حطاب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
محمد ابو عبد اللہ بن محمد ترابلسی حطاب رعیانی
لقبالحطاب
ذاتی
پیدائش1497 CE (902 AH)
مکہ، مملوک سلطنت (قاہرہ)
وفات1547 CE (954 AH)
تاجورا، طرابلس، سلطنت عثمانیہ
مذہباسلام
نسلیتاندلس
دور(خلافت عثمانیہ کا آغاز)
دور حکومتمکہ اور طرابلس (جدید لیبیا)
فقہی مسلکمالکی
بنیادی دلچسپیفقہ
قابل ذکر کاممواحب الجلیل

محمد ابو عبد اللہ بن محمد ترابلسی حطاب رعیانیؒ (21 مئی 1497پیدائش - 1547 عیسوی وفات) (902 ہجری پیدائش - 954 ہجری وفات) (عربی: محمد أبو عبدالله بن محمد الحطاب الرعيني)آپ کا نام ہے۔اسلامی اسکالرشپ میں بطور الحطاب یا امام الحطاب کے نام کے طور پر جانے جاتے ہیں۔16ویں صدی عیسوی کے ایک مسلمان فقیہ تھے۔آپ کا علاقہ طرابلس کے جدید دور کے لیبیا کے دارالحکومت تھا۔حطاب مالکی مکتبہ اسلامی فقہ (فقہ) کے عالم تھے۔ان کی کتاب مواحب الجلیل، جو کہ خلیل کی مختصر (جامع متن) کی پہلی بڑی تفسیروں میں سے ایک تھی۔جس کو مالکی مکتبِ قانون کی بہترین اور مکمل تفسیروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ [1]

زندگی[ترمیم]

حطاب زاویہ اور مسجد تاجورا، لیبیا، جہاں الحطاب کے والد محمد بن عبدالرحمٰن دفن ہیں۔ دونوں کو اسلامی قانون کی کتابوں میں اکثر نام غلطی سے دیکھا جاتا ہے۔ کیونکہ دونوں کا پہلا اور آخری نام ایک ہے اور دونوں ہی ماہر فقیہ تھے۔ الحطاب کی اصل تدفین کی جگہ معلوم نہیں ہے۔

پیدائش[ترمیم]

الحطاب 18 رمضان المبارک (مسلمانوں کے روزے کا مقدس مہینہ) 902 ہجری (21 مئی 1497 عیسوی) کو مکہ میں پیدا ہوئے۔آپ کا سلسلہ نسب اندلس کے رویانی خاندان سے تھا۔ جو اندلس سے ہجرت کر کے طرابلس آیا اور اپنے علماء کے لیے مشہور تھا۔ [2] اسی نام کے آپ کے والد محمد الخطاب نے ہیبسبرگ اسپین کی شمالی افریقہ کی فتح سے قبل طرابلس میں حفصید خاندان کی حکمرانی کے کمزور ہونے کے دوران اپنے پورے خاندان کے ساتھ مکہ ہجرت کی تھی۔الحطاب کو بعض اوقات الحطاب الصغیر (الحاطب چھوٹا) کہا جاتا ہے۔ تاکہ وہ اپنے والد سے ممتاز ہوں اور اپنے تینوں بھائیوں میں سے سب سے بڑے تھے۔ انہیں بعض اوقات حاطب العب (حاطب والد) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ جب کہ ان کے والد حاطب الجد (حاطب دادا) ہیں، اور ان کا سب سے مشہور بیٹا یحییٰ جو ایک عالم بھی تھا، حاطب الابن (حاطب) کے نام سے جانا جاتا ہے۔

تعلیم[ترمیم]

حطاب نے ابتدا میں اپنے والد کے زیرِ تعلیم تعلیم حاصل کی، جو مکہ میں مذہبی لقب رکھتے تھے۔ آپ نے بچپن ہی سے قرآن سیکھا۔ انہوں نے اسلامی تاریخ کے چند اہم ترین علماء جیسے سیوطیؒ، ابن حجر عسقلانیؒ اور سخاویؒ کے براہ راست طلباء سے بھی حدیث کا علم حاصل کیا۔ محمد نے دیگر اسلامی علوم کی زیادہ تر تعلیم اپنے والد سے حاصل کی تاہم جو خود اپنے طور پر ایک قابل احترام عالم اور السخاویؒ کے شاگرد تھے۔ الحطاب نے اپنی فقہ (فقہ) کو خاص طور پر اپنے والد سے لیا، ایک ایسا شعبہ جس میں بعد میں انہیں سبقت حاصل کرنی تھی اور مشہور ہونا تھا۔آپ نے اپنی زیر سرپرستی میں بہت سی تصانیف کا مطالعہ کیا جن میں امام مالکؒ کا موطا، سہنون کا مدوانہ، ابن ابی زیدؒ کا رسالہ، ابن عبد البرؒ کی تمہید، ایوروز کی مقدّمت، قرافی کا ذکرہ،اور شرح شامل ہیں۔ الفکیہانیؒ کی العمدہ، خلیلؒ کا مختار اور مالکی مکتب کے بہت سے دوسرے اہم متن شامل ہیں۔ [3]

اسفار[ترمیم]

الحطابؒ نے بعد میں مشرق اور مغرب دونوں اسلامی دنیا کے سفر کا آغاز کیا۔آپ نے خاص طور پر مصر میں تعلیم حاصل کرنے کا ایک عرصہ گزارا لیکن بعد میں اپنے والد کے ساتھ واپس طرابلس چلے گے۔ جب آپ طرابلس واپس آئے تو ان کے مطالعاتی حلقوں میں اس قدر مقبول ہوا کہ شہر کے بہت سے صوفیوں نے ان کے درس میں شرکت کو ترجیح دی۔ [4]آپ نے اپنی زندگی کے اس دور میں اپنا زیادہ وقت اپنے والد کی دیکھ بھال میں صرف کیا۔

وفات[ترمیم]

الحطاب کی موت نسبتاً کم عمری میں ہوئی، اور اس بارے میں مختلف بیانات ہیں۔آپ کی موت واقعتاً کہاں ہوئی،اس میں اختلاف ہے۔ مکہ میں ہوئی یا طرابلس میں۔وللہ اعلم

آپ کی فکری میراث ان کے اسلامی فقہ (فقہ) کے کاموں میں سب سے بہتر طور پر مجسم ہے۔آپ کی مواحب الجلیل خاص طور پر مالکی فقہ کی اہم نصوص میں سے ایک ہے اور اسے خلیل کے اجمالی متن کی بہترین تفسیر قرار دیا گیا ہے۔آپ کی ایک اور مشہور تصنیف قرۃ العین ہے، جو کہ ایک مختصر عبارت ہے جو امام جوینی کی ورقات پر بیان کرتی ہے۔ جو اصول (اسلامی قانونی طریقہ کار) کا ایک اہم متن ہے۔

مزید دیکھو[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Nasir ud-Deen Muhammad al-Sharif, Al-Jawahir al-Ikliliya fi A'yaan 'Ulama Libya min al-Malikiyya (Amman: Dar al-Bayareeq, 1999), 144.
  2. Ahmed Mustafa al-Tahtawi, ed., Imam al-Hattab, Qurrat al-'Ayn li Sharh Waraqaat Imam al-Haramayn, (Cairo: Dar al-Fadhila, 2007), 9.
  3. Tahtawi, Qurrat al-'Ayn, 10.
  4. [Al Qawl al Wadhih fi Bayan al Jawarih, 22]