حفصہ بنت عمر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حفصہ بنت عمر
(عربی میں: حفصة بنت عمر بن الخطابخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
حفصہ بنت عمر

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 602  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 661 (58–59 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
قومیت عرب
شوہر خنیس بن حذافہ (اگست 624ء)
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم (جنوری 625ء8 جون 632ء)
والدین عمر بن خطاب (والد)،
زینب بنت مظعون (والدہ)
والد عمر ابن الخطاب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
عبد اللہ بن عمر،عاصم بن عمر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بہن/بھائی (P3373) ویکی ڈیٹا پر

حضرت حفصہ بنت عمر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج میں سے ایک تھیں۔آپ بعثت نبوی سے 5 سال قبل پیدا ہوئیں [1]

سوانح

آپ رضی اللہ عنہا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں۔ والدہ کا نام زینب بنت مظعون تھا۔ عثمان بن مظعون کی بہن تھیں [1] آپ پڑھی لکھی اور حافظ قرآن تھیں۔ زید بن ثابت نے قرآن کا جو نسخہ جمع کیا تھا وہ حضرت حفصہ کے پاس امانت رکھا تھا۔ حضرت عثمان نے اسی نسخے کی نقلیں کراکے دوسرے مقامات کو بھیجیں۔اسی وجہ سے ان کا لقب حارسۃ القرآن تھا

اسلام اور ہجرت

ماں باپ اور شوہر کے ساتھ اسلام قبول کیا ہجرت اپنے پہلے شوہر خنیس بن حذافہ کے ساتھ کی غزوہ بدر میں آپکے شوہر زخمی ہوئے انہی کی وجہ سے شہادت پائی[1]

نکاح

ان کی پہلی شادی خنیس بن خذافہ سے ہوئی جو خاندان بنو سہم سے تھے۔[1] حضرت حفصہ نے ان کے ساتھ مدینہ ہجرت کی۔ غزوہ بدر میں خینس نے زخم کھائے اور مدینہ واپس پہنچ کر شہادت پائی۔ 3 ھ میں حضرت حفصہ نبی اکرم کے حبالۂ عقد میں آئیں۔ ان سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔

وفات

حضرت حفصہ امیر معاویہ کے عہد خلافت میں شعبان45ھ ( 665ء ) مدینہ میں وفات پائی۔مروان گورنر مدینہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔

حوالہ جات

  1. ^ 1.0 1.1 1.2 1.3 سیر الصحابہ ،سعید انصاری،جلد6، صفحہ 50، دارالاشاعت کراچی
مؤمنین کی والدہ
ام المؤمنین
امہات المؤمنین - (ازواج مطہرات)

امہات المومنین