حلیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حلیم (دالیم / کھچڑا)
تیار شدہ حلیم
اصلی وطن مشرق وسطی [1]
علاقہ یا ریاست
وسطی ایشیا
مشرق وسطی
ایران
پاکستان
ترکی
انڈیا
بنگلہ دیش
بنیادی اجزائے ترکیبی گندم, جو, دال مسورs, گوشت
تغیرات حیدر آیادی حلیم, کھچڑا, ہاریسہ

"حلیم" پاک ہند کے ان چند پکوانوں میں سے ایک ہے جو یہاں کے لوگ بہت رغبت سے کھاتے ہیں۔ اس کا حوالہ تہذیبی ہونے کے ساتھ ساتھ مذہبی بھی ہے۔ حلیم عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معانی "نرم" کے بھی ہوتے ہیں۔ اردو کے مشہور شاعر اور مزاح نگار ابن انشا مرحوم نے تو صدر کراچی کے معروف حلیم فروش "گھسیٹے خان" پر حاشیے ( کالمز) بھی لکھے۔ عرب اور وسط ایشیا کے حملہ وروں اور تجار نے حلیم کو برصغیر میں متعارف کروایا۔ عربی معاشرے میں اس کو " ہریسہ" اور کچھ لوگ " ہریس" کہتے ہیں۔ انتولیہ ایران میں اس کو "ڈشک" شمالی عراق میں اس کو "کس کس" کہا جاتا ہے۔ بوزنیا میں بھی حلیم کے شکل کی ڈش بنائی جاتی ہے جس کا رنگ سفید ہوتا ہے۔ حلیم پاکستان اور ہندوستان کا ثقافتی اور مذہبی پکوان ہے۔ جو رمضان شریف اور محرم الحرام میں خوب کھایا جاتا ہے۔ محرم کی نویں/9 شب کو ہندوستاں اور پاکستان کے مسلمان امام حسین (ر۔ ص) کی نیاز کے طور پر حلیم پکاتے ہیں۔ خاص کر پاک و ہند کے چند بڑے شہروں میں نوجوان رات بھر دیگوں میں بڑے پیمانے پر حلیم بناتے نظر آتے ہیں۔ یہ حلیم لکڑیوں پر پکایا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش میں حلیم پر بہار رمضانوں میں آتی ہے۔ پاک و ہند میں "کھچڑا" بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے۔ یہ حلیم کی ہی ایک شکل ہے۔ جس میں گوشت کا مصالحہ دار قورمہ تیار کرکے الگ سے ابلے ہوئے دلیہ اناج، گیہوں میں ملا دیا جاتا ہے۔ اور آگ کی ہلکی آنچ میں پکایا جاتا ہے۔ حلیم کی ایک اور شکل " حیدرآبادی حلیم " بھی ہے۔ جو مغلوں کے زمانے میں یمنی عرب، ایرانی اور افغانی باشندوں نے حیدرآباد دکن میں متعارف کروایا۔ حیدرآباد میں حلیم " پوٹلے" کے گوشت اور اصلی گھی سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس حلیم میں یہ اجزا شامل ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ مسور کی دال، ماش کی دال،چنے کی دال، جو،چاول، گہیوں/ اناج ،گھی/ تیل ،پسا ہوا گرم مصالحہ پسا ہوا سیاہ زیرہ، پسی ہوئی ہلدی،بادیان کے پھول،تلہاری مرچ، گائے، مرغی یا مٹن کا گوشت (معہ یخنی)، پسا ھو لہسن،پسی ہوئی ادرک، کٹے ہوئے بادام اور اخروٹ، لیموں کے کترے ہوئے چھلکے، تیز پات، بڑی سیاہ الائچی، املی یا لیموں کا رس یا دھی بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ حلیم تیار ہونے کے بعد اس پر پودینے کے پتے،سبز دھنیا، لیمو کا رس، تلے ہوئے پیاز اور کتری ہوئی ادراک ڈال کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس پر گھی یا تیل کا تڑکا/ بھگار بھی لگایا جاتا ہے اور اس کر مزید چٹ پٹا بنانے کے لیے حلیم پر گرم مصالحہ بھی ڈالا جاتا ہے۔ حلیم میں "فائبر"ہوتا ہے اور ہضم بھی قدرے جلد ہوجاتا ہے۔ کراچی، لاہور اور حیدرآباد (انڈیا) میں حلیم کے خصوصی ریسٹورنیٹس ہیں جہان صرف حلیم ہی فروخت ہوتا ہے۔ لاہور میں المدینہ مرغ اینڈ حلیم، کوزی حلیم رائل پارک، المشہور قاسم حلیم، عاشق چنیائی حلیم، حاجی سلطان حلیم،ضم مرغ حلیم،۔۔۔۔۔ سبزی خوروں کے لیے بغیر گوشت کا حلیم بھی تیار کیا جاتا ہے جس کو " لزیزہ" کہا جاتا ہے۔ کچھ بڑے شہروں میں ٹھیلوں پربھی حلیم فروخت ہوتا ہے۔ کراچی میں اسلم روڈ اور جٹ لائنز پرپہلے سے تیار شدہ حلیم کی ڈیگیں ملتی ہیں جو نیاز اور فاتحہ کے لیے اور ٹھیلوں پر حلیم فروخت کرنے والوں کو آسانی سے مئیسر ہوتی ہے۔ آج کل غلط کاروباری انداز بھی دیکھنے میں مل رہا ہے۔ کچھ دن قبل حلیم کے ریسٹورنٹس پر پویس نے ایسی حلیم کی دیگیں اپنے تحویل میں لے لیں جس میں پٹسن کی بوریوں کے ریشے اورباریک دھاگوں کی آمیزش کی گی تھی۔ یہ لوگ حلیم میں " ڈیکری" بھی استعمال کرتے ہیں۔ اب تو کراچی میں حلیم نے سیاسی رنگ بھی اختیار کر لیا ہے۔ کچھ سیاست دان اپنی سیاسی ملاقاتوں اور صحافیوں کے ساتھ پریں کانفرسوں میں "حلیم" تیار کرواتے ہیں۔ یورپ، مشرق وسطی، عرب امارات، امریکا اورکینڈا کے دیسی ریسٹورنیس میں بھی حلیم زوق و شوق سے کھایا اور کھلایا جاتا ہے۔ مغربی ممالک میں حلیم بند ڈبوں میں بھی ملتا ہے۔ بازار میں حلیم تیاری کرنے کے لیے تیار شدہ مصالحہ جات مل جاتے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

عرب اور وسطی اشیا کے حملہ اوروں اور تاجروں نے حلیم کو برصغیر میں متعارف کروایا۔ بوسنیا میں بھی حلیم جیساپکوان بنایا جاتا ہے جس کا رنگ سفید ہوتا ہے۔ حلیم پاکستان اور ہندوستان کا ثقافتی اور مذھبی پکوان ہے۔ جو رمضان شریف اور محرم الحرام میں خوب کھایا جاتا ہے۔ محرم کی نویں شب کو ہندوستاں اور پاکستان کے مسلمان امام حسین کی نیاز کے طور پر حلیم پکاتے ہیں۔ خاص کر پاک و ہند کے چند بڑے شہروں میں نوجوان رات بھر دیگوں میں بڑے پیمانے پر حلیم بناتے نظر آتے ہیں۔ یہ حلیم لکڑیوں پر پکایا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش میں حلیم پر بہار رمضانوں میں آتی ہے۔ پاک و ہند میں "کھچڑا" بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے۔ یہ حلیم کی ہی ایک شکل ہے۔ جس میں گوشت کا مصالحہ دار قورمہ تیار کرکے الگ سے ابلے ہوئے دلیہ اناج، گہیوں میں ملا دیا جاتا ہے۔ اور آگ کی ہلکی آنچ میں پکایا جاتا ہے۔ حلیم کی ایک اور شکل " حیدرآبادی حلیم " بھی ہے۔ جو مغلوں کے زمانے میں یمنی عرب، ایرانی اور افغانی باشندوں نے حیدرآباد دکن میں متعارف کروایا۔ حیدرآباد میں حلیم " پوٹلے" کے گوشت اور اصلی گھی سے تیار کیا جاتا ہے۔

اجزاء[ترمیم]

حلیم میں یہ اجزا شامل ہوتے ہیں

  • مسور کی دال
  • ماش کی دال
  • چنے کی دال
  • چاول
  • گیہوں
  • گھی یا تیل
  • پسے ہوئے مسالے ( گرم مصالحہ، سیاہ زیرہ، ہلدی،بادیان کے پھول،تلہاری مرچ،لہسن،ادرک، کٹے ہوئے بادام اور اخروٹ،لیموں کے کترے ہوئے چھلکے، تیز پات، بڑی سیاہ الائچی، املی یا لیموں کا رس)
  • گائے، مرغی یا مٹن کا گوشت(معہ یخنی)

حلیم تیار ہونے کے بعد اس پر پودینے کے پتے،سبز دھنیا، لیمو کا رس، تلے ہوئے پیاز اور کتری ہوئی ادراک ڈال کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس پر گھی یا تیل کا تڑکا/ بھگار بھی لگایا جاتا ہے اور اس کر مزید چٹ پٹا بنانے کے لیے حلیم پر گرم مصالحہ بھی ڈالا جاتا ہے۔ اس میں دودھ یا دہی ملایا جائے تو حلیم کا مزہ دو بالا ہو جاتا ہے۔ حلیم میں "فائبر"ہوتا ہے اور ہضم بھی قدرے جلد ہوجاتا ہے۔

پاکستان میں حلیم[ترمیم]

کراچی، لاہور اور حیدرآباد (انڈیا) میں حلیم کے خصوصی ریسٹورنیٹس ہیں جہان صرف حلیم ہی فروخت ہوتا ہے۔ لاہور میں المدینہ مرغ اینڈ حلیم، کوزی حلیم رائل پارک، المشہور قاسم حلیم، عاشق چنیائی حلیم، حاجی سلطان حلیم،ضم مرغ حلیم، کراچی میں حلیم سنڑ ڈیفینس، مزیدار حلیم برنس روڈ، کراچی حلیم برنس روڈ، حلیم گھر،گلبرگ کا حلیم۔ حیدرآباد ،انڈیا،" لاجواب حلیم " کے ریسٹورینس کے نام لیے جاتے ہیں۔ سبزی خوروں کے لیے بغیر گوشت کا حلیم بھی تیار کیا جاتا ہے جس کو " لذیذہ" کہا جاتا ہے۔ کچھ بڑے شہروں میں ٹھیلوں پربھی حلیم فروخت ہوتاہے۔ کراچی میں اسلم روڈ اور جٹ لائنز پرپہلے سے تیار شدہ حلیم کی ڈیگیں ملتی ہیں جو نیاز اور فاتحہ کے لیے اور ٹھیلوں پر حلیم فروخت کرنے والوں کو آسانی سے میسر ہوتی ہے۔ کراچی میں حلیم کے کاروبارمیں دو/2 نمبر کے لوگ بھی شامل ہو گئے ہیں کچھ دن قبل حلیم کے ریسٹورنٹس پر پویس نے ایسی حلیم کی دیگیں اپنے تحویل میں لے لیں جس میں پٹسن کی بوریوں کے ریشے اورباریک دھاگوں کی آمیزش کی گئی تھی۔ یہ لوگ حلیم میں " ڈیکری" بھی استعمال کرتے ہیں۔ اب تو کراچی میں حلیم نے سیاسی رنگ بھی اختیار کر لیا ہے۔ کچھ سیاست دان اپنی سیاسی ملاقاتوں اور صحافیوں کے ساتھ پریں کانفرسوں میں "حلیم" تیار کرواتے ہیں۔ یورپ، مشرق وسطی، عرب امارات، امریکا اورکینڈا کے دیسی ریسٹورنیس میں بھی حلیم شوق سے کھایا اور کھلایا جاتا ہے۔ مغربی ممالک میں حلیم کینز ( Cans) میں بھی ملتا ہے۔ بازار میں حلیم تیار کرنے کے لیے تیار شدہ مصالحہ جات مل جاتے ہیں۔ معروف حلیم کے مصالحے بنانے والی کمپنیاں، شان، نیشنل، احمد منگل، نسیم، سب ڈپ، پران اور کسان ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]