حفصہ بنت عمر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(حفصہ بنت عمر بن خطاب سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
حفصہ بنت عمر
(عربی میں: حفصة بنت عمر بن الخطاب ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تخطيط كلمة حفصة بنت عمر.png 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 604  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات اکتوبر 665 (60–61 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ، خلافت امویہ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن جنت البقیع، مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شوہر خنیس بن حذافہ (–اگست 624)
محمد بن عبداللہ (جنوری 625–8 جون 632)  ویکی ڈیٹا پر شریک حیات (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد عمر ابن الخطاب  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
عبد اللہ بن عمر، عاصم بن عمر، عبیداللہ ابن عمر ابن خطاب  ویکی ڈیٹا پر بہن/بھائی (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

حفصہ بنت عمر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج میں سے ایک تھیں۔ آپ بعثت نبوی سے 5 سال قبل پیدا ہوئیں۔[1]

نام و نسب

حفصہ نام، عمر فاروق کی صاحبزادی تھیں، سلسلہ نسب یہ ہے، حفصہ بنت عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزی بن رباع بن عبد اللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن لوی بن فہر بن مالک۔ والدہ کا نام زینب بنت مظعون تھا، جو مشہور صحابی عثمان بن مظعون کی ہمشیرہ تھیں اور خود بھی صحابیہ تھیں، حفصہ اور عبد اللہ بن عمر حقیقی بھائی بہن ہیں۔ حفصہ بعثت نبوی سے پانچ سال قبل پیدا ہوئیں، اس وقت قریش خانہ کعبہ کی تعمیر میں مصروف تھے۔

نکاح

پہلا نکاح خنیس بن حذافہ سے ہوا۔ جو خاندان بنو سہم سے تھے۔

اسلام

ماں باپ اور شوہر کے ساتھ مسلمان ہوئیں۔

ہجرت اور نکاح ثانی

شوہر کے ساتھ مدینہ کو ہجرت کی، غزوہ بدر میں خنیس نے زخم کھائے اور واپس آ کر انہی زخموں کی وجہ سے شہادت پائی، عدت کے بعد عمر کو حفصہ کے نکاح کی فکر ہوئی، اسی زمانہ میں رقیہ بنت محمد کا انتقال ہو چکا تھا، اسی بنا پر عمر سب سے پہلے عثمان غنی سے ملے اور ان سے حفصہ کے نکاح کی خواہش ظاہر کی، انہوں نے کہا میں اس پر غور کروں گا، چند دنوں کے بعد ملاقات ہوئی، تو انہوں نے صاف ان کار کیا، عمر نے مایوس ہو کر ابو بکر صدیق سے ذکر کیا انہوں نے خاموشی اختیار کی، عمر کو ان کی بے التفاتی سے رنج ہوا، اس کے بعد خود رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ سے نکاح کی خواہش کی، نکاح ہو گیا تو ابو بکر، عمر سے ملے اور کہا کہ جب تم نے مجھ سے حفصہ کے نکاح کی خواہش ظاہر کی اور میں خاموش رہا، تو تم کو ناگوار گزرا، لیکن میں نے اسی بنا پر کچھ جواب نہیں دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ذکر کیا تھا اور میں ان کا راز فاش نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سے نکاح کا قصد نہ ہوتا تو میں اس کے لیے آمادہ تھا۔[2][3]

اولاد

کوئی اولاد نہیں چھوڑی۔

فضل و کمال

معنوی یادگاریں بہت سی ہیں اور وہ ہیں عبد اللہ بن عمر، حمزہ (بن عبد اللہ)، صفیہ بنت ابو عبید (زوجہ عبد اللہ)، حارثہ بن وہب، مطلب ابی وادعہ، ام مبشر انصاریہ، عبد اللہ بن صفوان بن امیہ، عبد الرحمن بن حارث بن ہشام، حضرت حفصہ سے ساٹھ حدیثیں منقول ہیں، جو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور عمر سے سنی تھیں۔

تفقہ فی الدین کے لیے واقعہ ذیل کافی ہے، ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ اصحاب بدر و حدیبیہ جہنم میں داخل نہ ہوں گے، حفصہ نے اعتراض کیا کہ خدا تو فرماتا ہے "تم میں سے ہر شخص وارد جہنم ہو گا" آپ نے فرمایا ہاں لیکن یہ بھی تو ہے۔" پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اس پر زانووں پر گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔"[4] اسی شوق کا اثر تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی تعلیم کی فکر رہتی تھی، شفاء کو چیونٹی کے کاٹے کا منتر آتا تھا، ایک دن وہ گھر میں آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم حفصہ کو منتر سکھلا دو۔[5]

اخلاق

"وہ (حفصہ) صائم النہار اور قائم الیل ہیں۔"[6] دوسری روایت میں ہے: "انتقال کے وقت تک صائم رہیں۔"

اختلاف سے سخت نفرت کرتی تھیں، جنگ صفین کے بعد جب تحکیم کا واقعہ پیش آیا تو ان کے بھائی عبد اللہ بن عمر اس کو فتنہ سمجھ کر خانہ نشین رہنا چاہتے تھے، لیکن حفصہ نے کہا کہ گو اس شرکت میں تمھارا کوئی فائدہ نہیں، تاہم تمہیں شریک رہنا چاہیے، کیونکہ لوگوں کو تمھاری رائے کا انتظار ہو گا اور ممکن ہے کہ تمھاری عزلت گزینی ان میں اختلاف پیدا کر دے۔[7]

دجال سے بہت ڈرتی تھیں، مدینہ میں ابن صیاد نامی ایک شخص تھا، دجال کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو علامتیں بتائی تھیں، اس میں بہت سی موجود تھیں، اس سے اور عبد اللہ بن عمر سے ایک دن راہ میں ملاقات ہو گئی، انہوں نے اس کو بہت سخت سست کہا، اس پر وہ اس قدر پھولا کہ راستہ بند ہو گیا، ابن عمر نے اس کو مارنا شروع کیا حفصہ کو خبر ہوئی تو بولیں، تم کو اس سے کیا غرض، تمہیں معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دجال کے خروج کا محرک اس کا غصہ ہوگا۔[8][9]

حفصہ کے مزاج میں ذرا تیزی تھی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی کبھی دوبدو گفتگو کرتیں اور برابر کا جواب دیتی تھیں، چنانچہ صحیح بخاری میں خود عمر بن خطاب سے منقول ہے کہ "ہم لوگ جاہلیت میں عورت کو ذرہ برابر بھی وقعت نہ دیتے تھے، اسلام نے ان کو درجہ دیا اور قرآن میں ان کے متعلق آیتیں اتریں، تو ان کی قدر و منزلت معلوم ہوئی، ایک دن میری بیوی نے کسی معاملہ میں مجھ کو رائے دی، میں نے کہا، "تم کو رائے و مشورہ سے کیا واسطہ" بولیں، "ابن خطاب تم کو ذرا سی بات کی بھی برداشت نہیں حالانکہ تمھاری بیٹی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو برابر کا جواب دیتی ہے، یہاں تک کہ آپ دن بھر رنجیدہ رہتے ہیں،" میں اٹھا اور حفصہ کے پاس آیا، میں نے کہا "بیٹی میں نے سنا ہے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برابر کا جواب دیتی ہو" بولیں "ہاں ہم ایسا کرتے ہیں" میں نے کہا خبردار میں تمہیں عذاب الہی سے ڈراتا ہوں، تم اس عورت (عائشہ) کی ریس نہ کرو جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے اپنے حسن پر ناز ہے۔[10]

ترمذی میں ہے کہ ایک دفعہ صفیہ رو رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور رونے کی وجہ پوچھی، انہوں نے کہا کہ مجھ کو حفصہ نے کہا ہے کہ "تم یہودی کی بیٹی ہو" آپ نے فرمایا حفصہ خدا سے ڈرو، پھر صفیہ سے ارشاد ہوا "تم نبی کی بیٹی ہو۔ تمھارا چاچا پیغمبر ہے اور پیغمبر کے نکاح میں ہو، حفصہ تم پر کس بات میں فخر کر سکتی ہے۔"[11]

ایک بار عائشہ اور حفصہ نے صفیہ سے کہا کہ "ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک تم سے زیادہ معزز ہیں، ہم آپ کی بیوی بھی ہیں اور چچا زاد بہن بھی، صفیہ کو ناگوار گزرا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی، آپ نے فرمایا تم نے یہ کیوں نہیں کہا کہ تم مجھ سے زیادہ کیونکر معزز ہو سکتی ہو، میرے شوہر محمد صلی اللہ علیہ وسلم، میرے باپ ہارون علیہ السلام اور میرے چچا موسی علیہ السلام ہیں۔"

عائشہ ابو بکر کی اور حفصہ عمر کی بیٹی تھیں جو تقریب نبوی میں دوش بدوش تھے، اس بنا پر عائشہ و حفصہ بھی دیگر ازواج کے مقابلہ میں باہم ایک تھیں۔ چنانچہ واقعہ تحریم جو سنہ 9 ہجری میں پیش آیا تھا، اسی قسم کے اتفاق کا نتیجہ تھا، ایک دفعہ کئی دن تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم زینب کے پاس معمول سے زیادہ بیٹھے، جس کی وجہ یہ تھی کہ زینب کے پاس کہیں سے شہد آ گیا تھا، انہوں نے آپ کو پیش کیا آپ کو شہد بہت مرغوب تھا۔ آپ نے نوش فرمایا، اس میں وقت مقررہ سے دیر ہو گئی، عائشہ کو رشک ہوا حفصہ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمارے اور تمھارے گھر میں آئیں تو کہنا کہ آپ کے منہ سے مغافیر کی بو آتی ہے،[ح 1] (مغافیر کے پھولوں سے شہد کی مکھیاں رس چوستی ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا لی کہ میں شہد نہ کھاؤں گا۔ اس پر قرآن مجید کی یہ آیت اتری:[12] "اے پیغمبر اپنی بیویوں کی خوشی کے لیے تم خدا کی حلال کی ہوئی چیز کو حرام کیوں کرتے ہو؟"

کبھی کبھی (حفصہ وعائشہ) میں باہم رشک و رقابت کا اظہار ہو جایا کرتا تھا، ایک مرتبہ عائشہ و حفصہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھیں، رسول صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راتوں کو عائشہ کے اونٹ پر چلتے تھے اور ان سے باتیں کرتے تھے، ایک دن حفصہ نے عائشہ سے کہا کہ آج رات کو تم میرے اونٹ پر اور میں تمھارے اونٹ پر سوار ہوں تا کہ مختلف مناظر دیکھنے میں آئیں، عائشہ راضی ہو گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ کے اونٹ کے پاس آئے جس پر حفصہ سوار تھیں جب منزل پر پہنچے اور عائشہ نے آپ کو نہیں پایا تو اپنے پاؤں کو اذخر[ح 2] کے درمیان میں لٹکا کر کہنے لگیں، "خداوند! کسی بچھو یا سانپ کو متعین کر جو مجھے ڈس جائے۔"[13][ح 3]

وفات

حفصہ نے شعبان سن 45 ہجری میں مدینہ میں انتقال کیا، یہ معاویہ کی ملوکیت کا زمانہ تھا۔ مروان نے جو اس وقت مدینہ کا گورنر تھا، نماز جنازہ پڑھائی اور کچھ دور تک جنازہ کو کندھا دیا، اس کے بعد ابو ہریرہ جنازہ کو قبر تک لے گئے، ان کے بھائی عبد اللہ بن عمر اور ان کے لڑکوں عاصم، سالم، عبد اللہ اور حمزہ نے قبر میں اتارا۔

ام المومنین حفصہ کے سنہ وفات میں اختلاف ہے، ایک روایت ہے کہ جمادی الاول سنہ 41 ہجری میں وفات پائی، اس وقت ان کا سن 59 سال کا تھا۔ لیکن اگر سنہ وفات 45 ہجری قرار دیا جائے۔ تو ان کی عمر 63 سال کی ہو گی، ایک روایت ہے کہ انہوں نے عثمان کی خلافت میں انتقال کیا، یہ روایت اس بنا پر پیدا ہو گئی کہ وہب نے ابن مالک سے روایت کی ہے جس سال افریقا فتح ہوا، حفصہ نے اسی سال وفات پائی اور افریقا عثمان کی خلافت میں سنہ 27 ہجری میں فتح ہوا۔ لیکن یہ سخت غلطی ہے۔ افریقا دو مرتبہ فتح ہوا۔ اس دوسری فتح کا فخر معاویہ کو حاصل ہے، جنہوں نے معاویہ کے عہد میں حملہ کیا تھا۔ حفصہ نے وفات کے وقت عبد اللہ بن عمر کو بلا کر وصیت کی اور غابہ میں جو جائداد تھی جسے عمر ان کی نگرانی میں دے گئے تھے، اس کو صدقہ کر کے وقف کر دیا۔[14]

حواشی

  1. مغافیر کی بو کا اظہار کرنا کوئی جھوٹ بات نہ تھی مغافیر کے پھولوں میں اگر کسی قسم کی کرختگی ہو تو تعجب کی بات نہیں
  2. ایک گھاس ہے
  3. یہ حضرت حفصہ سے رقابت کا اظہار نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت سفر جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے ساتھ پسند کرتے تھے اس سے محرومی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدگی کی بجائے حضرت حفصہ کو حضور کی مرضی کے خلاف اونٹ پر بٹھانا تھا۔

حوالہ جات

  1. سیر الصحابہ، سعید انصاری، جلد 6، صفحہ 50، دارالاشاعت کراچی
  2. صحیح بخاری ج2 ص571
  3. اصابہ ج8 ص51
  4. مسند احمد بن حنبل ج6 ص285
  5. مسند ابن حنبل ج6 ص281
  6. اصابہ ج8 ص52
  7. صحیح بخاری ج2 ص589
  8. مسند احمد بن حنبل ج6 ص283
  9. مسلم کتاب الفتن ذکر ابن صیاد
  10. بخاری ج2 کتاب التفسیر وفتح الباری ج8 ص504
  11. ترمذی بالفضل ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم
  12. صحیح بخاری ج2 ص29
  13. صحیح بخاری (وسیرة النبی جلد دوم)
  14. زرقانی ج3 ص271