حسن بن عدی
| حسن بن عدی | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | سنہ 1196ء حکاری |
| وفات | سنہ 1246ء (49–50 سال) لالش |
| والد | عدی بن ابی برکات |
| بہن/بھائی | |
| درستی - ترمیم | |
شیخ ابو محمد حسن شمس الدین بن عدی بن صخر بن مسافر اموی یزیدیوں کا ایک بزرگ اور ان کے نزدیک مقدس شخصیت شمار ہوتے ہیں۔ انھیں ایک نئی مذہبی تحریک عدویہ (Adawiyya) کی بنیاد رکھنے والا بھی کہا جاتا ہے۔ ان کی ولادت 1196ء میں بلاد ہکاریہ (شمالی عراق و ترکی کی سرحدی پہاڑی علاقے) میں ہوئی اور 1246ء میں منگولوں نے انھیں قتل کر دیا۔[1]
ابتدائی زندگی اور تعلیم
[ترمیم]انھوں نے اپنے والد عدی بن صخر کی جگہ سنبھالی، جنہیں بھی تقریباً 1221ء–1222ء کے درمیان منگولوں نے قتل کیا تھا۔ شیخ حسن نے اپنے والد سے علم حاصل کیا اور اپنی غیر معمولی ذہانت و فہم کی بدولت بہت سے کردوں کو اپنی طرف مائل کیا۔ ابتدائی تعلیم انھوں نے مشہور صوفی شیخ محی الدین ابن عربی سے حاصل کی، جو اُس وقت موصل میں مقیم تھے (1204ء کے قریب)۔
انھوں نے ابن عربی سے شدید اثر قبول کیا اور 1211ء میں ان کے ساتھ شام گئے تاکہ ان کے زیرِ نگرانی فلسفہ، الٰہیات اور تصوف کی تعلیم مکمل کر سکیں۔[2]
دینی مقام اور اثر
[ترمیم]1213ء میں وہ واپس موصل آئے، جہاں انھوں نے تعلیم و تبلیغ شروع کی۔ وہ نہایت فصیح اللسان، عربی و کردی دونوں زبانوں پر عبور رکھنے والے، قوی استدلال اور اثر انگیز خطیب تھے۔ انھوں نے بہت جلد عوام و خواص کے دل جیت لیے اور یزیدیوں سمیت عام لوگوں میں ایک دینی مرجع کی حیثیت اختیار کر لی۔ ان کی مقبولیت نے حکومت کی توجہ بھی اپنی طرف مبذول کر لی۔
ایزیدی مذہب میں انھیں سات الٰہی ہستیوں میں شمار کیا جاتا ہے اور ان کے مقدس متن مصحف رش میں ان کا نام “دردائيل” کے طور پر درج ہے، جو سات خداؤں میں دوسرا مانا جاتا ہے۔[3]
تعلیمات اور تصانیف
[ترمیم]بعد ازاں شیخ حسن نے اپنی مذہبی تعلیمات کی تبلیغ کے لیے اپنے مریدوں کو جزیرہ اور پہاڑی علاقوں میں بھیجا۔ خود وہ چھ برس تک خلوت میں رہے۔ اس دوران شیخ فخر الدین ان کی تعلیمات اور احکام کو لوگوں تک پہنچاتے رہے۔ انہی ایام میں ان سے کئی کرامات منسوب کی گئیں اور ان کے بارے میں اساطیری داستانیں پھیل گئیں۔.[4]
خلوت سے واپسی پر انھوں نے تین اہم کتابیں تصنیف کیں:
1. کتاب الجلوة لأرباب الخلوة
2. محك الإيمان
3. هداية الأصحاب
ان کتابوں میں ایزیدی مذہب کی فلسفیانہ بنیادیں، صوفیانہ رموز اور اللہ کی ذات سے عشق کے مضامین شامل تھے۔ بدقسمتی سے یہ تمام تصانیف، دیگر ایزیدی علمی ورثے کی طرح، بعد کے حملوں اور تباہیوں کے باعث نابود ہو گئیں۔[5]
کتابیات
[ترمیم]- كتاب الأيزيدية حقائق وخفايا وأساطير تأليف زهير كاظم عبود
- كتاب اليزيديون في حاضرهم وماضيهم تأليف عبد الرزاق الحسني
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Roger Lescot (1975)۔ Enquête sur les Yézidis de Syrie et du Djebel Sindjâr۔ Beirut: Librairie du Liban۔ ص 34
- ↑ د. خليل جندي: الشيخ حسن بن آدي الثاني و الشيخ فخرالدين بين التاريخ المكتوب والشفاهي؟ آرکائیو شدہ 2020-04-13 بذریعہ وے بیک مشین [مردہ ربط]
- ↑ Philip G. Kreyenbroek; Khalil Jindy Rashow; Khalīl Jindī (2005). God and Sheikh Adi are Perfect: Sacred Poems and Religious Narratives from the Yezidi Tradition (بزبان انگریزی). Wiesbaden: Otto Harrassowitz Verlag. p. 4. ISBN:978-3-447-05300-6.
{{حوالہ کتاب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: سال اور تاریخ (link) - ↑ Roger Lescot (1975)۔ Enquête sur les Yézidis de Syrie et du Djebel Sindjâr۔ Beirut: Librairie du Liban۔ ص 34–36
- ↑ سانچہ:Literatur "نسخة مؤرشفة"۔ اصل سے آرکائیو شدہ بتاریخ 6 فبراير 2018۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 أبريل 2020
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ رسائی=و|آرکائیو تاریخ=(معاونت)اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: BOT: original URL status unknown (link)