حشمونی سلطنت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حشمونی سلطنت
ממלכת החשמונאים
مملکت ھا حشمونیئم
سلوقی سلطنت تابعدار (140–110 ق م)
آزاد سلطنت (110–63 ق م)
رومی جمہوریہ کی اسامی ریاست (63–40 ق م)
سلطنت اشکانیان کی اسامی ریاست (40-37 ق م)[1][2]

140 ق م–37 ق م

نشان

دارالحکومت یروشلم
زبانیں قدیم عبرانی، قدیم آرامی (سرکاری), کوئنے یونانی
مذہب ہیکل دوم کی یہودیت
حکومت حکومتِ الہٰیہ کی ملوکیّت
کاہن، بعد میں باسیلیوس
 - 140–135 ق م Simon Thassi
 - 134 (110)–104 ق م John Hyrcanus
 - 104–103 ق م Aristobulus I
 - 103–76 ق م Alexander Jannaeus
 - 76–67 ق م Salome Alexandra
 - 67–66 ق م Hyrcanus II
مقننہ ابتدائی سنہیڈرن
تاریخی دور ہیلینیائی دور
 - مکابی بغاوت 167 ق م
 - قیام 140 ق م
 - مکمل آزادی 110 ق م
 - پامپے حشمونی خانہ جنگی میں حائل ہوا 63 ق م
 - اشکانی حملہ 40 ق م
 - ہیرودیس نے حشمونیوں کو زیروزبر کر دیا 37 ق م
سکہ حشمونی تسکیک
موجودہ ممالک Flag of Israel.svg اسرائیل
Flag of Jordan.svg اردن
Flag of Lebanon.svg لبنان
Flag of Syria.svg سوریہ
Flag of Egypt.svg مصر
Flag of Palestine.svg فلسطین

حشمونی سلطنت یا سلطنت حشمونیہ (عبرانی :חַשְׁמוֹנַּאִים ، عربی :السلالة الحشمونية ،انگریزی ؛Hasmonean dynasty) زمانہ قدیم میں یہوداہ اور اس کے مضافات پر حکمران ایک نیم خود مختار سلسلہ شہنشاہی تھا جس نے 160 قبل مسیح سے لیکر 116 قبل مسیح تک سلوقیوں کے زیر خراج یہوداہ پر حکومت کی۔ سلسلہ حشمونی 110 قبل مسیح میں سلطنت سلوقیہ کے زوال کے بعد خود مختار و مستقل ہو گیا اور اور اپنی ریاست کی حدود کو مضافات مثلاً سامیریا، گلیل، اطوریا، پیریا اور ادومییا کو بھی شامل کرکے سلطنت کو مزید وسیع کر لیا۔ اور باسیلوس (بادشاہ یا سلطان) کا خطاب اختیار کیا۔ عصر حاضر کے کچھ اسکالر اس عہد کو آزاد سلطنت اسرائیل قرار دیتے ہیں۔ سن 63 قبل مسیح میں اسے رومیوں نے فتح کر کیا اور سلطنت کے ٹکڑے کر کے اس کو جمہوریہ روم کے تحت کئی صوبوں میں تقسیم کر دیا۔ سلطنت حشمونی 103 برس تک قائم رہی تاوقتیکہ 37 قبل مسیح میں سلطنت ھیرود نے ان لوگوں کو فتح کر لیا جو ایک جابر اور خود مختار حکومت تھی درحقیقت وہ ظاہرا خود مختار تھے جبکہ عملا شاہزادہ روم کے احکامات کے پابند تھے۔[3]

سلطنت حشمونی شمعون مکابی کی قیادت میں اس کے بھائی یہوداہ مکابی (יהודה המכבי یہوداہ ھا مکابی) کی انقلاب مکابیین میں صلوقی فوج کو شکست دینے کے دو دہائیوں بعد قائم ہوئی تھی۔

حشمونی کاہن تھے۔ لیکن حاکم ان کے اعمال آداب کہانت کے مطابق نہ تھے ؛ لہذا بحیثیت مجموعی یا قومی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انہوں نے قانون قدیم کی پاسداری زیر تشریحات آداب کہانت و کردار کہانت مذہبی کی تھی یا کرتے رہے تھے۔ اسی وجہ سے فریسی نہیں چاہتے تھے کہ شاہ حشمونی سکندر یانیوس کاھن اعظم بھی ہو بلکہ انہوں نے اس سے کہا کہ تم صرف بادشاہ رہو یا دوسرے لفظوں میں اسے بتا دیا گیا کہ صرف حکومت کرو مذہبی اجارہ داری نہیں۔[4]

نگار خانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Neusner 1983، صفحہ۔ 911.
  2. Vermes 2014، صفحہ۔ 36.
  3. Leon James Wood, David O'Brien, A survey of Israel's history, Zondervan, 1986
  4. باشگاه اندیشه: نظریه سیاسی در تورات و تلمود. بازدید: مه 2015.