حمل میں کووڈ-19

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حمل میں کووڈ-19
COVID-19 in pregnancy
3d illustration of coronavius.png
قابل تشویشمہلک وبائی مرض
تدارککھانسی کو ڈھانپنا، بیمار لوگوں کے ساتھ بات چیت سے گریز کریں، صابن سے ہاتھ صاف کرنا اور پانی یا ہاتھ صفا (سینٹائزر)
اموات2

حمل میں کووڈ-19 کے اثرات ابھی تک مکمل طور پر معلوم نہیں ہیں، کیوں کہ ابھی ایسا باوثوق مواد (ڈیٹا) دستیاب نہیں ہو سکا۔ [1]چین میں ایک چھوٹے سے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ حاملہ خواتین میں کووڈ-19 کے نمونیا کی طبی علامات و اثرات، غیر حاملہ بالغہ خواتین کی طرح کی تھیں۔[2] مارچ 2020ء تک، کووڈ-19 کی متاثرہ حاملہ خواتین سے، ان کے پیدا ہونے والے بچوں میں، اس کی منتقلی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔[2] البتہ، اسی طرح کے وبائی امراض جیسے سارس اور میرس پر مبنی پیش گوئیاں بتاتی ہیں کہ حاملہ خواتین کو اس وبائی مرض سے شدید خطرہ ہوتا ہے۔[3]

حمل میں کووڈ-19 پر تحقیق[ترمیم]

حمل میں کووڈ-19 انفیکشن کی نوعیت کے بارے میں کسی ٹھوس نتیجہ اخذ کرنے کے لئے بہت کم ثبوت موجود ہیں۔

حاملہ خواتین پر اثرات[ترمیم]

نیویارکم یں 43 حاملہ خواتین سے متعلق شماریات کے مطابق ان میں مرض کی کیفیت کسی بھی دوسرے بالغ کورونا وائرس مریض کے جیسی تھی: 86% میں یہ کم خطرناک، 9.3% میں شدید خطر ناک اور 4.7% میں انتہائی خطرناک ثابت ہوا۔[4] ایک دوسری تحقیق کے مطابق حاملہ خواتین میں یہ کم خطرناک تھا اور ان کے صحت مند ہونے کی رفتار بھی بہتر تھی۔[5] چین کے شہر ووہان میں حمل کی تیسری سہ ماہی (تھرڈ ٹریمسٹر) میں 9 متاثرہ خواتین کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ ان نو میں سے چھ کو بخار، تین کو پٹھوں میں درد، دو کو گلے کی تکلیف اور دو کو کمزوری/سستی کی شکایات تھیں جب کہ دو خواتین کو جنین کی تکلیف کا سامنا تھا۔ کسی بھی عورت کو شدید کووڈ-19 نمونیا نہیں ہوا یا اس کی موت نہیں واقع نہیں ہوئی۔ ان سبھی نے زندہ بچوں کو جنم دیا اور پیدائشی طور پر کسی نوزائیدہ میں وائرس کی منتقلی یا دیگر نہیں ملے۔ اس مقصد کے لئے سارس کووی 2 کے لئے چھاتی سے دودھ، امینیٹک فلوڈ، ہڈی کا گودا اور نوزائیدہ کے گلے کی رطوبت کے نمونوں کا تجربہ کیا گیا اور تمام نتائج منفی تھے۔

ایک دوسری تحقیق کے مطابق جو 15 حاملہ خواتین کے بارے میں ہے، اس کے مطابق زیادہ تر خواتین کو بخار اور کھانسی کےشکایت رہی، جب کہ لیبارٹری ٹیسٹ میں 12 خواتین میں لیمفوسیٹوپینیا برآمد ہوا ہے۔[2]ان مریضوں کی گراوؤنڈ گلاس اوپاسٹی کی ابتدائی کمپیوٹری ٹوموگرافی کی رپورٹیں غیر حاملہ مریضوں کی سابقہ معلومات کے مطابق تھیں۔[6][7] وضع حمل کے بعد کی تصاویر میں نمونیا میں اضافہ دیکھنے کو نہیں ملا۔[6]

ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق مارچ 2020ء میں 100 حاملہ خواتین نے بچوں کو جن مدیا، جب کہ زچگی کے بعد کسی ماں کی موت واقع نہیں ہوئی۔[8] اپریل 2020ء میں، ایران میں حمل کے 30ویں ہفتے میں 27 سالہ حاملہ کی موت ہوئی، ہوسکتا ہے کہ اس کی موت کوویڈ 19 سے ہوئی ہو۔[9]

پیش بینی[ترمیم]

چونکہ کووڈ-19 سارس-کووی اور مرس-کووی میں مماثلت ظاہر کرتا ہے، اس لیے امکان ہے کہ حمل پر ان کا اثر ایک جیسے ہو۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Coronavirus Disease 2019 (COVID-19)". Centers for Disease Control and Prevention (بزبان انگریزی). 11 فروری 2020. اخذ شدہ بتاریخ 19 مارچ 2020. 
  2. ^ ا ب پ Chen، Huijun; Guo، Juanjuan; Wang، Chen; Luo، Fan; Yu، Xuechen; Zhang، Wei; Li، Jiafu; Zhao، Dongchi et al۔ (7 مارچ 2020). "Clinical characteristics and intrauterine vertical transmission potential of COVID-19 infection in nine pregnant women: a retrospective review of medical records" (English میں). The Lancet 395 (10226): 809–815. doi:10.1016/S0140-6736(20)30360-3. آئی ایس ایس این 0140-6736. PMID 32151335. https://www.thelancet.com/journals/lancet/article/PIIS0140-6736(20)30360-3/fulltext۔ اخذ کردہ بتاریخ 19 مارچ 2020. 
  3. Favre، Guillaume; Pomar، Léo; Musso، Didier; Baud، David (22 فروری 2020). "2019-nCoV epidemic: what about pregnancies?" (English میں). The Lancet 395 (10224): e40. doi:10.1016/S0140-6736(20)30311-1. آئی ایس ایس این 0140-6736. PMID 32035511. https://www.thelancet.com/journals/lancet/article/PIIS0140-6736(20)30311-1/fulltext۔ اخذ کردہ بتاریخ 19 مارچ 2020. 
  4. Breslin، Noelle; Baptiste، Caitlin; Gyamfi-Bannerman، Cynthia; Miller، Russell; Martinez، Rebecca; Bernstein، Kyra; Ring، Laurence; Landau، Ruth et al۔ (2020-04-09). "COVID-19 infection among asymptomatic and symptomatic pregnant women: Two weeks of confirmed presentations to an affiliated pair of New York City hospitals". American Journal of Obstetrics & Gynecology Mfm. doi:10.1016/j.ajogmf.2020.100118. آئی ایس ایس این 2589-9333. PMC 7144599. https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC7144599/. 
  5. Liu، Dehan; Li، Lin; Wu، Xin; Zheng، Dandan; Wang، Jiazheng; Yang، Lian; Zheng، Chuansheng (2020-03-18). "Pregnancy and Perinatal Outcomes of Women With Coronavirus Disease (COVID-19) Pneumonia: A Preliminary Analysis". American Journal of Roentgenology: 1–6. doi:10.2214/AJR.20.23072. آئی ایس ایس این 0361-803X. https://www.ajronline.org/doi/full/10.2214/AJR.20.23072. 
  6. ^ ا ب
  7. Salehi، Sana; Abedi، Aidin; Balakrishnan، Sudheer; Gholamrezanezhad، Ali (2020-03-14). "Coronavirus Disease 2019 (COVID-19): A Systematic Review of Imaging Findings in 919 Patients" (en میں). American Journal of Roentgenology: 1–7. doi:10.2214/AJR.20.23034. آئی ایس ایس این 0361-803X. PMID 32174129. 
  8. Liang، Huan; Acharya، Ganesh (2020). "Novel corona virus disease (COVID-19) in pregnancy: What clinical recommendations to follow?" (en میں). Acta Obstetricia et Gynecologica Scandinavica 99 (4): 439–442. doi:10.1111/aogs.13836. آئی ایس ایس این 1600-0412. PMID 32141062. 
  9. Karami، Parisa; Naghavi، Maliheh; Feyzi، Abdolamir; Aghamohammadi، Mehdi; Novin، Mohammad Sadegh; Mobaien، Ahmadreza; Qorbanisani، Mohamad; Karami، Aida et al۔ (2020-04-11). "Mortality of a pregnant patient diagnosed with COVID-19: A case report with clinical, radiological, and histopathological findings" (en میں). Travel Medicine and Infectious Disease: 101665. doi:10.1016/j.tmaid.2020.101665. آئی ایس ایس این 1477-8939. http://www.sciencedirect.com/science/article/pii/S1477893920301332.