مندرجات کا رخ کریں

حسن طہرانی مقدم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
سردار (آئی آر جی سی)  [دوسری زبانیں]   ویکی ڈیٹا پر  (P511) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
حسن طہرانی مقدم
 

معلومات شخصیت
پیدائش 29 اکتوبر 1959ء   ویکی ڈیٹا پر  (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تہران، ایران   ویکی ڈیٹا پر  (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 19 نومبر 2011ء (52 سال)  ویکی ڈیٹا پر  (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بید کنہ، تہران   ویکی ڈیٹا پر  (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات دھماکا ،  لڑائی میں ہلاک   ویکی ڈیٹا پر  (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت ایران   ویکی ڈیٹا پر  (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ شریف برائے ٹیکنالوجی
کے این توسی یونیورسٹی آف ٹکنالوجی   ویکی ڈیٹا پر  (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ فوجی افسر   ویکی ڈیٹا پر  (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان فارسی   ویکی ڈیٹا پر  (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
شاخ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی   ویکی ڈیٹا پر  (P241) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عہدہ میجر جنرل   ویکی ڈیٹا پر  (P410) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لڑائیاں اور جنگیں ایران عراق جنگ ،  انقلاب اسلامی ایران   ویکی ڈیٹا پر  (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

حسن طہرانی مقدم (29 اکتوبر 1959ء – 12 نومبر 2011ء) ایرانی فوجی افسر تھے جو سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی فضائیہ سے وابستہ تھے اور ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے بانی و معمار تصور کیے جاتے ہیں۔

وہ پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے اور ایران کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پروگرام کے بانی تھے۔ انھوں نے شمالی کوریا سے تکنیکی ہنر اور نمونے حاصل کیے تاکہ ایران کی میزائل ٹیکنالوجی کو ترقی دی جا سکے۔ وہ شہاب، قدر اور سجیل میزائلوں کے نمونہ ساز تھے جن کی مار 1،000 سے 2،000 کلومیٹر تک ہے اور جن کا بنیادی ہدف اسرائیل کو قرار دیا جاتا تھا۔

انہی خدمات کی بنیاد پر انھیں ”بابائے ایرانی میزائل پروگرام“ (پدر موشکی ایران) کہا جاتا ہے۔

12 نومبر 2011ء کو وہ تہران سے 25 میل مغرب میں واقع سپاہ پاسداران کے ایک فوجی اڈے پر بیدگنہ دھماکے میں ہلاک ہو گئے۔

حوالہ جات

[ترمیم]