حسن اکبر کمال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پروفیسر سید حسن اکبر کمال
پیدائش 14 فروری 1946(1946-02-14)ء
آگرہ، برطانوی ہندوستان
وفات 22 جولائی 2017ء
کراچی، پاکستان
قلمی نام کمال
پیشہ معلم، ماہرِ تعلیم ، دانشور ، شاعر
زبان اردو
شہریت Flag of پاکستانپاکستانی
تعلیم ایم اے (انگریزی)
مادر علمی کراچی یونیورسٹی
اصناف غزل گوئی، تحقیق
موضوع ادبیات

پروفیسر حسن اکبر کمال پاکستان کے نامور شاعر، نقاد، معلم اور ماہرِ تعلیم تھے۔

حالاتِ زندگی[ترمیم]

سیدحسن اکبر 14 فروری 1946ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام سیّد ثابت حُسین تھا ۔[1] تقسیم ہند کے فوراً بعد ان کے والدین پاکستان آ گئے۔ ان کے والدریلوے میں اپنی ملازمت کے سبب ملک کے مختلف علاقوں میں رہے۔ بقول حسن اکبرکمال انہوں نے بہاولپور، خان پور، نوشکی اور سکھر جیسے علاقوں میں قدرت کے نظاروں کو بہت قریب پایا جس سے شاعری کے ذوق کو مہمیز ملی اور چودہ پندرہ برس کی عمر سے شاعری شروع کر دی۔ اسکول اور کالج کی تعلیم کے بعد انہوں نے انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔ اور تدریس سے وابستہ ہو گئے۔ گورنمنٹ کالج، رحیم یارخاں، گورنمنٹ اسلامیہ کالج، سکھر اور گورنمنٹ دہلی کالج، کراچی کے شعبہ انگریزی میں تدریس کے فرائض انجام دیے۔1970ء میں انہیں پی ٹی وی کے لیے پروڈیوسر کی پوسٹ کی آفر بھی ہوئی تاہم انہوں نے تب تک دہلی کالج، کراچی میں لیکچرر شپ جائن کر لی تھی ۔[2] جہاں سے وہ 2006 میں شعبہ انگریزی کے ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔

تصانیف[ترمیم]

وہ غزل، گیت نگاری اورنعت، سلام و منقبت نگاری میں یک ساں دستر س رکھتے تھے۔ نام سید حسن اکبر اور تخلص کمال تھا ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:

  1. التجا(حمدونعت)
  2. سخن
  3. خزاں میرا موسم(شعری مجموعہ)
  4. جہانِ عشق(شعری مجموعہ)
  5. خوشبو جیسی بات کرو(نظموں اور گیتوں کا مجموعہ)
  6. کمال کے مضامین(تأثراتی تنقید)

بچوں کے لیے چند ناول بھی لکھے۔

  1. رستم خاں
  2. آدم خوروں کا جزیرہ
  3. چاچا خیرو
  4. ملاح کا بھوت

اعزاز ات[ترمیم]

پاکستان رائٹرز گلڈ نے ان کے شعری مجموعے خزاں میرا موسم پر 1980 میں   انہیں آدم جی ادبی انعام عطا کیا تھا۔

نمونہِ کلام[ترمیم]

شعر

کمال بادِ خزاں اوڑھ کے ہیں خوابیدہ
وہ پیڑ جن کو نئی کونپلوں کی حسرت تھی

نظم

کوئی خوشبو جیسی بات کرو ، کوئی بات کرو
بارش نے دریچے پہ آکےدستک دی ہے ہر سُو بھیگے پیڑوں کی خوشبو پھیلی ہے
تم کوئی انوکھی بات کرو ، کوئی بات کرو
ہے سونا بن کے پھیلی دھوپ نظاروں پر وہ چاندی جیسی برف جمی کوہساروں پر
تم کوئی سُہانی بات کرو ، کوئی بات کرو
ساحل پہ کہیں جب لہریں جھاگ اڑاتی ہوں جب رنگیں بہاریں پھولوں کو لہراتی ہوں
کوئی میٹھی پیاری بات کرو ، کوئی بات کرو
پھیلی ہو فضا میں خون کی بو ، بارود کی بولوگ اپنے پرائے غم میں بہاتے ہوں آنسو
دل تھامنے والی بات کرو ، کوئی بات کرو

٭٭٭

گمنام شہید کا کتبہ

سپہ گر

اے شہید حرمت ارض وطن

تیرا لہو بنیاد میں ہے

ایسی نادیدہ فصیلوں کی

جو ہر جانب

وطن کی سرحدوں پر

دشمنوں کی راہ میں حائل رہیں گی

تیری مرگ بے نشاں سے

ہو گیا دائم نشاں تیرے وطن کا

تو رہا گمنام

لیکن تا قیامت نام تیری سر زمیں کا

یاد رکھا جائے  گا[3]

گیت نگاری[ترمیم]

ان کی شاعری میں سے پی ٹی وی پر پیش کردہ ان گیتوں کوبھی بہت شہرت ملی ۔[4]

  1. ہم ہیں پاکستانی، ہم تو جیتیں گے ہاں جیتیں گے
  2. کبھی تم ادھر سے گزر کر کے تو دیکھو
  3. ہے تیرا کرم مولا
  4. کوئی خوشبو جیسی بات کرو

وفات[ترمیم]

پروفیسر حسن اکبر کمال 22 جولائ2017 کی رات کو کراچی میں وفات پا گئے ۔

حوالہ جات[ترمیم]