حسن نظامی نیشاپوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حسن نظامی نیشاپوری
معلومات شخصیت
تاریخ وفات سنہ 1217[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان فارسی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

حسن نظامی فارسی زبان کے شاعر اور مورخ تھے جو بارہویں اور تیرہویں صدی میں گزرے۔ وہ نیشا پور سے دہلی، ہندوستان ہجرت کر کے آئے تھے جہاں انہوں نے تاج المآثر کتاب لکھی جو دہلی سلطنت کی پہلی سرکاری تاریخ ہے۔ حسن نظامی کے خاندانی پس منظر کے بارے میں بہت کم معلومات میسر ہیں کیونکہ اس وقت نہ تو حسن نظامی اور اس کے اردگرد کے معاشرے کا کہیں کوئی تذکرہ ملتا ہے لیکن بعد میں " میر خوند "، "عبدالفضل " اور " کیتپ سلپی نے انہیں "صدرو الدین محمد بن حسن نظامی " کہہ کر پکارا ہے۔ جب کہ " ضیاء الدین بارانی " نے انہیں صدر نظامی کہا ہے۔ چودھویں صدی کے فارسی مؤرخ " حامد اللہ مصطفٰی " کے مطابق حسن نظامی فارسی شاعر " نظامی عروزی" کے بیٹے تھے لیکن اس دعویٰ کا کوئی بھی پختہ ثبوت نہیں ہے۔ نظامی اصل میں موجودہ ایران کے علاقے خراسان سے تعلق رکھتے تھے اور نیشا پور کے رہنے والے تھے۔ جب ان کا علاقہ خوارزم گردونواح کے تنازعات کے باعث غیر محفوظ ہو گیا تو انہوں نے امام رضا کے مزار پر حاضری دی اور اپنے مذہبی مبلغ محمد کوفی سے مشورہ طلب کیا۔ محمد کوفی نے انہیں نیشا پور چھوڑنے اور ہندوستان کی طرف ہجرت کرنے کا مشورہ دیا۔ بھارت کی طرف سفر کے دوران میں حسن نظامی غزنہ کے مقام پر بیمار پڑ گئے۔ وہ شیخ محمد شیرازی اور مجد الملک جو صرری جہاں کے دفتر میں تھا، کی دیکھ بھال سے صحت یاب ہوئے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ان دو اہم افسران نے حسن نظامی کی توقیر و تواضع میں اضافہ کیا جو ایک معزز خاندان اور شہرت رکھنے والے عالم تھے۔ غزنہ میں قیام کے دوران میں حسن نظامی نے سنا کہ قطب الدین ایبک غوری حکمران دہلی تارکین وطن کے ساتھ نرم برتاؤ رکھتا ہے۔ اس نے وہاں دہلی میں اپنی قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔ نظامی 1206ء میں غوری بادشاہ محمد غور کے قتل کیے جانے سے کچھ عرصہ قبل دہلی پہنچ گئے۔ ابتدا میں حسن نظامی نے شراف المک کے ساتھ قیام رکھا جو دہلی کے صدر دفتر میں تھا۔ جب نظامی روزگار کی تلاش کر رہے تھے تو ان کے دوست نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ ہندوستان میں مسلم فتح کی تاریخ مرتب کریں اور قطب الدین ایبک کی کامیابیوں کو اجاگر کریں۔ غورید بادشاہ کی وفات کے بعد قطب الدین ایبک فوراً دہلی سلطنت کا پہلا حکمران بن گیا اور اس مقصد کے لیے پہلا فرمان جاری کیا۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. وی آئی اے ایف - آئی ڈی: https://viaf.org/viaf/57713175 — اخذ شدہ بتاریخ: 25 مئی 2018 — اجازت نامہ: Open Data Commons
  2. Iqtidar Husain Siddiqi۔ Indo-Persian Historiography Up to the Thirteenth Century۔ Primus Books۔ آئی ایس بی این 978-81-908918-0-6۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔

کتابیات[ترمیم]