حقیقت پسندی (ادب)
ادب میں حقیقت پسندی یا واقعیت پسندی سے زندگی کی ایسی تصویر کشی مراد ہے جس پر اصلیت کا دھوکا ہو۔ لکھنے والے کو جو نظر آئے اسے بنائے سنوارے بغیر پیش کرنا لازم ہے۔ حقیقت پسندی ان معاملات سے سروکار نہیں رکھتی جو معمول سے بلند تر ہوں یا ارفع ترین باطنی تجربات پر مشتمل ہوں۔ صوفیانہ اور روحانی تجربات حقیقت کا حصہ ہوتے ہوئے بھی حقیقت پسندی کے دائرے سے ماورا ہیں۔ حقیقت پسندی کے ساتھ روزمرہ کی نارمل اور عمل پسندانہ زندگی کا تصور بڑی مضبوطی سے جڑا ہوا ہے۔
ادب میں حقیقت پسندی کوئی بالکل نئی چیز نہیں۔ پرانے رزمیوں میں جا بجا اصلی زندگی کی جھلک نظر آتی ہے۔ پرانے ڈرامے بھی، خواہ ان کا تعلق مغرب سے ہو یا مشرق سے، حقائق کی کسی نہ کسی سطح سے تعلق قائم رکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ اردو داستانوں میں بھی، جنھیں دیووں، پریوں اور سورماؤں کے ناقابل یقین کارناموں کا گھٹیا ملغوبہ سمجھا جاتا رہا، حقیقی زندگی کی باکمال عکاسی ملتی ہے۔ محمد حسن عسکری نے اپنے طلسم ہوش رہا کے انتخاب میں یہ تک لکھا کہ داستانوں میں ملنے والی حقیقت پسندی کے نمونے اس پائے کے ہیں کہ کہنا پڑتا ہے کہ شاید بعد میں اردو ادیب زندگی کو اتنے قریب سے دیکھ ہی نہ سکے۔ پرانے رزمیوں، ڈراموں، داستانوں اور قصوں میں جس حقیقت پسندی سے ہم دوچار ہوتے ہیں وہ اتفاقی نوعیت کی ہے اور لکھنے والے صرف اتنا بتانا چاہتے چاہتے ہیں کہ کہ زندگی کی ایک جہت یہ بھی ہے اور ادب میں اس کی بھی کہیں نہ کہیں گنجائش ہے۔