حسین شہید سہروردی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حسین شہید سہروردی
Huseyn Shaheed Suhrawardy
হোসেন শহীদ সোহ্‌রাওয়ার্দী
HS Suhrawardy.jpg
پانچویں وزیر اعظم
عہدہ سنبھالا
12 ستمبر 1956ء – 17 اکتوبر 1957ء
صدر اسکندر مرزا
پیشرو چودھری محمد علی
جانشین ابراہیم اسماعیل چندریگر
وزیر دفاع پاکستان
عہدہ سنبھالا
12 ستمبر 1956ء – 17 اکتوبر 1957ء
پیشرو چودھری محمد علی
جانشین ممتاز دولتانہ
وزیر اعظم بنگال
عہدہ سنبھالا
3 جولائی 1946ء – 14 اگست 1947ء
گورنر Frederick Burrows
پیشرو خواجہ ناظم الدین
جانشین عہدہ ختم
ذاتی تفصیلات
پیدائش 8 ستمبر 1892 (1892-09-08)
مدناپور، بنگال پریذیڈنسی، برطانوی راج
وفات 5 دسمبر 1963(1963-12-50) (عمر  71 سال)
بیروت, لبنان
مقام تدفین تین رہنماؤں کے مزار، ڈھاکہ
سیاسی جماعت عوامی لیگ
مادر علمی سینٹ زیویرس کالج، کلکتہ
کلکتہ یونیورسٹی
سینٹ کیتھرین کالج، آکسفورڈ
Inns of Court School of Law
حسین شہید سہروردی

حسین شہید سہروردی پاکستان کے سیاست دان تھے آپ 1956ء سے 1957ء تک پاکستان کے وزیراعظم رہے۔ آپ قائد اعظم کے پسندیدہ افراد میں سے تھے۔ 16 اگست، 1946ء کے راست اقدام کے موقع پر آپ نے شہرت حاصل کی۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

خاندان

حسین شہید سہروردی  ۸ ستمبر1992 کومغربی بنگال اس وقت کے مدنا پور میں بنگالی مسلم خاندان میں پیدا ہوئے۔ آپ جسٹس سر زاہد سہروردی کے چھوٹے صاحبزادے تھے جو کلکتہ ہائی کورٹ کے معروف جج تھے۔  آپ کی والدہ خجستہ اختر بنوں اردو ادب کا مایہ ناز نام  اور فارسی کی اسکالر تھیں،  خجستہ اختر بنوں کے والد عبید اللہ العبادی سہروردی تھے ۔برطانوی آرمی آفیسر  لفٹیننٹ کرنل حسن سہرودری  اور سر عبداللہ المنان سہروردی کی بہن تھیں۔

ابتدائی تعلیم اور شادی

1910 میں حسین سہروردی نے سینٹ زیورس کالج سے ریاضی میں بی ایس کیا۔ اس کے بعد انہوں نے کلکتہ یورنیورسٹی کے شعبہ آرٹس میں داخلہ لیا۔ 1913میں آپ نے عربی زبان میں ایم اے کیا۔ اور بیرون ملک تعلیم کے لیے اسکالر شپ حاصل کیا۔  اور انگلینڈ روانہ ہوگئے جہاں انہوں نے سینٹ کیتھرین سوسائٹی آکسفوڈ سے سول لا میں گریجویشن کی۔  انہوں نے کلکتہ ہائی کورٹ سے اپنے کرئیر کا آغاز کیا۔

 1920 میں  حسین سہروردی نے بنگال کے اس وقت کے  وزیر داخلہ سر عبدالرحیم کی بیٹی بیگم نیاز فاطمہ سے شادی کر لی۔اس شادی سے حسین سہروردی کا ایک بیٹا احمد شہاب سہروردی اور ایک بیٹی بیگم اختر سیلمان  تھے۔ احمد سہروردی  1940 میں  لندن میں نمونیا کی وجہ سے انتقال کر گئے۔ جبکہ بیگم اختر سلیمان کی شادی  جسٹس سر شاہ سیلمان کے صاحبزادےشاہ احمد سلیمان  سے ہوئی۔ 

1922 میں حسین سہروردی کی پہلی زوجہ بیگم نیاز فاطمہ کا انتقال ہو گیا ۔ 1940 میں  حسین سہروردی نے روس کے ماسکو آرٹ تھیٹر کی اداکارہ ویرہ الیگزینڈروینا سے شادی کی جنہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام  بیگم نورجہاں  رکھا۔  1951  میں دونوں کے درمیان طلاق ہو گئی۔ اس شادی سے حسین سہروردی کا ایک بیٹا  راشد سہروردی ہوا جو لندن میں اداکاری کرتا ہے۔ 

انڈیا واپسی[ترمیم]

حسین شہید سہروردی  1921 میں انڈیا واپس آئے۔  اور بنگال سے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔ ابتدا میں  آپ انڈین نیشنل کانگرس  کی   سوراج پارٹی سے   منسلک ہوئے اور چترنجن داس  کے پرجوش حامی تھے۔ انہوں نے 1923 میں بنگال معاہدے میں اہم کردار ادا کیا۔

حسین سہروردی  1924 میں31 سال کی عمر میں کلکتہ کارپوریشن کے ڈپٹی مئیر  ہونے کے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلی میں سوراج پارٹی کے ڈپٹی سربراہ بھی رہے۔ لیکن 1925 میں چترنجن داس کی وفات کے بعد آپ نے خود کو سوراج پارٹی سے الگ کر لیا اور جلد ہی آپ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی۔ حسین سہروردی خواجہ ناظم الدین کے دور میں  وزیر  محنت و ترقی   رہے۔  1946 میں حسین سہروردی  بنگال میں پہلے  مسلم لیگی وزیر اعظم بنے۔ 

یوم راست اقدام[ترمیم]

آزادی[ترمیم]

مشرقی پاکستان میں سیاسی زندگی[ترمیم]

وفات[ترمیم]

سیاسی دفاتر
پیشرو 
نیا عہدہ تخلیق ہوا
وزیراعلٰی مشرقی بنگال
1946ء – 1947ء
جانشین 
خواجہ ناظم الدین
پیشرو 
چوہدری محمد علی
وزیر اعظم پاکستان
1956ء – 1957ء
جانشین 
ابراہیم اسماعیل چندریگر
پیشرو 
چوہدری محمد علی
وزیر دفاع پاکستان
1956ء – 1957ء
جانشین 
میاں ممتاز دولتانہ
Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔