حصہ بنت احمد السدیری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حصہ بنت احمد السدیری
(عربی میں: حصة بنت أحمد السديري ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش 1 جنوری 1900  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ریاض  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1969 (68–69 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ریاض  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Saudi Arabia.svg سعودی عرب  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
شریک حیات عبدالعزیز ابن سعود
محمد بن عبد الرحمن آل سعود  ویکی ڈیٹا پر شریک حیات (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد فہد بن عبدالعزیز، عبدالرحمان بن عبدالعزیز آل سعود، نائف بن عبدالعزیز آل سعود، سلمان بن عبدالعزیز[1]، احمد بن عبدالعزیز آل سعود، ترکی ثانی بن عبدالعزیز آل سعود، الجوہرہ بنت عبد العزیز آل سعود، لطیفہ بنت عبد العزیز آل سعود، لؤلؤہ بنت عبد العزیز آل سعود، سلطان بن عبدالعزیز  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان آل سدیری (بلحاظ پیدائش)
آل سعود (بلحاظ زواج)
نسل شہزادہ عبداللہ
شاہ فہد
شہزادہ سلطان
شہزادی لولووہ
شہزادہ عبدالرحمان
شہزدہ نائف
شہزادہ ترکی
شاہ سلمان
شہزادہ احمد
شہزادی لطیفہ
شہزادی الجوہرہ
شہزادی جواہر

حصہ بنت احمد السدیری (عربی: حصة بنت أحمد السديري) سعودی عرب کے بادشاہ عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعود کی پسندیدہ بیویوں میں سے ایک تھی۔[2][3]

پس منظر[ترمیم]

حصہ بنت احمد نجد کے ایک بااثر خاندان السدیری کی رکن تھی۔[4] یہ خاندان الدواسر قبیلہ کا حصہ ہے۔[5] شاہ عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعود کی والدہ سارہ السدیری [6] بھی السدیری خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔[7]

ابتدائی زندگی اور شادی[ترمیم]

حصہ بنت احمد 1900ء میں نجد میں پیدا ہوئی۔ شاہ عبد العزیز نے اس سے دو مرتبہ شادی کی۔[8] وہ اس کی آٹھویں بیوی تھی۔ ان کی پہلی شادی 1913ء میں ہوئی جب حصہ کی عمر تیرہ سال تھی۔ 1920ء میں انہوں نے دوبارہ شادی کی۔[9] ان کی پہلی اور دوسری شادی کی درمیانی مدت میں حصہ بنت احمد شاہ عبد العزیز کے سوتیلے بھائی محمد بن عبد الرحمن کے عقد میں تھی، [9] جس سے اس کا ایک بیٹا عبد اللہ بن محمد بھی ہے۔[10]

اولاد[ترمیم]

حصہ بنت احمد اور شاہ عبد العزیز کے متعدد بچے تھے جن میں سے سات بیٹے ہیں۔[2][11] شاہ عبد العزیز کی کسی دوسری شریک حیات کے حصہ بنت احمد سے زیادہ بیٹے نہیں ہیں۔[12] حصہ بنت احمد سات بیٹوں کی ماں کی وجہ سے شاہ عبد العزیز کی سب سے زیادہ قابل قدر شریک حیات بن گئی۔[13] عرب ثقافت میں سب سے نمایاں بیوی سب سے بڑی تعداد میں بیٹوں کو جنم دینے والی ہوتی ہے۔[13]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مصنف: Darryl Roger Lundy
  2. ^ ا ب Hedwig Backman، Karen (16 June 2012). "Born of Hassa bint Ahmad Al Sudairi". Daily Kos. مؤرشف من الأصل في 25 دسمبر 2018. اخذ شدہ بتاریخ 24 اکتوبر 2012. 
  3. Mackey، Sandra (6 August 2005). "Next step critical as Saudi princes jostle for position". SMH. مؤرشف من الأصل في 25 دسمبر 2018. اخذ شدہ بتاریخ 15 مئی 2017. 
  4. Al Alawi، Irfan (24 October 2011). "Saudi Arabia – The Shadow of Prince Nayef". Center for Islamic Pluralism. مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 15 مئی 2017.  Check date values in: |access-date=, |archive-date= (معاونت)
  5. Herb، Michael (1999). All in the family. Albany: State University of New York Press. صفحہ 102. ISBN 0-7914-4168-7. 
  6. "King Abdulaziz' Noble Character" (PDF). Islam House. اخذ شدہ بتاریخ 15 مئی 2017.  Check date values in: |access-date= (معاونت)
  7. Abir، Mordechai (April 1987). "The Consolidation of the Ruling Class and the New Elites in Saudi Arabia". Middle Eastern Studies 23 (2): 150–171. doi:10.1080/00263208708700697. http://www.jstor.org/discover/10.2307/4283169?uid=3739192&uid=2&uid=4&sid=21102587059923۔ اخذ کردہ بتاریخ 15 مئی 2017. 
  8. Allen، Robin (1 August 2005). "Obituary: King Fahd - A forceful but flawed ruler". Financial Times. مؤرشف من الأصل في 25 دسمبر 2018. اخذ شدہ بتاریخ 02 فروری 2013. 
  9. ^ ا ب Mark Weston (28 July 2008). Prophets and Princes: Saudi Arabia from Muhammad to the Present. John Wiley & Sons. صفحہ 169. ISBN 978-0-470-18257-4. مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 27 فروری 2013.  Check date values in: |archive-date= (معاونت)
  10. Al Mulhim، Abdulateef (24 April 2013). "Prince Fahd bin Abdullah: An admiral and a desert lover". Arab News. اخذ شدہ بتاریخ 08 اگست 2013.  |archive-url= is malformed: save command (مساعدة)
  11. Winberg Chai (22 September 2005). Saudi Arabia: A Modern Reader. University Press. صفحہ 193. ISBN 978-0-88093-859-4. مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 26 فروری 2013.  Check date values in: |archive-date= (معاونت)
  12. "Saudi Succession Crisis". The National Security Council. مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 01 جون 2012.  Check date values in: |archive-date= (معاونت)
  13. ^ ا ب Taheri، Amir (2012). "Saudi Arabia: Change Begins within the Family". The Journal of the National Committee on American Foreign Policy 34 (3): 138–143. doi:10.1080/10803920.2012.686725. 
  14. "Royal Court: Prince Turki bin Abdulaziz Al Saud Died". Saudi Press Agency. مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 12 نومبر 2016.  Check date values in: |archive-date= (معاونت)
  15. "Custodian of the Two Holy Mosques Performs Funeral Prayer on Soul of Princess Jawaher bint Abdulaziz". Al Riyadh. 6 June 2015. مؤرشف من الأصل في 25 دسمبر 2018. اخذ شدہ بتاریخ 22 اپریل 2016.