۔

شاعری

[ترمیم]

حسرت جے پوری نے شاعری کی کئی کتابوں کو ہندی اور اردو میں لکھا ہے۔ حسرت نے ایک بار کہا، "ہندی اور اردو دو عظیم اور لازم و ملزوم بہنوں کی طرح ہیں"۔[3]

ذاتی زندگی

[ترمیم]

حسرت جے پوری نے اپنی بیوی کے مشورہ۔ اپنی آمدنی کی سرمایہ کاری جائداد پر کی ان کی خصوصیات، حسرت کی مالی حالت بہتر تھی۔

انتقال

[ترمیم]

حسرت کا انتقال 17ستمبر1999ء میں ہوا۔

اعزازات

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ^ ا ب مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb16920212h — بنام: Hasrat Jaipuri — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. میوزک برینز آرٹسٹ آئی ڈی: https://musicbrainz.org/artist/e1331143-a3c5-40da-97be-de5f05d690f9 — اخذ شدہ بتاریخ: 16 ستمبر 2021
  3. ^ ا ب "Hasrat Jaipuri"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2006-11-19
  4. انٹرنیٹ مووی ڈیٹابیس (IMDb) پر حسرت جے پوری
  5. حسرت جے پوی کے 100 مقبول گیت۔ یوٹیوب پر
  6. Awards IMDB
  7. "List of Filmfare Award Winners and Nominations, 1953-2005" (PDF) (بزبان انگریزی). Archived from the original (PDF) on 2009-06-12. Retrieved 2016-05-11.