حسن طہرانی مقدم
| سردار (آئی آر جی سی) | |
|---|---|
| حسن طہرانی مقدم | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 29 اکتوبر 1959ء تہران، ایران |
| وفات | 19 نومبر 2011ء (52 سال) بید کنہ، تہران |
| طرز وفات | دھماکا ، لڑائی میں ہلاک |
| شہریت | |
| عملی زندگی | |
| مادر علمی | جامعہ شریف برائے ٹیکنالوجی کے این توسی یونیورسٹی آف ٹکنالوجی |
| پیشہ | فوجی افسر |
| پیشہ ورانہ زبان | فارسی |
| عسکری خدمات | |
| شاخ | سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی |
| عہدہ | میجر جنرل |
| لڑائیاں اور جنگیں | ایران عراق جنگ ، انقلاب اسلامی ایران |
| درستی - ترمیم | |
حسن طہرانی مقدم (29 اکتوبر 1959ء – 12 نومبر 2011ء) ایرانی فوجی افسر تھے جو سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی فضائیہ سے وابستہ تھے اور ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے بانی و معمار تصور کیے جاتے ہیں۔
وہ پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے اور ایران کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پروگرام کے بانی تھے۔ انھوں نے شمالی کوریا سے تکنیکی ہنر اور نمونے حاصل کیے تاکہ ایران کی میزائل ٹیکنالوجی کو ترقی دی جا سکے۔ وہ شہاب، قدر اور سجیل میزائلوں کے نمونہ ساز تھے جن کی مار 1،000 سے 2،000 کلومیٹر تک ہے اور جن کا بنیادی ہدف اسرائیل کو قرار دیا جاتا تھا۔
انہی خدمات کی بنیاد پر انھیں ”بابائے ایرانی میزائل پروگرام“ (پدر موشکی ایران) کہا جاتا ہے۔
12 نومبر 2011ء کو وہ تہران سے 25 میل مغرب میں واقع سپاہ پاسداران کے ایک فوجی اڈے پر بیدگنہ دھماکے میں ہلاک ہو گئے۔
حوالہ جات
[ترمیم]- 1959ء کی پیدائشیں
- 29 اکتوبر کی پیدائشیں
- تہران میں پیدا ہونے والی شخصیات
- 2011ء کی وفیات
- 19 نومبر کی وفیات
- ایرانی اسلامی انقلاب کی شخصیات
- ایرانی انسانیت پسند
- ایرانی شیعہ
- میدان جنگ میں فوت ہونے والے عسکری کارکنان
- ایران میں حادثاتی اموات
- افواج ایران
- ایرانی جرنیل
- ایرانی شخصیات
- ایران اسرائیل تعلقات
- سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے بریگیڈیئر جنرل
- سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سردار
