حسن مطلع

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

حسنِ مطلع اگر کسی غزل میں دو مطلعے ہوں، تو دوسرے کو حسنِ مطلع کہتے ہیں۔ مثلاً ذیل کے اشعار ملاحظہ ہوں:

  • کسی صورت نمودِ سوزِ پنہانی نہیں جاتی
  • بجھا جاتا ہے دل، چہرے کی تابانی نہیں جاتی
  • نہیں جاتی کہاں تک فکرِ انسانی نہیں جاتی
  • مگر اپنی حقیقت آپ پہچانی نہیں جاتی

حوالہ جات[ترمیم]