حسن علی آفندی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Padlock.svg اس صفحہ کو محفوظ کر دیا گیا ہے؛ استفسارِ وجوہات اور متعلقہ گفتگو کے لیے تبادلۂ خیال کا صفحہ استعمال کریں۔
حسن علی آفندی
معلومات شخصیت
پیدائش 14 اگست 1830  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ہالا، سندھ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 20 اگست 1895 (65 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ ماہر تعلیم  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

بڑا آدمی وہ نہیں جس کے پاس دولت ہو، بلکہ بڑا وہ ہے جو اپنی ذات سے دوسروں کو فائدہ پہنچائے۔ جو اپنی زندگی ملک اور قوم کے لئے بسر کرے حسن علی آفندی کا شمار ایسے لوگوں میں ہوتا ہے۔ سندھ کے جن مشہور بزرگوں نے یہاں مسلمانوں کی بھلائی اور تعلیم کے فروغ کےلیے کام کیا، ان میں حسن علی آفندی کا نام ہمیشہ روشن رہے گا۔

"حسن علی آفندی" 1830ء میںہالا حیدر آباد سندھ کے ایک معزز گھرانے میں میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام میاں محمد احسان آخوند تھا۔ یہ انھی کے کم سن ہی تھے کہ والد وفات پاگئے۔ والد کی وفات کے بعد ان کی پرورش ان کے بڑے بھائی امید علی نے کی بچپن میں قرآن مجید ختم کرنے کے بعد عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی ۔ کچھ دنوں بعد وہ ایک چھوٹے سے قصبے میں بیس روپے ماہوار پر منشی کی حیثیت سے ملازم ہوگئے۔

ملازم ہونے کے بعد انہوں نے انگریزی زبان سیکھنا شروع کی اور بہت جلد اس پر عبور حاصل کر کرلیا۔ کچھ دنوں بعد انہیں نوشہرو فروز کے ڈپٹی کلکٹر کے دفتر میں کلرک کی جگہ مل گئی۔ پھر کراچی آئے اور یہاں ضلع کی عدالت میں سررشتہ دار اور مترجم مقرر ہوئے۔ عدالت سے تعلق کی وجہ سے بہت سے وکیل ان کے دوست بن گئے۔ ان کی صحبت میں رہ کر انھوں نے نجی طور پر قانون کی تعلیم حاصل کی۔ ان کی ذہانت اور قبلیت کو دیکھ کر انگریز جج نے قانون کے امتحان اور اس کی سند کے بغیر ہی انہیں وکالت کرنے کی اجازت دے دی۔

اب وہ کراچی سے اپنے پرانے شہر حیدر آباد آئے اور وکالت شروع کی۔ اس زمانے میں سندھ میں زیادہ تر وکیل ہندو تھے۔ چنانچہ جیسے ہی حسن علی آفندی نے وکالت شروع کی مسلمان اپنے مقدمے ان کے پاس لانے لگے۔ چوں کہ محنتی اور ذہیں تھے۔اس لیے تھوڑے ہی دنوں میں ان کی شہریت چاروں طرف پھیل گئی۔ وکالت کے ساتھ ساتھ حسن علی آفندی ملک اور قوم کی بھلائی کے لئے بھی کام کرنے تھے۔ انھیں تمام مسلمانوں سے سچی ہمدردی اور محبت تھی۔ "ترکی" اور "روس" کی "جنگ" کے زمانے میں انھوں نے ترکوں کی مالی امداد کے لئے چندہ جمع کیا۔ اور حد سے زائد مالی مدد دی۔ ترکی کی حکومت نے ان کا شکریہ ادا کیا اور "آفندی" کا ختاب اور تمغا دیا۔ " آفندی" ترکی زبان میں "سردار" کو کہتے ہیں ۔

حسن علی آفندی کا سب سے بڑا کارنامہ "جامعہ سندھ مدرستہ الاسلام" کا قائم کرنا ہے۔ اس زمانے میں سندھ کے مسلمانوں کے لئے انگریزی تعلیم کامناسب انتظام نہ تھا۔ اسکول اور کالج زیادہ تر ہندوؤں کے تھے۔ حسن علی آفندی نے سندھ میں مسلمانوں کو جدید تعلیم کی دولت سے مالامال کرنے کے لیے ایک انجمن بنائی۔ ان کا خیال تھا کہ جب تک مسلمان جدید انگریزی تعلیم حاصل نہ کریں گے ، نہ صرف اعلی ملازمتوں کے دروازے ان پر بند رہیں گے، بلکہ وہ زندگی کے دوسرے میدانوں میں بھی پیچھے رہ جائیں گے۔ انھوں نے بڑے نوابوں، رئیسوں اور زمینداروں کو تعلیم کی اہمیت کا احساس دلایا۔ آخر 1885ء کراچی میں "سندھ مدستہ الاسلام" قائم ہوا۔ اس مدرسہ کے ساتھ دور درازسے آنے والے طلبہ کے لیے ہاسٹل بھی قائم کیا گیا۔ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی اس مدرسہ میں تعلیم حاصل کی تھی۔ سندھ کے پہلے مسلمان گورنر الحاج سر غلام حسن ہدایت اللہ بھی یہاں کے طالب علم رہے۔ بعد میں اسی انجمن نے سندھ مسلم کالج اور سندھ لاء کالج قائم کیے۔ آج بھی ہزاروں طلبہ ان اداروں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ حسن علی آفندی کی محنت اور ان کے اچھے کاموں کو دیکھ کر انگریز حکومت نے انہیں "خان بہادر" کا ختاب دیا تھا۔

حسن علی آفندی 30آگسٹ 1895ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ آج وہ ہم میں نہیں ہیں لیکن ان کی یاد آج بھی ہمارے دلوں میں باقی ہے۔ ان کی بلند پایئہ خدمت کی وجہ سے لوگ ان کا نام عزت سے لیتے ہیں

مزید[ترمیم]