حماد بن سلمہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حماد بن سلمہ
معلومات شخصیت
تاریخ وفات سنہ 783  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ ابراہیم بن یزید النخعی،  حمید بن ہلال  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ماہرِ لسانیات  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

ابو سلمہ حماد بن سلمہ (وفات 167ھ)، بصرہ کے مفتی اور احادیث کے ایک بڑے راوی تھے۔ اس کے علاوہ آپ عربی گرامر کے اصول و مبادی پر تحقیق کے حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں۔ حماد بن سلمہ تصوف پر تنقید کرتے تھے اور ابو حنیفہ کے نظریات کے بھی مخالف تھے۔[1]

ولادت[ترمیم]

حماد بن سلمہ کی ولادت غالبًا سنہ 82ھ مطابق 699ء میں ہوئی۔ ٓ

روی عن[ترمیم]

انہوں نے مندرجہ ذیل راویوں سے روایت کی ہے۔ ازرق بن قیس، اسحاق بن سوید العدوی، اسحا ق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، اشعث بن عبد اللہ بن جابر الحدانی، اشعث بن عبدالرحمان الجرمی، انس بن سیرین، ایوب السختیانی، برد بن سنان ابی العلاء الشامی، بشر بن حرب ابی عمرو الندبی، بہز بن حکیم، تمام بن ابی الحکم، ثابت بن اسلم البنانی، ثمامہ بن عبد اللہ بن انس بن مالک، جبر بن حبیب، جبلہ بن عطیہ، جعد ابی عثمان، حبیب بن الشہید، حبیب المعلم، حجاج بن ارطاۃ، حکیم الاثرم، حماد بن ابی سلیمان، حمید بن ہلال، حمید بن یزید (ابی الخطاب)، حمید الطویل، حنظلہ بن ابی حمزہ، خالد بن ذکوان، خالد الحذاء، داود بن ابی ہند، ربیعہ بن ابی عبدالرحمان، رجاء بن ابی سلمہ، زیاد بن مخراق، زیاد الاعلم، زید بن اسلم، سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمان بن عوف، سعید بن ایاس الجریری، سعید بن جمہان، سلمہ بن دینار، سلمہ بن کہیل، سلیمان التیمی، سماک بن حرب، سنان بن ربیعہ، سہیل بن ابی صالح، سوید بن حجیر الباہلی، سیار بن سلامہ ، شعیب بن الحباب، طلحہ بن عبد اللہ بن کریز ، عاصم بن بہدلہ، عاصم بن المنذر بن الزبیر، عامر الاحول، عباد بن منصور، عبد اللہ بن شداد الاعرج، عبد اللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ، عبداللہ بن عثمان بن خثیم ، عبد اللہ بن عثمان بن عبیداللہ، بن عبدالرحمان بن سمرہ، عبد اللہ بن عون، عبد اللہ بن کثیر القاری، عبداللہ بن محمد بن عقیل، عبد اللہ بن المختار، عبدالرحمان بن اسحاق المدنی، عبدالرحمان بن القاسم بن محمد بن ابی بکر الصدیق، عبدالعزیز بن صہیب، عبدالکریم بن ابی المخارق، عبدالملک بن حبیب ابی عمران الجونی، عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج، عبدالملک بن عمیر، عبدالملک ابی جعفر، عبیداللہ بن ابی بکر بن انس بن مالک، عبیداللہ بن حمید بن عبدالرحمان الحمیری، عبیداللہ بن عمر، عثمان البتی، عسل بن سفیان، عطاء بن السائب، عطاء بن ابی میمونہ، عطاء الخراسانی، عیقل بن طلحہ، عکرمہ بن خالد، علی بن الحکم البنانی، علی بن زید بن جدعان، عمار بن ابی عمار، عمرو بن دینار المکی، عمرو بن یحییٰ بن عمارہ، عمران بن عبد اللہ بن طلحہ الخزاعی، عمیر بن یزید ابی جعفر الخطمی، عیسیٰ بن سنان القسملی،فائد ابی العوام، فرقد السبخی، قتادہ بن دعامہ، قیس بن سعد المکی، کثیر بن معدان البصری، کثیر ابی محمد، کلثوم بن جبر، محمد بن اسحاق بن یسار، محمد بن زیاد القرشی، محمد بن عمرو بن علقمہ بن وقاص اللیثی، محمد بن مسلم المکی(ابو زبیر)، محمد بن واسع، مطر الوراق، میمون بن جابان، نصر بن عمران الضبعی، ہارون بن رئاب، ہشام بن حسان ، ہشام بن زید بن انس بن مالک، ہشام بن عروہ، ہشام بن عمرو الفزاری، واصل بن عبدالرحمان، یحییٰ بن سعید الانصاری، یحییٰ بن عتیق، یزید بن حمید الضبعی، یعلیٰ بن عطاء العامری، یوسف بن سعد، یوسف بن عبد اللہ بن الحارث البصری، یونس بن عبید، ابی الجوزاء المحلمی، ابی عاصم الغنوی، ابی العشراء الدارمی، ابی غالب صاحب ابی امامہ، ابی المہزم التیمیی، ابی نعامہ السعدی، ابی ہارون العبدی، ابی ہارون الغنوی، ابی ہاشم الرمانی[2]۔

روی عنہ[ترمیم]

ان سے مندرجہ ذیل راویوں نے روایت کی ہے

ابراہیم بن حجاج السامی، ابراہیم بن ابی سوید الذارع،احمد بن اسحاق الحضرمی، آدم بن ابی ایاس، اسحاق بن عمر بن سلیط، اسحاق بن منصور السلولی، اسد بن موسیٰ، اسود بن عامر شاذان، بشر بن السری، بشر بن عمر الزہرانی، بہز بن اسد، حبان بن ہلال، حجاج بن منہال، حسن بن بلال، حسن بن موسیٰ الاشیب، حسین بن عروہ، حفص بن عمر الضریر، خلیفہ بن خیاط، داود بن شبیب، روح بن اسلم، روح بن عبادہ، زید بن الحباب، زید بن ابی الزرقاء، شریح بن النعمان، سعید بن عبدالجبار البصری، سعید بن یحییٰ اللخمی، سفیان الثوری، سلیمان بن حرب، سلیمان بن داود الطیالسی، سوید بن عمرو الکلبی، شعبہ بن الحجاج، شہاب بن عباد العبدی، شہاب بن معمر البلخی، شیبان بن فروخ، طالوت بن عباد، عباس بن بکار الضبی، عباس بن الولید النرسی، عبد اللہ بن صالح العجلی، عبد اللہ بن المبارک، عبد اللہ بن مسلمہ القعنبی، عبد اللہ بن معاویہ الجمحی، عبدالاعلیٰ بن حماد النرسی، عبدالرحمان بن سالم الجمحی،عبدالرحمان بن مہدی، عبدالصمد بن حسان ، عبدالصمد بن عبدالوارث، عبدالغفار بن داود الحرانی، عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج، عبدالملک بن عبدالعزیز (ابو نصر التمار)، عبدالواحد بن غیاث،عبد اللہ بن محمد العیشی، عفان بن مسلم،عمرو بن خالد الحرانی،عمرو بن عاصم الکلابی، عمرو بن مرزوق،علاء بن عبدالجبار، غسان بن الربیع، فضل بن دکین، فضل بن عنبسہ الواسطی، فضیل بن حسین الجحدری،قبیصہ بن عقبہ، قریش بن انس ، کامل بن طلحہ الجحدری، مالک بن انس، محمد بن اسحاق بن یسار، محمد بن بکر البرسانی، محمد بن عبد اللہ الخزاعی، محمد بن الفضل بن عارم، محمد بن کثیر المصیصی، محمد بن محبوب البنانی، مسلم بن ابراہیم، مسلم بن ابی عاصم النبیل، مظفر بن مدرک، معاذ بن خالد بن شقیق، معا ذ بن معاذ، مہنیٰ بن عبدالحمید، موسیٰ بن اسماعیل التبوذکی، موسیٰ بن داود الضبی، مؤمل بن اسماعیل، نضر بن شمیل، نضر بن محمد الحرشی، نعمان بن عبدالسلام، ہدبہ بن خالد، ہشام بن عبدالملک الطیالسی،ہیثم بن جمیل، وکیع بن الجراح،یحییٰ بن اسحاق السیلحینی، یحییٰ بن حسان التنیسی، یحییٰ بن حماد الشیبانی،یحییٰ بن سعید القطان، یحییی بن الضریس الرازی، یزید بن ہارون، یعقوب بن اسحاق الحضرمی، یونس بن محمد المؤدب، ابو سیعد مولیٰ بن ہاشم،ابو عامر العقدی[2]۔

جرح و تعدیل[ترمیم]

ابن سعد نے بصرہ کے تابعین کے پانچویں طبقہ میں ان کا ذکر کیا ہے۔ کہتے ہیں حماد ثقہ اور کثیر الحدیث ہیں اور بسا اوقات منکر حدیثیں بیان کر جاتے ہیں[3]۔ ابن حنبل نے کہا کہ یہ حمید الطویل سے روایت کرنے میں ثبت ہیں اور ثابت کی معمر سے روایت کردہ احادیث میں ثبت ہیں۔ اہل بدعت کے رد میں حماد بن سلمہ سے زیادہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ حماد بن سلمہ بن دینار اور حماد بن زید بن درہم ان دونوں کے درمیان وہی فرق ہے جو دینار کو درہم پر فضیلت حاصل ہے۔ عبد اللہ ابن مبارک نے کہا کہ میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا جو حماد سے زیادہ، پہلے لوگوں کے طریقے پر عمل پیرا ہو۔ یحییٰ القطان کہتے ہیں کہ حماد بن سلمہ زیاد سے زیادہ علم رکھتے تھے اور قیس بن سعد کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔ علی بن مدینی کا کہنا ہے کہ جو شخص حماد بن سلمہ کے خلاف کلام کر رہا ہو تو اس پر تہمت عائد کرو۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ حماد بن سلمہ حمید الطویل کی حدیث میں لوگوں میں سب سے بڑے عالم ہیں۔یہ ثابت کی روایات کا یہ سب سے زیادہ علم رکھنے والےاور ثقہ ہیں[4]۔ عجلی نے کہا کہ ثقہ اور صالح ہیں ان کو آخر عمر میں تغیر ہو گیا تھا[5]۔ الساجی نے کہا کہ ثقہ مامون ہیں[2]۔ نسائی نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں اور اس سے پہلے نسائی نے ان کو ثقہ کہا تھا۔ ابن حبان کہتے ہیں کہ اس شخص نے انصاف سے کام نہیں لیا جس نے حماد کی روایات سے پہلو تہی کی اور ابوبکر بن عیاش اور عبد اللہ بن دینار کی روایات سے استدلال کیا ہے[6]۔ حاکم نے کہا کہ مسلم نے حماد بن سلمہ سے اصول میں وہی حدیث لی ہے جو ثابت بن اسلم سے روایت ہے۔ ذہبی نے کہا کہ امام ثقہ ہیں، ان کو کچھ وہم بھی ہوتا ہے[7] ابن حجر نے کہا کہ آٹھویں طبقہ کے کبار راویوں میں سے ثقہ عابد راوی ہے اور ثابت کی احادیث میں تمام لوگوں سے زیادہ قابل اعتماد ہے تاہم آخر عمر میں اس کا حافظہ بدل گیا تھا[8]۔

وفات[ترمیم]

حماد بن سلمہ کی وفات سنہ 167ھ بمطابق 783ء میں ہوئی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Ignác Goldziher, The Zahiris, pg. 15. Volume 3 of Brill Classics in Islam. Leiden: Brill Publishers, 2008. آئی ایس بی این 9789004162419
  2. ^ ا ب پ تہذیب الکمال 7/253ح1482
  3. طبقات ابن سعد9/282ح4116 مطبوعہ مکتبہ خانجی(اردو 7/202 مطبوعہ نفیس اکیڈمی )
  4. تاريخ دارمي ح 37،ح 38، ح39،ح 200
  5. ثقات العجلی 1/319ح354
  6. تقریب الثقات ابن حبان ص388ح3543
  7. ميزان الاعتدال اردو2/414ح2254 مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ، )،الكاشف 1 / 349ح1220 ،المغنی فی الضعفاء 1 / 279ح 1711، ديوان الضعفاء100ح 1118،من تكلم فيہ وہو موثق ص176ح93، سير أعلام النبلاء 7 / 444 ، تذہیب التہذیب 3 / 11ح1499
  8. تقریب1/508ح1507 مطبوعہ دارالاوقاف (اردو 1/211ح1499 مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ)