حسن جان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حسن جان
حسن جان

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1938  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 2007 (68–69 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
جماعت جمیعت علمائے اسلام  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
تلمیذ خاص مولانا فضل الرحمٰن  ویکی ڈیٹا پر شاگرد (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
ستارہ شجاعت  ویکی ڈیٹا پر وصول کردہ اعزازات (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مولانا حسن جان مدنی، خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے مشہور عالم دین، مسجد درویش اور جامعہ امداد العلوم کے سربراہ تھے۔ 5 جنوری 1938ء کو چارسدہ کے علاقہ پڑانگ یاسین زئی میں پیدا ہونے والے حسن جان زندگی میں وہ شخصیت بننے میں کامیاب ہو گئے جن کی شخصیت سے انکار ان کی زندگی میں بھی کسی کو کرنے کی جرأت نہ ہو سکی۔

دینی تعلیم[ترمیم]

دارالعلوم نعمانیہ اتمانزئی میں ابتدائی دینی تعلیم حاصل کی، پھر جامعہ اشرفیہ لاہور چلے گئے۔ 1957ء کے بعد مولوی عالم اور مولوی فاضل کی سند حاصل کی۔ 1971ء میں جامعۂ پشاور سے ایم.اے اسلامیات میں گولڈ میڈل حاصل کیا اور صدارتی ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ مولانا حسن جان اُن 18 طلبہ میں سے تھے جنہیں سب سے پہلے مدینہ یونیورسٹی میں پاکستان کی طرف سے طالب علمی کا شرف حاصل ہوا۔ چونکہ مدینہ یونیورسٹی کا قیام صرف 6 ماہ پہلے ہوا تھا، اس لیے وہاں پر صرف کلیہ شریعہ کی تعلیم دی جاتی تھی اور باقی شعبے مولانا حسن جان کی واپسی کے بعد قائم ہوئے۔ مولانا حسن جان نے مدینہ میں چار سال قیام کیا۔ اس دوران مسجد نبوی میں قرآن حفظ کیا۔

دنیاوی تعلیم[ترمیم]

مولانا حسن جان نے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی حاصل کی انہوں نے پرائمری تعلیم کے بعد گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 2 بنوں میں 1962ء میں میٹرک کے بعد انہیں دینی تعلیم کے لیے شمالی وزیرستان جانا پڑا۔ اور مدرسہ حسینیہ نورک میں تعلیم حاصل کی۔ جو ایف آر بنوں میں ہے وہاں وہ چھوٹی سی مسجد میں رہتے تھے۔ انہوں نے صرف و نحو کی تعلیم لکی مروت سے حاصل کی بعد میں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں داخلہ لیا۔ بعد میں مدرسہ تعلیم القرآن کوہاٹ سے بھی کچھ تعلیم حاصل کی۔ ضروریات کی بنا پر واپس بنوں چلے گئے اور مدرسہ معراج العلوم میں داخلہ لیا۔ پھر جامعہ اشرفیہ لاہور سے مزید تعلیم حاصل کی۔ بعد میں دورہ حدیث سے فارغ ہوئے اور اسی سال تعلیمی بورڈ لاہور سے عربی فاضل اور پھر اگلے سال ایف اے کا امتحان دیا۔

درس و تدریس[ترمیم]

مولانا حسن جان نے رزق حلال کمانے کے لیے سکول میں بھی درس و تدریس کا پیشہ اپنایا اکبر میموریل کالج مردان میں اسلامیات کے استاد کے لیے انٹرویو ہو رہے تھے تو مولانا نے بھی انٹرویو دیا۔ جلبئی صوابی کے ایک سکول میں ان کی تقرری ہوئی مگر یہاں آ کر انہیں تسلی اس لیے نہیں ہوئی کہ وہ بالغوں کی محفل سے نکل کر بچوں کی مجلس میں آ گئے تھے جس کے بعد ملازمت چھوڑ کر مدرسے کی طرف آ گئے۔

تصانیف[ترمیم]

مولانا حسن جان کئی کتابوں کے مصنف تھے جن میں النظوم الإقتصادي في الدولة الإسلامية، أحسن الخبر في مبادي علم الثر اور مقدمة علوم القرآن قابلِ ذکر ہیں۔ لبنان کے رسالہ اجتماع میں ان کے مقالات وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہتے تھے۔ اسی طرح احسن البیان کے علاوہ سفر نامہ شام عرب ممالک، سفر بیت المقدس اور امام بخاری کے دیس میں بھی ان کے اہم تصانیف میں شامل ہیں۔ ماہنامہ الحق میں بھی ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔

سیاسی خدمات[ترمیم]

دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھنے کی وجہ سے جمیعت العلماء اسلام سے ان کا تعلق رہا۔ 1990ء سے 1993ء تک وہ قومی اسمبلی کے ارکان رہے۔ خان عبدالولی خان ان سے شکست کے بعد ان کی عظمت کو تسلیم کرتے ہوئے سیاست سے کنارہ کش ہو گئے۔ وہ اسلامی نظریاتی کونسل کے ارکان بھی رہے اور مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے ارکان بھی رہے۔ وفاق المدارس پاکستان کے نائب امیر بھی رہے۔ انہوں نے افغانستان، ہندوستان، ازبکستان، ایران، سعودی عرب، لبنان، شام، فلسطین، مصر، جنوبی افریقا اور کینیا سمیت بہت سے ممالک کا سفر کیا۔ 15 مرتبہ حج کی سعادت حاصل کی۔ اس کے علاوہ مولانا ایک معتدل سوچ رکھنے والے عالم دین رہے۔ خودکش دھماکوں کی شدید مخالفت کی اور ان کا کہنا تھا کہ مسلمان کا خون دوسرے مسلمان کے لیے حرام ہے۔

مسجد درویش[ترمیم]

آپ مسجد درویش کے خطیب اور جامعہ امدادیہ العلوم کے سربراہ تھے۔ اس مدرسے اور مسجد نے دین کی اشاعت اور لوگوں کی رہنمائی میں جو اہم کردار ادا کیا ہے اسے کوئی نظرانداز نہیں کر سکتا۔ دین کے لیے اس مدرسے اور مسجد کی خدمات صوبہ سرحد کیا پورے ملک میں قابل تقلید ہیں۔

شہادت[ترمیم]

15 ستمبر 2007ء کو افطاری کے بعد تقریباً سات بجے پشاور کے وزیر باغ کے علاقے میں تین نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر شہید کر دیا۔