حسن عباس زیدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حسن عباس زیدی
پیدائش 1922ء

برست، فرید پور، برطانوی ہند
وفات 17 جولائی 2000(2000-07-17)ء

لاہور، پاکستان
قلمی نام حسن عباس زیدی
پیشہ معلم ، شاعر ، سرکاری ملازم
زبان اردو
شہریت Flag of پاکستانپاکستانی
تعلیم بی اے ، ایل ایل بی
مادر علمی علی گڑھ یونیورسٹی

حسن عباس زیدی ( 1922- 2000 )انگریزی ادب کے استاد اور اردو کے مستند شاعر تھے ۔

حالاتِ زندگی[ترمیم]

سید حسن عباس زیدی کی پیدائش 1922میں برست، فرید پور ،برطانوی ہندوستان میں ہوئی۔ والد سید ظفر عباس پولیس میں ملازم تھے۔ ان کا تعلق سادات باہرہ ضلع مظفر نگر یو پی سے تھا۔ سید حسن عباس زیدی اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔ ابتدائی تعلیم کرنال سے ہوئ۔ اس کے بعد علی گڑھ یونیورسٹی سے بی اے، ایل ایل بی کیا۔ علی گڑھ سے فارغ ہونے بعد شیعہ کالج لکھنؤ میں انگریزی کے لیکچرار مقرر ہوئے۔ البتہ تقسیم ہند کے بعد 1950 میں پاکستان آئے اور لاہور میں قیام کیا اور وہاں کے سنٹرل ماڈل ہائ اسکول میں انگریزی کے استاد کی حیثیت سے پڑھایا۔ پانچ برس بعد سرگودھا آ گئے اور ایک ہائ اسکول کے پرنسپل ہوئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد 1986 لاہور منتقل ہو گئے۔[1]

شعر و سخن[ترمیم]

حسن عباس زیدی صاحب نے لکھنؤ کالج میں تدریس کے سلسلہ میں میں قیام کے دوران دیگر شعر وادب کی اہم شخصیات کی صحبت میں شعر کہنے شروع کیے۔ سید حسن عباس زیدی کی دینی۔ مذہبی اور غزل کی شاعری کو سرگودھا میں قیام کے دوران مسلسل مشاعروں میں شرکت سے جلا ملی لیکن لاہور میں اس ادبی ذوق نے فروغ پایااور یہاں خاص طور پر سید وحید الحسن ہاشمی،قیصر بارھوی ،ڈاکٹر آغا سہیل،پروفیسر حسن عسکری کاظمی،مشکور حسین یاد اور متعدد دیگر دوستوں نے ان کے کلام کو سراہا

تصانیف[ترمیم]

  1. خلش دل پہلا مجموعہ 1986 میں سرگودھا سے شائع ہوا ۔
  2. ندائے کربلادوسرا مجموعہ ستمبر 1992 میں لاہور سے شائع ہوا ۔
  3. تجلیاتِ حسن تیسرا مجموعہ 1997 میں لاہور سے ہی شائع ہوا ۔
  4. عزمِ حسین ؑ مرثیہ جو مرثیہ نگارانِ پنجاب کی طرف سے انکی وفات کے بعد شائع ہوا۔
  5. " کلیاتِ حسین " حسن عباس زیدی مرحوم کی شاعری کی کلیات 2005 میں صفدر ہمدانی کی تالیف اور تدوین سے طبع ہوئی۔

حسن عباس زیدی کی شاعری کا خاصہ حصہ دینی اور مذہبی شاعری پر مشتمل ہے۔ جن میں حمد،نعت،منقبت،سلام اور سوز شامل ہیں۔[2]

نمونہِ کلام[ترمیم]

نعتیہ کلام

السلام اے رحمت اللعالمیںالسلام اے قلب شاعر کے مکیں
السلام اے مخزن روحانیتالسلام اے پاسبانِ حُریت
السلام اے پاک و اطہر السلاممالک و مختار کوثر السلام
السلام اے مظہرِ خُلقِ عظیمالسلام اے میرے آقا اور کریم
السلام اے روحِ عالم السلامالسلام اے فخر آدم السلام
نور سے تیرے منور یہ جہاںروشنی تیری زمیں یا آسماں
السلام اے مہرباں حق کے رسول
منفرد ہے باغِ عالم کا تو پھول

مخمس میں منقبت کا بند

زینبؑ بہارِ گلشنِ وحدت کا نام ہےزینبؑ جمالِ نظمِ امامت کا نام ہے
زینبؑ دراصل دین کی عزت کا نام ہے زینبؑ کمالِ حق و صداقت کا نام ہے
زینب ؑ متاعِ صبر و اقامت کا نام ہے

مرثیہ کا بند

جوواقفِ طریقِ ہدایت تھا وہ حسین ؑجو اآشنائے رمزِ امامت تھا وہ حسین ؑ
سالارِ کاروانِ محبت تھا تھا وہ حسین ؑعالم میں رازدارِ حقیقت تھا وہ حسینؑ
وہ جس کے پختہ عزم نے باطل کو مات دی
جس نے اجل سے چھین کے ہم کو حیات دی

وفات[ترمیم]

سید حسن عباس زیدی صاحب جون 2000 میں اچانک اتفاقی طورپر گھر میں ہی گرے۔ جس کی وجہ سے ان کے دماغ میں خون جم گیا اور اس کے لیے فوری آپریشن کرنا پڑا لیکن کامیاب آپریشن کے باوجود چندروز وہ بے ہوشی کی حالت میں رہے۔ اور 17 جولائی 2000 کی صبح وفات پاگئے۔ انہیں لاہور میں ہی فردوسیہ قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

تنقید و آرا[ترمیم]

ان کے سادہ اسلوبِ سخن کو سراہتے ہوئے پروفیسر حسن عسکری کاظمی کہتے ہیں ۔

حسن عباس زیدی کی شاعری میں روایتی انداز کی پاسداری ، مضامین کی یک رنگی اور سادہ و صاف باتیں جا بجا نظر آتی ہیں ۔انکا لب و لہجہ سادہ ، انکی گفتگو قابلِ فہم اور ان کی عقیدت واضع شکل میں قاری کو اپنا ہم نوا بنا لیتی ہے ۔

ڈاکٹر سید شبیہ الحسن ہاشمی نے اس کی تائید ان الفاظ میں کی ہے ۔

مجھے انکے کلام میں سادگی ملتی ہے اور خلوص بھی نظر آتا ہے ۔ انہوں نے اشارے اور کنائے سے ذہنِ انسانی کو تاریخی واقعات کی طرف منعطف کرایا ہے تاکہ مسلمان اپنی تاریخ سے باخبر رہیں ۔اور اپنے ورثے کو یاد رکھیں ۔

سید وحید الحسن ہاشمی نے ان الفاظ میں خراج پیش کیا ہے ۔

حسن عباس زیدی کے احساسات میں تازہ کاری ہے ۔انہوں نے قدامت پسند ہونے کے باوجود اظہارِ بیان کے لیے جن لفظیات کا سہارا لیا وہ جدید لہجے سے قریب تر ہیں ۔مفہوم و معانی کے لحاظ سے بھی ان کے مرثیئے کو جدید مرثیوں کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے ۔مسلم قوم کو للکارنا اور خوابِ غفلت سے جگانا علامہ اقبال سے ہوتا ہوا نجم آفندی اور جوش کا طرہِ امتیاز بن گیا ۔ اور اسی تاثر کے اظہار سے حسن عباس زیدی بھی جدید شعرا کی صف میں شامل ہو گئے ۔

حسن عباس زیدی کے داماد اور شاعرِ آلِ عبا صفدر ہمدانی نے ان کے مرثیے کو جدید مرثیہ میں اضافہ کی دلیل میں کہا ۔

میں نہیں سمجھتا کہ اس عہد میں کوئی بھی مرثیہ لکھنے والا ایک طرف تو جوش کی عظمت سے انکار کرے اور دوسری طرف مرثیہ بھی لکھے ۔ حسن عباس زیدی کے اس واحد مرثیے میں کتنے ہی بند ایسے ہیں جوشعوری نہیں تو لاشعوری طور پر جوش کا تتبع نظر آتے ہیں ۔

حوالہ جات[ترمیم]