حماد بن سلمہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حماد بن سلمہ
معلومات شخصیت
تاریخ وفات سنہ 784  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ حمید بن ہلال  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ماہرِ لسانیات  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

ابو سلمہ حماد بن سلمہ (وفات 167ھ)، بصرہ کے مفتی اور احادیث کے ایک بڑے راوی تھے۔ اس کے علاوہ آپ عربی گرامر کے اصول و مبادی پر تحقیق کے حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں۔ حماد بن سلمہ تصوف پر تنقید کرتے تھے اور ابو حنیفہ کے نظریات کے بھی مخالف تھے۔[1]اس نام کے یہ دوسرے بزرگ ہیں،جن کا شمار ممتاز اتباع تابعین میں ہوتا ہے علم وفضل کے ساتھ ان کا خاص امتیاز ان کا زہد واتقا اور تدوین حدیث ہے۔ حافظ ذہبیؒ نے لکھا ہے کہ: ھوااول من صنف التصانیف مع ابن ابی عروبۃ [2] یہ ان اشخاص میں ہیں جنہوں نے سب سے پہلے سعید بن ابی عروبہ کے ساتھ تصنیف وتالیف میں حصہ لیا۔

ولادت[ترمیم]

حماد بن سلمہ کی ولادت غالبًا سنہ 82ھ مطابق 699ء میں ہوئی۔

ٓنام ونسب[ترمیم]

حماد نام اور ابو سلمہ کنیت تھی یہ بنو تمیم کے غلام تھے۔ [3]

تحصیل علم[ترمیم]

یہ تو پتہ نہیں چلتاکہ ان کی ابتدائی تعلیم کہاں شروع ہوئی،مگر اس وقت بصرہ دینی علوم کا ایک اہم مرکز شمار کیا جاتا تھا،وہاں علومِ دینیہ کے علاوہ ادب ولغت اورنحو وصرف کا بھی چرچا تھا،اس لیے اغلب ہے کہ حماد نے بھی عام رواج کے مطابق ان تمام علوم میں ضرور کمال حاصل کیا ہوگا؛چنانچہ ابن عماد حنبلی رقمطراز ہیں: کان فصیحاً مفوھًا اماماً فی العربیۃ [4] وہ فصیح بولنے والے اورعربیت کے امام تھے۔ امام ذہبیؒ نے دوسرے القاب کے ساتھ النحوی بھی لکھا ہے۔ [5]

شیوخ[ترمیم]

ان کے اساتذہ کی فہرست بہت طویل ہے،جس میں بے شمار ممتاز تابعین بھی شامل ہیں، چند تابعین کے اسمائے گرامی شمار کرانے کے بعد حافظ ابن عسقلانی لکھتے ہیں: وخلق کثیر من التابعین فمن بعدھم [6] ان کے علاوہ تابعین کے ایک کثیر گروہ سے انہوں نے استفادہ کیا ہے اس طرح ان کے بعد کے لوگوں سے بھی۔ چنانچہ انہوں نے مختلف اساتذہ سے کسبِ فیض کیا اوران کی بے شمار حدیثوں کے حافظ اور فقہ وفتاوٰی کے وارث بن گئے،بالخصوص حدیث میں وہ مشہور تابعی شیخ ثابت البنانی اورحمید الطویل کی روایات کے خاص حامل تھے۔ [7]

تلامذہ[ترمیم]

زندگی کا بیشتر حصہ بصرہ میں گزارا اور وہیں انہوں نے درس وافادہ کی مجلس گرم کی،ان کے حلقۂ درس میں بلاشبہ لا تعداد لوگوں نے فقہ وحدیث کی تحصیل کی،مشہور اور ممتاز تلامذہ کے نام یہ ہیں: ابن جریح،شعبہ بن الحجاج،یہ دونوں حضرات عمر میں حماد سے بڑے تھے اور شعبہ تو امامِ وقت تھے بایں ہمہ انہوں نے ان سے استفادہ کیا تھا، عبداللہ بن مبارک ، عبد الرحمن بن مہدی،یحییٰ بن سعید القطان،امام ابو داؤد طیالسی حدیث کے تمام مجموعوں ہی میں حضرت حماد بن سلمہ کی روایتیں موجود ہیں،خصوصیت سے ابوداؤد الطیالسی نے،جوان کے تلمیذ رشید ہیں، اپنی مسند میں کئی سوروایتیں ان کے واسطے سے نقل کی ہیں، ایک مشہور اور طویل روایت ملاحظہ ہو۔ امام ابو داؤد طیالسی کہتے ہیں کہ ہم نے حماد بن سلمہ،قیس ابن الربیع اورابوعوانہ تینوں صاحبان نے بواسطہ سماک بن حرب عن ابن المعتمر الکنانی حضرت علیؓ سے روایت کی ہے کہ: جب ان کو رسول اللہ ﷺ نے یمن کا قاضی بناکربھیجا توان کے سامنے یہ مسئلہ آیا کہ کچھ لوگوں نے شیر کو پھنسانے کے لیے ایک گڑھا کھودا اورجب شیراس میں گراتو اس کو دیکھنے کے لیے بڑاہجوم ہوا،ہجوم میں دھکاکھاکر ایک شخص گڑھے میں گرااور گرتے وقت اس نے دوسرے شخص کا سہارا لینے کی کوشش کی؛چنانچہ وہ جھٹکاکھاکر گراچاہتا تھا کہ اس نے تیسرے کو پکڑ لیا اور تیسرے نے چوتھے کو اس طرح چاروں گِر پڑے اور شیر نے ان سب کو پھاڑ ڈالا اور وہ مرگئے،یہ اشخاص جن جن قبائل کے تھے،ان میں خون بہا کے لیے شدید اختلاف ہوا اور نوبت جنگ کی پہنچ گئی،حضرت علی کو اطلاع ہوئی تو وہ موقع پر پہنچے اور سمجھایاکہ کیا تم چاہتے ہوکہ چار آدمیوں کی جگہ دوسومزید آدمیوں کا خون بہہ جائے،اگر تم راضی ہو تو میں فیصلہ کردوں،ورنہ پھر یہ معاملہ رسول اللہ ﷺکی خدمت میں پیش کرو، وہ لوگ آپ کے فیصلہ پر راضی ہوگئے، آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ جن لوگوں نے گڑھا کھودا ہے وہ دیت ادا کریں اوردیت اس طرح تقسیم ہوگی کہ پہلے شخص کے ورثہ کو ۱/۴ دیت،دوسرے کے ورثاء ۱/۳،تیسرے کے ورثا۱/۲،اورچوتھے کو پوری دیت؛چنانچہ بعض لوگ تو اس فیصلہ پر راضی ہوگئے اور بعض راضی نہیں ہوئے،اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں قصہ لے کر حاضر ہوئے،آپ نے فرمایا کہ میں اس کا فیصلہ کروں گا،اسی اثنا میں ایک شخص نے کہا کہ حضرت علیؓ نے یہ فیصلہ کیا ہے،آپ نے فرمایا کہ "القضا کما قضیٰ علی"یعنی حضرت علیؓ نے جو فیصلہ کیا وہی صحیح ہے۔ یہ تو حماد کا بیان ہے اورقیس جو دوسرے راوی ہیں کہتے ہیں کہ: قاضیٰ رسول اللہ ﷺ قضاء علیؓ رسول اللہﷺ نے حضرت علیؓ کے فیصلہ کو نافذ فرمایا۔ اسی طرح اور بہت سی احادیث ہیں،جن کے راوی محض حماد بن سلمہ ہیں،وہ حدیث کے بیان کرنے میں غایت درجہ محتاط تھے، اسی احتیاط کا یہ نتیجہ تھاکہ انہوں نے ارادہ کرلیا تھا کہ حدیث نبوی کی روایت بالکل ترک کردیں،مگران کے استاد ایوب سختیانی نے خواب میں انہیں روایتِ حدیث کا حکم دیا،تووہ آمادہ ہوگئے؛چنانچہ حافظہ ذہبی خود حمادبن سلمہ کا قول نقل کرتے ہیں کہ: ماکان من نیتی ان احدث حتی قال لی ایوب فی النوم حدث [8] حدیث بیان کرنے کا میرا ارادہ نہیں تھا حتیٰ کہ ابوایوب نے مجھے خواب میں تحدیث کا حکم دیا۔ ابن مدینی کا بیان ہے کہ یحییٰ بن ضریس کے پاس دس ہزار ایسی حدیثیں تھیں،جو حماد بن سلمہ سے مروی ہیں۔ [9]

ذریعہ معاش[ترمیم]

امامِ وقت ہوتے ہوئے وہ کپڑے کا کاروبار کرتے تھے،مگر یہ کاروبار بھی محض رزق کفاف کے لیے تھا؛چنانچہ سوار بن عبداللہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ: کنت اتی حماد بن سلمۃ فی سوقہ فاذااربح فی ثوب وقامہ [10] میں بازار میں حماد بن سلمہ کی دکان پر آیا کرتا تھا، جب کسی کپڑے میں ایک دو حبہ فائدہ ہوگیا،وہ فوراً دوکان اٹھادیتے تھے۔ یعنی جہاں سدرمق کا انتظام ہواکاروبار بند کردیا۔

ہم عصر علماء کی رائے[ترمیم]

حفظ و ثقاہت میں حماد بن سلمہ کم ازکم اپنے معاصرین میں مفقودالنظیر تھے،مگرآخرعمر میں سوءِ حفظ کی شکایت پیدا ہو گئی تھی،اس لیے محدثین نے ان کی روایتوں پر جرح کی ہے،امام بخاری نے ان سے روایت تو نہیں کی ہے؛ مگران سے استشہاد کیا ہے،جس سے حماد بن سلمہ کی ثقاہت کا ثبوت بہم پہنچتا ہے،امام مسلم نے ان سے متعدد روایتیں کی ہیں۔ امام بیہقی لکھتے ہیں: هو احد ائمة المسلمين إلا أنه لما كبر ساء حفظه فلدا تركه البخاري وأما مسلم فاجتهد وأخرج من حديثه عن ثابت ما سمع منه قبل تغيره [11] وہ مسلمانوں کے ایک امام ہیں مگر بڑھاپے میں ان کا حافظہ خراب ہوگیا تھا، اسی لیے امام بخاری نے ان سے روایتیں نہیں کی ہیں،مگر امام مسلم نے اجتہاد کیا اورسوءِحفظ سے پہلے کی جوان کی روایتیں ثابت البنانی کے واسطے سے ہیں ان کو انہوں نے اپنی کتاب میں جگہ دی ہے۔ کچھ تو سوءِ حفظ کی وجہ سے اورکچھ اس وجہ سے کہ ان کی کتابوں میں کچھ لوگوں نے الحاق کردیا تھا، ان کی روایتیں بعض محدثین کی نظر میں مشتبہ ہوگئی تھیں، سوء حفظ کے بارے میں امام بیہقی کی رائےاوپر گذر چکی، الحاق کے بارے میں امام عبد الرحمن بن مہدی کا بیان ہے کہ: وکانوا یقولون انھا دست فی کتبہ لوگوں کا خیال ہے کہ حماد بن سلمہ کی کتابوں میں الحاق کیا گیا ہے۔ ان کا ایک ربیب ابن ابی العوجاء نامی تھا، اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ: فکان یدس فی کتبہ ان کی کتابوں میں کچھ ردوبدل کیا کرتا تھا۔ تاہم ائمہ حدیث نے حماد بن سلمہ کے فضل وکمال کا کھلے الفاظ میں اعتراف کیا ہے۔ امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ جس شخص کو حماد بن سلمہ کی بُرائی کرتے ہوئے دیکھو،اس کے اسلام کو مشتبہ سمجھو [12]حافظ ابن حجر نے بھی قریب قریب اسی طرح کا ایک قول نقل کیا ہے۔ [13] علاوہ ازیں ابن عدی، عجلی،نسائی وغیرہ نے بھی ان کی توثیق کی ہے ابن عدی کے الفاظ ملاحظہ ہوں: وحماد من اجلة المسلمين وهو مفتي البصرة وقد حدث عنه من هو أكبر منه سنا وله أحاديث كثيرة وأصناف كثيرة ومشائخ [14] اور حماد اجلہ مسلمین میں سے تھے، بصرہ کے مفتی تھے، ان سے ان کے سن رسیدہ لوگوں نے روایتیں کی ہیں ان سے بکثرت اورمختلف النوع حدیثیں مروی ہیں اور ان کے مشائخ بھی قابلِ ذکر ہیں۔

زہد وعبادت[ترمیم]

علم وفضل کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام کا سازہد واتقاء اورعبادت وریاضت زمہرہ ٔتابعین اوراتباع تابعین کی ایک عام خصوصیت تھی ؛چنانچہ حماد بن سلمہ بھی ان صفاتِ ملکوتی کے اعتبار سے اپنے ہم عصروں میں ممتاز تھے،شہاب بن معمر کہتے ہیں کہ حماد اپنے وقت کے ابدال تھے،ایک دوسرے معا صر عفان کا بیان ہے کہ: قد رأیت من ھوا عبد من حماد بن سلمۃ ولکن ما رایت اشدمواظبۃ علیٰ بخیر وقرأت القرآن والعمل للہ من حماد بن سلمۃ [15] میں نے حماد بن سلمہ سے زیادہ عبادت کرنے والوں کو دیکھا ہے مگر ان سے زیادہ تسلسل اوریکسوئی کے ساتھ بھلائی کرنے والا تلاوت قرآن کرنے والا اورہرکام اللہ ہی کے لیے کرنے والا حماد بن سلمہ سے زیادہ کسی کو نہیں دیکھا۔ امام عبدالرحمن بن مہدی جن کا زہد واتقاء ،ضرب المثل ہے،بیان فرماتے ہیں کہ حماد بن سلمہ کے عمل کا یہ حال تھا کہ اگر ان سے یہ کہا جائے کہ کل آپ کو موت آ جائے گی تو اس سے زیادہ عمل کی ان کے لیے گنجائش نہیں ہوگی [16] ابن حبان کہتے ہیں کہ: ان کا شمار مستجاب الدعوات عابدین میں ہوتا ہے وہ اپنے زمانے کے اقران میں فضل وکمال دین وعبادت میں ممتاز تھے،سنت کے سخت پابند اوراہلِ بدعت کے اثرات کو ختم کرنے میں انتہائی کوشاں تھے۔ [17] خود فرمایا کرتے تھے کہ جوحدیث نبوی کو غیر اللہ کے لیے (یعنی عزت ووجاہت کے حصول کے لیے)حاصل کرتا ہے،وہ خدا سے فریب کرتا ہے۔ [18]

وقت کی قدر[ترمیم]

ایک بار موسیٰ بن اسماعیل نے اپنےشاگردوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں یہ کہوں کہ میں نے حماد بن سلمہ کو کبھی ہنستے نہیں دیکھا،تو یہ سچ کہوں گا وہ ہر وقت اپنے کام میں لگے رہتے تھے،یا تلاوتِ قرآن کرتے یا تسبیحات پڑھتے رہتے تھے،یا پھر نماز میں مشغول رہتے،انہوں نے پورے دن کو انہی کاموں کے لیے تقسیم کررکھا تھا۔ [19] خدائے عزوجل کے یہاں ان کے اعمالِ صالحہ کی مقبولیت ہی کی یہ علامت تھی کہ ان کا انتقال مسجد میں بحالتِ نماز ہوا،یونس بن محمد کا بیان ہے کہ: مات حمادبن مسلمۃ فی المسجد وھو یصلی [20] حماد بن سلمہ کی وفات مسجد میں بحالتِ نماز ہوئی استغناء،اظہار حق اورامراء کی صُحبت سے گریز حماد بن سلمہ کی کتاب زندگی کا ہر باب ہی بڑا تابناک ہے،زہد وعبادت دنیا اوراہل دنیا سے استغناء اورامراء کی صحبت سے گریز زمرۂ تبع تابعین کی ایک عمومی خصوصیت تھی،حمادبن سلمہ اس خصوصیت وامتیاز میں بھی نہ صرف ان کے شریک وسہیم تھے؛بلکہ ممتاز مقام رکھتے تھے اس سلسلہ میں محدث ابن جوزیؒ نے ان کا ایک واقعہ بہت تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے جس سے حماد بن سلمہ کے زہد واتقا اورخشیتِ الہیٰ کا پورا پورا اندازہ ہوجاتا ہے،ذیل میں اس واقعہ کی تلخیص درج کی جاتی ہے۔ مقاتل بن صالح الخراسانی کا بیان ہے کہ میں حماد بن سلمہ کے پاس گیا تو ان کے گھر میں ایک چٹائی کے علاوہ کچھ نہ پایا،اسی پر بیٹھے قرآن کی تلاوت کررہے تھے، ایک چمڑے کا توبڑا تھا،جس میں ان کا سارا علم (یعنی روایات حدیث نبوی)بند تھا، ایک وضوکا برتن تھا جس سے وضو کرتے تھے، ان کا بیان ہے کہ وہ ایک دن موجود تھے کہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا،انہوں نے اپنی لونڈی سے کہا کہ دیکھو بیٹی کون ہے، وہ واپس آکر بولی کہ محمد بن سلیمان کا قاصد(غالباً یہ بصرہ کا امیر تھا)فرمایا کہ جاؤ کہدو کہ وہ تنہا میرے پاس آئے وہ قاصد آیا اور اس نے ایک خط پیش کیا جس کا مضمون یہ تھا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم،یہ خط محمد بن سلیمان کی طرف سے حماد بن سلمہ کے نام : "اما بعد! خد اآپ کو اسی طرح سلامت رکھے جس طرح اس نے اپنے اولیا اور اطاعت گزاروں کو سلامت رکھا ہے،ایک مسئلہ درپیش ہے اگر آپ تشریف لائیں تو اس بارے میں آپ سے استفادہ کرتا والسلام یہ خط ملا تو آپ نے پڑھ کر لونڈی سے کہا کہ قلم ودوات لاؤ اور اس کی پشت پر یہ جواب لکھ دو: اما بعد!آپ کو بھی خدا اسی طرح سلامت رکھے جس طرح اپنے دوستوں اور فرمانبرداروں کو سلامتی عطا کرتا ہے،میں نے بہت سے ایسے علماء کی صحبت اختیار کی ہے جو کسی کے پاس جایا نہیں کرتے (اس لیے میں بھی معذور ہوں)اگر آپ کوکوئی مسئلہ سمجھنا ہے، تو آپ خود تشریف لے آئیں اورجو دریافت کرنا چاہیں کریں اورہاں اگر آنے کا ارادہ ہو تو تنہا تشریف لائیے گا، آپ کے ساتھ خدم وحشم نہ ہوں ، ورنہ میں آپ کے ساتھ اوراپنے ساتھ خیر خواہی نہ کرسکوں گا والسلام۔ قاصد یہ جواب لے کر واپس چلا گیا،راوی کا بیان ہے کہ ہم ابھی بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے پھر دروزہ کھٹکھٹایا،لونڈی کو حکم دیا کہ دیکھو کون ہے؟اس نے آکر کہا کہ محمد بن سلیمان،فرمایا کہدو کہ آجائیں مگر تنہاآئیں؛چنانچہ وہ خدمت میں حاضر ہوا اورسلام کرکے بیٹھ گیااورتھوڑی دیر بعد بولا :کیا وجہ ہے کہ جب بھی میں آپ کے سامنے ہوتا ہوں میرے اوپر خوف ودہشت طاری ہوجاتا ہے،حماد بن سلمہ نے ثابت البنانی کے واسطے سے حضرت انس کی زبانی یہ حدیث بیان کی کہ رسول اکرمﷺکا ارشاد ہے کہ جب عالم اپنے دین کے ذریعہ خدا کی خوشنودی چاہتا ہے تو اس سے ہرچیز ڈرنے لگتی ہےاور جب وہ اس سے دنیا کے خزانے چاہتا ہے تو وہ ہرچیزسے ڈرنے لگتا ہے۔ محمد بن سلیمان نے پوری توجہ کے ساتھ یہ باتیں سنیں اور پھر کہا کہ یہ چالیس ہزار درہم حاٖضِر خدمت ہیں انہیں اپنی ضروریات میں صرف فرمائیں حماد بن سلمہ نے کامل استغنا کے ساتھ فرمایاکہ ان کو لے جاؤاورجن لوگوں پر ظلم کرکے انہیں حاصل کیا ہےان کو دے ڈالو وہ بولاکہ بخدا میں یہ اپنے خاندانی ورثہ سے دےرہا ہوں،فرمایامجھے اس کی ضرورت نہیں ہے مجھے معاف کرو،خداتعالی تمہیں معاف کرے تم اس رقم کو تقسیم کردو،وہ بولاکہ میری تقسیم میں اگر کسی مستحق کو نہ ملاتو وہ نا انصافی کی شکایت کرےگا،آپ نے ان سے پھر یہی فرمایا کہ مجھے معاف کرو۔ [21] اس طویل واقعہ سے حماد بن سلمہ کی زندگی کی کتنی درخشاں اورتابناک تصویرنگاہوں کے سامنے پھرجاتی ہے۔

روی عن[ترمیم]

انہوں نے مندرجہ ذیل راویوں سے روایت کی ہے۔ ازرق بن قیس، اسحاق بن سوید العدوی، اسحا ق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، اشعث بن عبد اللہ بن جابر الحدانی، اشعث بن عبدالرحمان الجرمی، انس بن سیرین، ایوب السختیانی، برد بن سنان ابی العلاء الشامی، بشر بن حرب ابی عمرو الندبی، بہز بن حکیم، تمام بن ابی الحکم، ثابت بن اسلم البنانی، ثمامہ بن عبد اللہ بن انس بن مالک، جبر بن حبیب، جبلہ بن عطیہ، جعد ابی عثمان، حبیب بن الشہید، حبیب المعلم، حجاج بن ارطاۃ، حکیم الاثرم، حماد بن ابی سلیمان، حمید بن ہلال، حمید بن یزید (ابی الخطاب)، حمید الطویل، حنظلہ بن ابی حمزہ، خالد بن ذکوان، خالد الحذاء، داود بن ابی ہند، ربیعہ بن ابی عبدالرحمان، رجاء بن ابی سلمہ، زیاد بن مخراق، زیاد الاعلم، زید بن اسلم، سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمان بن عوف، سعید بن ایاس الجریری، سعید بن جمہان، سلمہ بن دینار، سلمہ بن کہیل، سلیمان التیمی، سماک بن حرب، سنان بن ربیعہ، سہیل بن ابی صالح، سوید بن حجیر الباہلی، سیار بن سلامہ ، شعیب بن الحباب، طلحہ بن عبد اللہ بن کریز ، عاصم بن بہدلہ، عاصم بن المنذر بن الزبیر، عامر الاحول، عباد بن منصور، عبد اللہ بن شداد الاعرج، عبد اللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ، عبداللہ بن عثمان بن خثیم ، عبد اللہ بن عثمان بن عبیداللہ، بن عبدالرحمان بن سمرہ، عبد اللہ بن عون، عبد اللہ بن کثیر القاری، عبداللہ بن محمد بن عقیل، عبد اللہ بن المختار، عبدالرحمان بن اسحاق المدنی، عبدالرحمان بن القاسم بن محمد بن ابی بکر الصدیق، عبدالعزیز بن صہیب، عبدالکریم بن ابی المخارق، عبدالملک بن حبیب ابی عمران الجونی، عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج، عبدالملک بن عمیر، عبدالملک ابی جعفر، عبیداللہ بن ابی بکر بن انس بن مالک، عبیداللہ بن حمید بن عبدالرحمان الحمیری، عبیداللہ بن عمر، عثمان البتی، عسل بن سفیان، عطاء بن السائب، عطاء بن ابی میمونہ، عطاء الخراسانی، عیقل بن طلحہ، عکرمہ بن خالد، علی بن الحکم البنانی، علی بن زید بن جدعان، عمار بن ابی عمار، عمرو بن دینار المکی، عمرو بن یحییٰ بن عمارہ، عمران بن عبد اللہ بن طلحہ الخزاعی، عمیر بن یزید ابی جعفر الخطمی، عیسیٰ بن سنان القسملی،فائد ابی العوام، فرقد السبخی، قتادہ بن دعامہ، قیس بن سعد المکی، کثیر بن معدان البصری، کثیر ابی محمد، کلثوم بن جبر، محمد بن اسحاق بن یسار، محمد بن زیاد القرشی، محمد بن عمرو بن علقمہ بن وقاص اللیثی، محمد بن مسلم المکی(ابو زبیر)، محمد بن واسع، مطر الوراق، میمون بن جابان، نصر بن عمران الضبعی، ہارون بن رئاب، ہشام بن حسان ، ہشام بن زید بن انس بن مالک، ہشام بن عروہ، ہشام بن عمرو الفزاری، واصل بن عبدالرحمان، یحییٰ بن سعید الانصاری، یحییٰ بن عتیق، یزید بن حمید الضبعی، یعلیٰ بن عطاء العامری، یوسف بن سعد، یوسف بن عبد اللہ بن الحارث البصری، یونس بن عبید، ابی الجوزاء المحلمی، ابی عاصم الغنوی، ابی العشراء الدارمی، ابی غالب صاحب ابی امامہ، ابی المہزم التیمیی، ابی نعامہ السعدی، ابی ہارون العبدی، ابی ہارون الغنوی، ابی ہاشم الرمانی[22]۔

روی عنہ[ترمیم]

ان سے مندرجہ ذیل راویوں نے روایت کی ہے

ابراہیم بن حجاج السامی، ابراہیم بن ابی سوید الذارع،احمد بن اسحاق الحضرمی، آدم بن ابی ایاس، اسحاق بن عمر بن سلیط، اسحاق بن منصور السلولی، اسد بن موسیٰ، اسود بن عامر شاذان، بشر بن السری، بشر بن عمر الزہرانی، بہز بن اسد، حبان بن ہلال، حجاج بن منہال، حسن بن بلال، حسن بن موسیٰ الاشیب، حسین بن عروہ، حفص بن عمر الضریر، خلیفہ بن خیاط، داود بن شبیب، روح بن اسلم، روح بن عبادہ، زید بن الحباب، زید بن ابی الزرقاء، شریح بن النعمان، سعید بن عبدالجبار البصری، سعید بن یحییٰ اللخمی، سفیان الثوری، سلیمان بن حرب، سلیمان بن داود الطیالسی، سوید بن عمرو الکلبی، شعبہ بن الحجاج، شہاب بن عباد العبدی، شہاب بن معمر البلخی، شیبان بن فروخ، طالوت بن عباد، عباس بن بکار الضبی، عباس بن الولید النرسی، عبد اللہ بن صالح العجلی، عبد اللہ بن المبارک، عبد اللہ بن مسلمہ القعنبی، عبد اللہ بن معاویہ الجمحی، عبدالاعلیٰ بن حماد النرسی، عبدالرحمان بن سالم الجمحی،عبدالرحمان بن مہدی، عبدالصمد بن حسان ، عبدالصمد بن عبدالوارث، عبدالغفار بن داود الحرانی، عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج، عبدالملک بن عبدالعزیز (ابو نصر التمار)، عبدالواحد بن غیاث،عبد اللہ بن محمد العیشی، عفان بن مسلم،عمرو بن خالد الحرانی،عمرو بن عاصم الکلابی، عمرو بن مرزوق،علاء بن عبدالجبار، غسان بن الربیع، فضل بن دکین، فضل بن عنبسہ الواسطی، فضیل بن حسین الجحدری،قبیصہ بن عقبہ، قریش بن انس ، کامل بن طلحہ الجحدری، مالک بن انس، محمد بن اسحاق بن یسار، محمد بن بکر البرسانی، محمد بن عبد اللہ الخزاعی، محمد بن الفضل بن عارم، محمد بن کثیر المصیصی، محمد بن محبوب البنانی، مسلم بن ابراہیم، مسلم بن ابی عاصم النبیل، مظفر بن مدرک، معاذ بن خالد بن شقیق، معا ذ بن معاذ، مہنیٰ بن عبدالحمید، موسیٰ بن اسماعیل التبوذکی، موسیٰ بن داود الضبی، مؤمل بن اسماعیل، نضر بن شمیل، نضر بن محمد الحرشی، نعمان بن عبدالسلام، ہدبہ بن خالد، ہشام بن عبدالملک الطیالسی،ہیثم بن جمیل، وکیع بن الجراح،یحییٰ بن اسحاق السیلحینی، یحییٰ بن حسان التنیسی، یحییٰ بن حماد الشیبانی،یحییٰ بن سعید القطان، یحییی بن الضریس الرازی، یزید بن ہارون، یعقوب بن اسحاق الحضرمی، یونس بن محمد المؤدب، ابو سیعد مولیٰ بن ہاشم،ابو عامر العقدی[22]۔

جرح و تعدیل[ترمیم]

ابن سعد نے بصرہ کے تابعین کے پانچویں طبقہ میں ان کا ذکر کیا ہے۔ کہتے ہیں حماد ثقہ اور کثیر الحدیث ہیں اور بسا اوقات منکر حدیثیں بیان کر جاتے ہیں[23]۔ ابن حنبل نے کہا کہ یہ حمید الطویل سے روایت کرنے میں ثبت ہیں اور ثابت کی معمر سے روایت کردہ احادیث میں ثبت ہیں۔ اہل بدعت کے رد میں حماد بن سلمہ سے زیادہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ حماد بن سلمہ بن دینار اور حماد بن زید بن درہم ان دونوں کے درمیان وہی فرق ہے جو دینار کو درہم پر فضیلت حاصل ہے۔ عبد اللہ ابن مبارک نے کہا کہ میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا جو حماد سے زیادہ، پہلے لوگوں کے طریقے پر عمل پیرا ہو۔ یحییٰ القطان کہتے ہیں کہ حماد بن سلمہ زیاد سے زیادہ علم رکھتے تھے اور قیس بن سعد کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔ علی بن مدینی کا کہنا ہے کہ جو شخص حماد بن سلمہ کے خلاف کلام کر رہا ہو تو اس پر تہمت عائد کرو۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ حماد بن سلمہ حمید الطویل کی حدیث میں لوگوں میں سب سے بڑے عالم ہیں۔یہ ثابت کی روایات کا یہ سب سے زیادہ علم رکھنے والےاور ثقہ ہیں[24]۔ عجلی نے کہا کہ ثقہ اور صالح ہیں ان کو آخر عمر میں تغیر ہو گیا تھا[25]۔ الساجی نے کہا کہ ثقہ مامون ہیں[22]۔ نسائی نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں اور اس سے پہلے نسائی نے ان کو ثقہ کہا تھا۔ ابن حبان کہتے ہیں کہ اس شخص نے انصاف سے کام نہیں لیا جس نے حماد کی روایات سے پہلو تہی کی اور ابوبکر بن عیاش اور عبد اللہ بن دینار کی روایات سے استدلال کیا ہے[26]۔ حاکم نے کہا کہ مسلم نے حماد بن سلمہ سے اصول میں وہی حدیث لی ہے جو ثابت بن اسلم سے روایت ہے۔ ذہبی نے کہا کہ امام ثقہ ہیں، ان کو کچھ وہم بھی ہوتا ہے[27] ابن حجر نے کہا کہ آٹھویں طبقہ کے کبار راویوں میں سے ثقہ عابد راوی ہے اور ثابت کی احادیث میں تمام لوگوں سے زیادہ قابل اعتماد ہے تاہم آخر عمر میں اس کا حافظہ بدل گیا تھا[28]۔

وفات[ترمیم]

سرخی کا متن[ترمیم]

حماد بن سلمہ کی وفات سنہ 167ھ بمطابق 783ء میں ہوئی۔

تصنیف[ترمیم]

اوپر ذکر آچکا ہے کہ حماد بن سلمہ کا شمار تبع تابعین کے اس زمرہ میں ہوتا ہے جنہوں نے تالیف وتدوین کی خدمات انجام دی ہیں،مگر افسوس ہے کہ ان کی تصنیفات کی پوری تفصیلات نہیں ملتیں،صاحب شذرات الذہب نے صرف اتنا لکھا ہے کہ: لہ تصانیف فی الحدیث [29] ان کے ممتاز شاگرد ابو داؤد الطیالسی کہتے تھے کہ حماد بن سلمہ کے پاس قیس کی کتاب کےعلاوہ کوئی دوسری کتاب نہیں تھی،اس جملہ کی تشریح کرتے ہوئے حافظ ابن حجر رقمطراز ہیں: یعنی کان یحفظ علمہ [30] یعنی وہ قیس کے علم کے حافظ تھے۔ عبداللہ بن احمد بن حنبل کا بیان ہے کہ قیس کی روایتوں سے انہوں نےجو مجموعہ تیار کیا تھا، وہ ضائع ہوگیا،تو وہ اپنے حافظہ سے روایت کرنے لگے۔ اس تفصیل سے بہر حال اتنی بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ حماد بن سلمہؒ نے جمع و تدوین کا کچھ نہ کچھ کام کیا تھا،لیکن مکمل تفصیلات متداول تذکروں میں نہیں ملتیں۔ [31]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Ignác Goldziher, The Zahiris, pg. 15. Volume 3 of Brill Classics in Islam. Leiden: Brill Publishers, 2008. آئی ایس بی این 9789004162419
  2. (تذکرۃ الحفاظ للذہبی:۱/۱۸۲)
  3. (صفوۃ الصفوہ:۳/۲۷۳)
  4. (شذرات الذہب:۱/۲۶۲)
  5. (تذکرۃ الحفاظ:۱/۱۸۲)
  6. (تہذیب التہذیب:۳/۱۲)
  7. (ایضاً)
  8. (تذکرۃ الحفاظ:۱/۱۸۳)
  9. (شذرات الذہب:۱/۲۶۲)
  10. (ایضاً)
  11. (تہذیب التہذیب،باب الجزء الثالث:۳/۱۳)
  12. (تذکرۃ الحفاظ:۱/۱۸۳)
  13. (تہذیب :۳/۱۵)
  14. (ایضاً)
  15. (تہذیب التہذیب:۳/۱۳)
  16. (صفوۃ الصفوۃ:۳/۲۳۷)
  17. (تذکرۃ الحفاظ:۱۸۳)
  18. (تذکرۃ الحفاظ:۱/۱۸۳)
  19. (صفوۃ الصفوۃ لابن جوزی:۳/۲۷۴)
  20. (ایضاً،شذرات الذہب:۱/۲۶۲)
  21. (صفوۃ الصفوہ لابن جوزی:۳/۲۷۴)
  22. ^ ا ب پ تہذیب الکمال 7/253ح1482
  23. طبقات ابن سعد9/282ح4116 مطبوعہ مکتبہ خانجی(اردو 7/202 مطبوعہ نفیس اکیڈمی )
  24. تاريخ دارمي ح 37،ح 38، ح39،ح 200
  25. ثقات العجلی 1/319ح354
  26. تقریب الثقات ابن حبان ص388ح3543
  27. ميزان الاعتدال اردو2/414ح2254 مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ، )،الكاشف 1 / 349ح1220 ،المغنی فی الضعفاء 1 / 279ح 1711، ديوان الضعفاء100ح 1118،من تكلم فيہ وہو موثق ص176ح93، سير أعلام النبلاء 7 / 444 ، تذہیب التہذیب 3 / 11ح1499
  28. تقریب1/508ح1507 مطبوعہ دارالاوقاف (اردو 1/211ح1499 مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ)
  29. (شذرات الذہب:۱/۲۶۲)
  30. (تہذیب التہذیب:۳/۱۵)
  31. (ایضاً:۱۳)