حسین بن روح نوبختی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حسین بن روح نوبختی
معلومات شخصیت
مکمل نام حسین بن روح نوبختی
کنیت ابوالقاسم
لقب نوبختی • قمی• روحی
دینی مشخصات
وجہ شہرت تیسرا نائب خاص امام زمانہ(ع)

ابو القاسم حسین بن روح نوبختی (متوفی 326ھ) امام زمانہ(عج) کے تیسرے نائب خاص، امام حسن عسکری کے اصحاب اور بغداد میں محمد بن عثمان (دوسرے نائب خاص) کے قریبی معتمدین میں سے تھے۔ محمد بن عثمان نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں امام زمانہؑ کے حکم سے حسین بن روح کو اپنا جانشین مقرر کیا۔

نیابت کے ابتدائی دور میں حسین بن روح بنی عباس کے حکام کے یہاں ممتاز مقام و منصب کے حامل تھے۔ لیکن بعد میں ان کے تعلقات خراب ہو گئے یوں آپ کو کچھ مدت کے لیے مخفیانہ زندگی گزارنا پڑا اور آخر کار پانچ سال کے لیے زندان بھی جانا پڑا۔

حسین بن روح کے دوران نیابت کے اہم ترین واقعات میں سے ایک شلمغانی کا واقعہ ہے جو ان کا مورد اعتماد وکیل تھا لیکن گمراہی کا شکار ہوا۔ اس بنا پر امام زمانہؑ کی طرف سے ان کی مذمت میں توقیعات بھی صادر ہوئیں۔

بعض فقہی کتابوں کی تصنیف اور علمی مناظرات میں مختلف موضوعات پر عبور اور تسلط رکھنے کی بنا پر آپ کو علمی حلقوں میں ممتاز حیثیت حاصل تھی یہاں تک کہ بعض احادیث کی کتابوں میں کرامات بھی ان سے منسوب کی گئی ہیں۔

سوانح حیات[ترمیم]

آپ کی تاریخ پیدایش کے حوالے سے کوئی دقیق معلومات دستیاب نہیں ہے۔ آپ کی کنیت ابوالقاسم جبکہ نوبختی، روحی[1] اور قمی[2] کے القاب سے ملقب ہیں۔ ایران کے شہر آبہ (ساوہ کے نزدیک) کی زبان بولنے اور وہاں کے باسیوں سے رفت و آمد کی وجہ سے آپ کو قمی کہا جاتا تھا۔[3] لیکن اکثر منابع میں آپ نوبختی کے نام سے مشہور ہیں۔ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ ماں کی طرف سے خاندان نوبختی سے تعلق رکھتا تھا اس لیے اس نام سے مشہور ہوئے ہیں۔[4] بعض مورخین کے مطابق آپ کا تعلق قم کے ایک قبیلہ بنی نوبخت سے تھا اور امام زمانہ کے پہلے نائب عثمان بن سعید کی نیابت کے دوران بغداد چلے گئے تھے۔[5]

امام حسن عسکری(ع) کے زمانے میں[ترمیم]

آیا آپ امام حسن عسکری(ع) کے اصحاب میں سے بھی تھے یا نہیں اس بارے میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ ابن شہرآشوب نے المناقب میں آپ کو امام حسن عسکری(ع) کے اصحاب اور ساتھیوں میں سے قرار دیا ہے،[6] لیکن علم رجال کے دوسرے ماہرین نے اس حوالے سے کچھ نہیں کہا ہے۔ بعض مورخین کے مطابق اس بات کا صحیح ہونا مشکل نظر آتا ہے کیوں کہ امام حسن عسکری(ع) سن 260ق میں شہید ہوئے ہیں جبکہ نوبختی سن 326ق میں وفات پائی ہے۔[7]

ذاتی صفات[ترمیم]

حسین بن روح اپنے زمانے کے داناترین اور عاقل‌ترین افراد میں سے تھے جو زمانے کے تقاضوں سے مکمل آشنائی رکھتے تھے اور مخالفین کے ساتھ معاشرت میں تقیہ سے کام لیتے تھے؛[8] یہاں تک کہ اپنے ایک غلام کو معاویہ کے لیے ناسزا کہنے کی وجہ سے برطرف کر دیا۔[9]

جاسم حسین، امام زمانہ کی غیبت کی سیاسی تاریخ نامی کتاب میں کہتے ہیں کہ حسین بن روح کی شخصی صفات، ذاتی مہارتیں اور استعدادات ہیں جس نے اسے امام زمانہ کی نیابت کا لائق بنایا تھا۔[10] محمد بن عثمان کی بیٹی ام کلثوم حسین بن روح کا اپنے والد کے ساتھ تعلقات کے بارے میں کہتے ہیں کہ حسین بن روح میرے والد محترم کے قریبی اور با اعتماد ساتھیوں میں سے تھے اور میرے والد محترم اپنی زندگی کی خصوصی مسائل پر بھی حسین بن روح کے ساتھ صلاح مشورے کیا کرتے تھے۔ [11]

"ابوسہل نوبختی" ان کی رازداری کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر وہ امام کو اپنے دامن کے نیچے چھپا رکھا ہو اور امام کی تلاش میں ان کے بدن کو قیچی سے کاٹ کر ٹکڑوں میں تبدیل کر دیا جائے تو بھی وہ امام کے بارے میں کسی کو نہیں بتائے گا۔[12]

وفات[ترمیم]

حسین بن روح نوبختی 18 شعبان سن 326ق کو اس دنیا سے وفات کر گئے۔ ان کی قبر بغداد کے نوبختیہ محلے کے عطاران یا شورجہ بازار میں واقع ہے جو اس وقت "مقام حسین بن روح" کے نام سے مشہور ہے جہاں پر شیعہ ان کی زیارت کے لیے جاتے جاتے ہیں۔[13]

امام زمانہ(ع) کی نیابت[ترمیم]

امام زمانہ(ع) کے دوسرے نائب خاص محمد بن عثمان عمری کی وفات کے بعد سن 305ق کو حسین بن روح امام کے تیسرے نائب خاص کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اس سے پہلے آپ محمد بن عثمان کے با اعتماد اور قریبی ساتھیوں میں سے تھے اور مالی اور اقتصادی معاملات میں وہ محمد بن عثمان کے معاونین[14] اور بغداد میں ان کے دوسرے وکلا کے ساتھ رابط بھی تھے۔[15]

امام زمانہ(ع) کی طرف حسین بن روح کی تائید
"ہم انہیں(حسین بن روح کو) جانتے ہیں، میری دعا ہے کہ خدا انہیں تمام اچھائیوں سے آگاہ فرمائے اور انہیں اپنے لطف و کرم سے خوش و خرم رکھے۔ ان کی درخواست سے آگاہ ہوں اور ان کو دی گئی ذمہ داری کو اچھی طرح نماٹانے کی امید ہے۔ وہ ہمارے پاس ایسے مقام و منزلت کے حامل ہیں جو ان کی خوشنودی کا باعث بنے گا۔ خدا ان پر اپنے فضل و کرم کی فراوانی مرحمت فرمائے۔"

اگرچہ محمد بن عثمان کے بغداد میں وکلا کی تعداد تقریبا دس نفر تھے لیکن انہوں نے اپنی بیماری کے وقت حسین بن روح کو اپنا جانشین اور امام کا نائب مقرر کیا اور اپنی موت کے بعد شیعہ بزرگان سے ان کی اطاعت کرنے کی سفارش کی۔[16] چنانچہ علامہ مجلسی لکھتے ہیں جس دن محمد بن عثمان اس دنیا سے رخصت کر گئے، حسین بن روح ان کے گھر میں تھے اور ان کے غلام نے ایک صندوقچہ حسین بن روح کے حوالے کیا جس میں ودایع امامت موجود تھیں۔[17] محمد بن عثمان کی وفات کے کچھ دن بعد یعنی 5 شوال سن 305ق کو حسین بن روح کی تائید میں امام زمانہ(ع) کی پہلی توقیع صادر ہوئی۔ [18]

بعض تاریخی شواہد سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شیعوں کے یہاں پہلے اور دوسرے نائب کی بنسبت حسین بن روح زیادہ معروف تھا اسی وجہ سے بعض شیعہ حضرات اپنے علاقے کے وکلا کو نظر انداز کرتے ہوئے براہ راست حسین بن روح سے رابطے میں رہنے کی کوشش کرتے تھے۔[19]

وکلا اور کارگزاران[ترمیم]

حسین بن روح نے بغداد میں دس وکلا اور دوسرے اسلامی شہروں میں موجود اپنے وکلا کے ذریعے امام زمانہ(ع) کی نیابت کے فرائض کو انجام دینا شروع کیا ان کے بعض وکلا اور کارگزاران کے اسماء درج ذیل ہیں:

  • محمد بن نفیس، اہواز میں اور حسین بن روح کے نیابت کے دوران امام زمانہ کی پہلی توقیع ان کے توسط سے شایع ہوئی۔
  • جعفر بن احمد بن متیل
  • ابو عبد اللّہ کاتب
  • احمد بن متیل
  • احمد بن ابراہیم نوبختی
  • ابوسہل نوبختی
  • محمد بن حسن صیرفی، بلخ میں
  • محمد بن جعفر اسدی رازی، شہر ری میں
  • حسن بن علی وجناء نصیبی، نصیبین میں
  • [محمد بن ہمام اسکافی
  • قاسم بن علاء، آذربایجان میں
  • محمد بن علی شلمغانی جو بعد میں گمراہ ہوا اور وکالت کے عہدے سے معزول ہوا۔[20]

حکومت وقت کے یہاں ان کا مقام و مرتبہ[ترمیم]

حسین بن روح، محمد بن عثمان کی نیابت کے دوران عباسی خلفاء کے دربار میں بلند مقام کا حامل تھا یوں حکومت کی طرف سے ان کی مالی تعاون بھی ہوتی تھی۔ [21] اسی طرح جس وقت انہوں نے خود امام زمانہ(ع) کی نیابت کا عہدہ سنبھالا پھر بھی "مقتدر عباسی" کی خلافت کے دوران عباسیوں کے یہاں ان کا نفوذ تھا اور وہ آپ کی نہایت احترام کیا کرتے تھے۔ حکومت وقت کے یہاں ان کے اس مقام و منزلت کی وجہ ایک تو نوبختی خاندان کے اثر و رسوخ تھی اور دوسری طرف سے "ابوالحسن علی بن محمد" کی وزارت میں موجود آل فرات کی وجہ سے تھا جو شیعوں کی حمایت کرتا تھا۔ [22] محمد بن عثمان کی بیٹی ام کلثوم کے بقول اس دوران آل فرات کی جانب سے حسین بن روح کے یہاں بعض اوقات مالی امداد بھی پہنچتی تھی۔[23] حاکم وقت کے یہاں ان کے مقام و منزلت کی ایک اور وجہ ان کا محتاطانہ رویہ بھی قابل غور ہے جس کی بنیاد پر آپ نے اپنے آپ کو قرامطہ جیسے گروہ کی مزاحمتی تحریکوں کا حصہ بننے سے دور رکھا۔[24]

لیکن "حامد بن عباس" کی بر سر اقتدار آنے کے بعد شیعہ مخالف کارندوں کی وجہ سے آپ کے لیے حاکم وقت کے دربار میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔[25]

حسین بن روح کی روپوشی[ترمیم]

حسین بن روح منصب نیابت خاصہ سنبھالنے کے کچھ عرصے بعد روپوش ہونے پر مجبور ہوئے۔ ان کی اس روپوشی کی مدت کے بارے میں کوئی دقیق معلومات نہیں لیکن یہ احتمال دیا جاتا ہے کہ انہوں نے حامد بن عباس کی وزارت میں سن 306 ہجری سے 311 ہجری تک حکومت کی گرفت سے بچنے کے لیے روپوشی اختیار کی تھی۔ شیخ طوسی کے مطابق، حسین بن روح کی روپوشی کے دوران شلمغانی ان کے اور عوام کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرتا تھا۔[26] لیکن شلمغانی کچھ عرصہ بعد حلول اور غلو کی طرف مائل ہوا اور حسین بن روح نے لوگوں کو اس کے ساتھ تعلق رکھنے سے منع کیا اور سنہ 312 میں امام زمانہ(عج) کی طرف سے توقیع صادر ہوئی جس میں اس پر لعن کیا گیا تھا۔[27]

نائب امام زمانہ(عج) قیدخانے میں[ترمیم]

حسین بن روح نوبختی نے امام زمانہ(عج) کی نیابت خاصہ کے دوران اپنی بابرکت زندگی کے پانچ سال (سنہ 312 سے 317ہجری قمری تک) عباسی بادشاہ مقتدر باللہ کے قید خانے میں بسر کیے۔ شیعہ منابع میں آپ کی گرفتاری کے اسباب کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا ہے لیکن تاریخی منابع میں اس حوالے سے دو قول موجود ہیں:

  1. بر سر اقتدار حکومتی دیوان کو ٹیکس کی ادائیگی سے انکار
  2. قرامطہ کے ساتھ رابطہ جو اس وقت بحرین پر مسلط تھے۔[28]

بعض معاصر محققین کا کہنا ہے کہ انہیں امام زمانہ(ع) کی نیابت کی وجہ سے ملنے والی شہرت، شیعوں کا ان سے رابطہ، شیعوں کے درمیان ان کی مقبولیت اور اس دور میں شیعوں کو منظم اور فعال رکھنے میں ان کے کردار نیز شیعوں سے وجوہات کی جمع آوری اور ان کو امام زمانہ(ع) تک پہنچانے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ قید خانے سے رہائی کے بعد عباسی حکومت میں نوبختی خاندان کے اثر و رسوخ کی وجہ سے پھر کسی میں ان کے لیے مزااحمت ایجاد کرنے کی جرأت پیدا نہیں ہوئی۔[29]

شلمغانی کا فتنہ[ترمیم]

ابو جعفر محمد بن علی شَلْمَغانی المعروف بہ "ابن عَزاقِر" بغداد کے شیعہ علما اور حسین بن روح کے قریبی ساتھیوں میں سے تھا۔ حسین بن روح نے امام زمانہ کی نیابت کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد انہیں اپنا وکیل مقرر کیا اور شیعوں کے امور ان کے حوالے کی یہاں تک کہ حسین بن روح کی روپوشی اور زندانی کے دوران امام زمانہ(ع) سے صادر ہونے والی توقیعات شلمفانی کے ذریعے منتشر ہوتی تھیں۔[30] لیکن حسین بن روح کے زندانی کے عرصے میں انہوں نے موقع سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے شروع میں اپنی نیابت کا اعلان کرتے ہوئی اپنے آپ کو "باب المہدی" معرفی کرنا شروع کیا بعد میں اپنی عقیدے سے منحرف اور گمراہ ہو گیا۔ جب حسین بن روح کو ان کی گمراہی کا پتہ چلا تو عباسی حکومت کے قید خانے سے خطوط کے ذریعے شیعیان اہل بیت کو ان کے ساتھ رابطہ رکھنے سے منع کیا اور سنہ 312 ہجری کو امام زمانہ(عج) کی طرف سے توقیع صادر ہوئی جس میں اس پر لعن کیا گیا تھا۔[31]

کرامات اور علمی مقام[ترمیم]

حسین بن روح نے علم فقہ میں "التأدیب" نامی کتاب لکھی اور اسے نظر ثانی کے لیے قم کے حوزہ علمیہ بھیجی اور ان سے درخواست کی گئی تھی کہ ان کے مخالف نظریات کی نشان دہی کریں۔ قم کے علما نے نظر ثانی کے بعد اس کتاب کے سوائے ایک مطلب کے سارے مضامین کی تائید کر کے ان کی طرف واپس بھیج دیے۔[32]

انہوں نے اپنی نیابت کے دوران مختلف مناظرات میں بھی حصہ لیا جن کی تفصیل حدیثی منابع میں موجود ہے۔[33] ان مناظرات میں انہوں نے جو جوابات دئے ہیں اس سے دینی مسائل میں ان کی دقت نظری اور ان کی علمی مقام کا پتہ چلتا ہے۔[34]

ان سے احادیث بھی نقل ہوئی ہیں۔[35] شیخ طوسی نے زیارت رجبیہ کو حسین بن روح نوبختی سے نقل کی ہیں۔[36]

  • کرامات

بعض منابع میں حسین بن روح کی طرف بعض کرامات بھی منسوب کی گئی ہیں؛ اس سلسلے میں کہا جاتا ہے کہ آپ بعض اوقات مد مقابل کی شک و تردید کو دور کرنے اور اپنی حقانیت کو ثابت کرنے کے لیے بعض اسرار و رموز کو فاش اور بعض علامتوں کو آشکار کرتے تھے۔ علی بن بابویہ (شیخ صدوق کے والد محترم) کی طرف سے بیٹا ہونے کے لیے امام زمانہ سے دعا اور دوسرے موقع پر سفر حج میں اپنی ذمہ داری معلوم کرنے کے لیے امام زمانہ(ع) سے کی گئی درخواست پر مبنی خطوط،[37] احمد بن اسحاق قمی کی موت کے بارے میں خبر دینا،[38]محمد بن حسن صیرفی کو گمشدہ سونے کا پتہ بتانا[39] اور اس طرح کے دیگر واقعات جو اس حوالے سے نقل ہوئے ہیں، ان کی کرامات کے بعض نمونے ہیں۔

متعلقہ صفحات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. طوسی، الغیبۃ، 1411ق، ص225.
  2. کشی، رجال کشی، 1348ش، ص557.
  3. صدوق، کمال الدین، 1395ق، ج2، ص503-504.، طوسی، الغیبۃ، 1411ق، ص195.، اقبال آشتیانی، خاندان نوبختی، 1345ش، ص214.
  4. اقبال آشتیانی، خاندان نوبختی، 1345ش، ص214.
  5. جاسم حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، 1385ش، ص192.
  6. ابن شہر آشوب، المناقب، 1379ق، ج4، 423.
  7. جاسم حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، 1385ش، ص192.
  8. طوسی، الغیبہ، 1411ق، ص112.
  9. طوسی، الغیبہ، 1411ق، ص386.
  10. جاسم حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، 1385ش، ص193و194.
  11. طوسی، الغیبہ، 1411ق، ص372.
  12. طوسی، الغیبہ، 1411ق، ص391.
  13. طوسی، الغیبۃ، 1411ق، ص238.
  14. جاسم حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، 1385ش، ص192.، ذہبی، سیر اعلام النبلاء، 1413ق، ج15، ص222.
  15. صدوق، کمال الدین، 1395ق، ج2، ص501و502.
  16. طوسی، الغیبہ، 1411ق، ص371.
  17. مجلسی، بحار الانوار، 1403، ج85، ص211.
  18. طوسی، الغیبہ، 1411ق، ص372.
  19. جاسم حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، 1385ش، ص198.
  20. جاسم حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، 1385ش، ص196.
  21. غفارزادہ، زندگانی نواب خاص امام زمان، 1375ش، ص237.
  22. جاسم حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، 1385ش، ص198.، جعفريان، حيات فكرى و سياسى ائمہ، 1381ش، ص583.
  23. طوسی، الغیبۃ، 1411ق، ص372.
  24. عظیم‌زادہ تہرانی، علل دستگیری حسین بن روح نوبختی، 1382ش.
  25. جعفريان، حيات فكرى و سياسى ائمہ، 1381ش، ص583.
  26. الطوسی، الغیبۃ، ص303و 324۔
  27. طوسی، الغیبة، ص187، 252ـ253۔، طبرسی، اعلام الوری باعلام الهدی، ج2، ص290۔
  28. عظیم‌زادہ تہرانی، علل دستگیری حسین بن روح نوبختی، 1382ش.
  29. موسوی، کسائی، پژوہشی پیرامون زندگی سیاسی و فرہنگ نواب اربعہ، 1378ش.
  30. طوسی، الغیبۃ، 1411ق، ص228، 239، 251و252
  31. طوسی، الغیبۃ، 1411ق، ص187، 252و253.
  32. امین، اعیان الشیعہ، 1421ق، ج6، ص22.
  33. طوسی، الغیبۃ، 1411ق، ص324، 373، 378، 388، 390.، صدوق، کمال الدین، 1395ق، 1403ق، ج2، ص519.، مجلسی، بحار الانوار، 1403، ج53، ص192.
  34. صدر، تاریخ الغیبہ، 1412ق، ج1، ص483.
  35. خویی، معجم رجال الحدیث، ج5، ص236.
  36. طوسی، مصباح المتہجد، 1411ق، ص821.
  37. نجاشی، رجال نجاشی، 1407ق، ص261.، مجلسی، بحارالانوار، 1403ق، ج51، ص293.
  38. صدوق، کمال الدین، 1395ق، ج2، ص518و519.
  39. مجلسی، بحار الانوار، 1403، ج51، ص342.

مآخذ[ترمیم]

سانچہ:مآخذ

  • امین عاملی، سید محسن، اعیان الشیعۃ، بیروت، دارالتعارف، 1421ق.
  • صدوق، محمد بن علی، کمال الدین و تمام النعمۃ، تہران، اسلامیہ، 1395ق.
  • نجاشی، احمدبن علی، رجال النجاشی، چاپ موسی شبیری زنجانی، قم، 1407ق.
  • ابن شہر آشوب مازندرانی، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب، قم، علامہ، 1379ق.
  • طوسی، محمد بن حسن، رجال الکشی (اختیار معرفۃ الرجال)، مشہد، دانشگاہ مشہد، 1348ش.
  • طوسی، محمد بن حسن، الغیبۃ، قم، مؤسسۃ المعارف الاسلامیۃ، 1411ق.
  • طوسی، محمد بن حسن، مصباح المتہجد، بیروت، مؤسسہ فقہ الشیعۃ، 1411ق.
  • ذہبی، سیر أعلام النبلاء، إشراف وتخریج : شعیب الأرنؤوط، تحقیق: إبراہیم الزیبق، بیروت، مؤسسۃ الرسالۃ، 1413ق.
  • خویی، سیدابوالقاسم، معجم رجال الحدیث، بیروت، دارالزہراء، 1403ق.
  • صدر، سید محمد، تاریخ الغیبہ، بیروت، دارالتغارف، 1412ق.
  • اقبال آشتیانی، عباس، خاندان نوبختی، تہران، 1345ش.
  • جعفریان، رسول، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، قم، انصاریان، 1381ش.
  • جاسم محمد حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، ترجمہ محمد تقی آیت‌اللہی، تہران، امیرکبیر، 1385ش.
  • غفارزادہ، علی، زندگانی نواب خاص امام زمان، قم، انتشارات نبوغ، 1379ش.
  • عظیم‌زادہ تہرانی، طاہرہ، علل دست‌گیری حسین بن روح نوبختی، تاریخ اسلام، بہار 1382 - شمارہ 13.
  • موسوی، سید حسن؛ کسائی، نورالہ، پژوہشی پیرامون زندگی سیاسی و فرہنگ نواب اربعہ، دانشکدہ ادبیات و علوم انسانی دانشگاہ تہران، تابستان 1378 - شمارہ 150.

سانچہ:مآخذ

بیرونی روابط[ترمیم]