حضرت مدار پاک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ حضرت بدیع الدین عرف شاہ مدار ،،،، حضرت بدیع الدین عرف شاہ مدار کی ولادت باسعادت ٢٤٢،242ھجری شہر حلب میں ہوئی آپ حضری حرمین کے بعد عازم ہند ہوئے آپ نے جہاز میں بیٹھے لوگوں کو نصیحت کی مگر اہل جہاز نے انہیں نہیں سنا جہاز طوفان میں آکر غرق ہو گیا مگر آپ ایک تخت پر بیٹھے رہے اور غیبی طاقت کے سہارے کنارے پہنچے آپ نے سارے ہندوستان میں چکر لگا یا کمال روحانیت سے ہندوستان کی بہت سی غیر مسلم اقوام کو مسلمان بنایا بعض میو گوت بھی آپ نے مسلمان کیے جو مدار صاحب کو بہت مانتے ہیں اور مکن پور جاکر چڑھاوے چڑھاتے ہیں میوات اور راجپوتانا کے مداری درویش اور فقراء مداری المشرب ہیں ان کا گوت بھی مداری کے نام سے مشہور ہو گیا ہے بعض فقراء اپنا گوت درویشی بتاتے ہیں ،جس سے دراصل مدار صاحب کے مرید ،مراد ہوتے ہیں میوات میں مدار صاحب کا ارادت و عقیدت انہیں فقیروں نے قائم رکھا ہے بہت سی درگاہ ہیں ،تکیے ،چلے ان لوگوں کے انتظام میں پاےجاتے ہیں جن کے ذریعہ مدار صاحب کی عقیدت کو نافذ کیا جاتا ہے (کتاب آرایش محفل میں شاہ مدار کی چھڑی کا ذکر حسب ذیل ہے) بلہور کہ ایک پرگنہ سرکار مزکور ہے اس کے تعلق کا ایک قصبہ مکن پور ، درگاہ سید بدیع الدین عرف شاہ مدار کی وہیں ، اکثر لوگ اس کو مانتے ہیں خصوصاً عوام چنانچہ ، سنہری علموں (نشان) سیاہ پٹکے باندھ دوم دوم کرتے ہوئے گلی گلی لیے پھرتے ہیں خصوصاً جمادی الاول میں تو نہایت شورش مچاتے ہیں سوائے اس کے ہر سال دور دور کے لوگ زن و مرد کثرت سے ہاتھوں میں ان کے دے ہی علم ربالے بجاتے ہوئے بڑی دور سے قصبہ مذکور کو چلے جاتے ہیں اس مجمع کا نام چھڑی ہے اور میدنی بھی اس کو کہتے ہیں (آرایش محفل صفحہ ١١٥)

مولانا عبد الشکور خاں میواتی علی نگر بھیکم پوری ضلع بریلی شریف یوپی