حمید الدین فراہی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

امام حمید الدین الفراہی برصغیر پاک وہند کے ممتاز قرآنی مفسر اور دین اسلام کی تعبیر جدید کے بانی تصور کئے جاتے ہیں آپ نے امت میں تفقہ فی الدین کو دور حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق ایک لافانی نہج پر قائم کیا بعد ازاں اسی نہج نے دین اسلام کے خلاف اٹھنے والے ہر پیچیدہ سوال کا دندان شکن جواب دیا

عالم دین، مفسر قرآن
حمید الدین فراہی

شجرہ نسب[ترمیم]

ابو احمد حمید الدین فراہی (انصاری) بن عبدالکریم بن قربان قنبر بن تاج علی بن قائم علی بن دائم علی بن بہاء الدین

آباء و اجداد[ترمیم]

مولانا حمید الدین فراہی کا نسبی تعلق صدر اول کے مسلمانوں کی دوسری وحدت سے معلوم ہوتا ہے لیکن بعض قرائن اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ان کا تعلق انصار مدینہ سے ہے یہی وجہ تھی کہ مولانا کے خاندان کے بہت سے افراد اپنے نام کے ساتھ ایک عرصہ تک انصاری لکھتے رہے

ولادت[ترمیم]

مولانا فراہی کی جائے پیدائش بھارت کے صوبہ یوپی (موجودہ اترپردیش) ضلع اعظم گڑھ کا ایک گاؤں پھریہا ہے پھریہا اس ضلع کا ایک مشہور گاؤں ہے پھریہا کی معلوم تاریخ بس اسی قدر ہے کہ یہ شبلی نعمانی کا ننھیال اور فراہی کا وطن ہے مولانا فراہی کی پیدائش انکے جدی مکان میں6 جمادی الثانی 1230ھ بروز بدھ بمطابق 18 نومبر 1863ء کو ہوئی

اسم گرامی[ترمیم]

مولانافراہی کے نام کے بارے میں مختلف بلکہ متضاد آراء اور روایات ملتی ہیں تحریر دستاویزات میں حمید الدین اور عبدالحمید دونوں نام کثرت سے موجود ہیں اور اہل علم نے اپنے اپنے انداز سے اس کی توجیہ بھی کی ہے مولانا فراہی کی وفات پرسید سلیمان ندوی نے پہلے ایک شذرہ اور اسکے بعد ایک مقالہ لکھ کر معارف میں شائع کیا اس میں نام کے بارے میں لکھتے ہیں کہ

مولانا کا اصلی نام تو حمیدالدین تھا مگر وہ اس نام کو جو دراصل عربی قاعدے سے لقب ہے اپنے لئے معنوی حیثیت سے بلند سمجھتے تھے اس لئے وہ عربی تصانیف میں اپنا نام عبدالحمید لکھتے تھے اور تمام بڑے عالمانہ آداب والقاب چھوڑ کر صرف معلم کہلانا پسند کرتے تھے بنا بریں وہ اپنا نام المعلم عبدالحمید الفراہی کتابوں کی لوحوں پر لکھا کرتے تھے [1]

نسبت فراہی[ترمیم]

فراہی مولانا کا نسبتی نام ہے وقت کے ساتھ ساتھ اس کو اتنی شہرت حاصل ہوئی کہ اصل نام بھی پس منظر میں چلا گیا آج کہیں مولانا کا ذکر آتا ہے تو یہی نام لیا جاتا ہے مولانا نے یہ نسبت کس کی طرف سے اختیار کی اور اس کا ماخذ کیا ہے؟ سید سلیمان ندوی کا خیال اور جو قرین قیاس بھی معلوم ہوتا ہے کہ

یہ نسبت مولانا کے آبائی گاؤں پھریہا کی طرف ہے اسی پھریہا کو عربی شکل دے کر مولانا اپنے نام کے ساتھ فراہی لکھا کرتے تھے[2]

تعلیم وتربیت[ترمیم]

مولانا فراہی کے ہاں واضح طور پر رسمی تعلیم کے دو دور ہیں اور ان میں ہر دور اپنی جگہ نمایاں اور مکمل ہے تعلیم کے پہلے دور میں انہوں نے دینی تعلیم کے علاوہ عربی اور مشرقی علوم سیکھے جس کی تکمیل نجی تعلیمی درسگاہوں میں ہوئی دوسرے دور میں انہوں نے انگریزی اور مغربی علوم کی تحصیل کی جس کیلئے سرکاری تعلیم گاہوں میں داخلہ لیا

دینی تعلیم[ترمیم]

مولانا فراہی کی ابتدائی تعلیم اس وقت کے شرفاء کی طرح گھر پر ہوئی اس کا آغاز دستور کے مطابق ناظرہ اور حفظ قرآن سے ہوا راجہ پور سکرور کے حافظ احمد علی مرحوم نے گھر پر رہ کر حفظ کرایا مولانا نے خود بھی اپنے حالات زندگی تحریر کئے تو پیدائش کے بعد جس بات کا ذکر کیا وہ حفظ قرآن ہی ہے مولانا کی خود نوشت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرحلہ انہوں نے تقریباً دس سال کی عمر میں طے کرلیا تھا فرماتے ہیں

کہ جب میں نے قرآن مجید حفظ کیا اس وقت میری عمر قریب قریب دس برس تھی [3]

حفظ قرآن سے فارغ ہو کر عام دستور کے موافق پہلے فارسی کی تعلیم لی اس زمانے کا عام طریقہ تعلیم یہ تھا کہ ایک وقت میں ایک ہی مضمون ہی پڑھتے تھے فارسی زبان میں بہت جلد اس قدر ترقی کرلی کہ شعر کہنے لگے شاعری کا مذاق ان میں فطری تھا زبان سے تھوڑی ہی مدت میں اس قدر گہری مناسبت پیدا کرلی کہ اساتذہ کے رنگ میں قصیدے لکھنے لگے مولانا کی عمر ابھی چودہ برس ہی تھی کہ طلب علم میں وہ پھریہا سے اعظم گڑھ آئے اور شبلی نعمانی سے پڑھنا شروع کیا یہ 1877ء کا سال تھا مولانا فراہی کی تعلیم وتربیت میں شبلی کا خاصا حصہ ہے اس حوالے سے مولانا فراہی خود لکھتے ہیں کہ

میں نے چودہ برس کی عمر میں عربی زبان پڑھنا شروع کی اور درس نظامی کی اکثر کتابیں پھوپھی زاد بھائی علامہ شبلی سے پڑھیں[4]

تعلیم وتربیت میں مولانا شبلی سے کسب فیض کرنے کے بعد مولانا فراہی نے وقت کے مشہور اساتذہ کے حلقہ دروس سے مستفید ہونے کا ارادہ کیا اس سلسلہ میں وہ قدم بقدم مولانا شبلی کے نقش قدم پر چلتے نظر آتے ہیں اس زمانہ میں مولانا ابوالحسنات عبدالحئی لکھنوی فرنگی محلی کے حلقہ دروس کی بڑی شہرت تھی چنانہ فقہ کی تحصیل کیلئے مولانا فراہی نے کچھ مدت تک عبدالحئی لکھنوی کے حلقہ دروس میں شرکت کی وہاں مولانا فضل اللہ انصاری جو معقولات کے ماہر تھے سے بھی استفادہ کیا لیکن مولانا کی طبیعت ابتداء ہی سے تحقیق پسند واقع ہوئی تھی اور انکے اس ذوق کو مولانا شبلی کے فیض صحبت نے مزید ابھار دیا تھا لہٰذا وہ زیادہ عرصہ لکھنو میں نہ رکے اسی دوران مولانا فراہی نے تقریباً ان تمام مراکز علم کا رخ کیا جو مولانا شبلی کا مرجع رہ چکے تھے مولانا فراہی کے تعلیمی کا سفر کا ذکر کرتے ہوئے انکی آخری عمر کے تلمیذ امین احسن اصلاحی ایک جگہ لکھتے ہیں

مولانا فراہی نے لکھنوء چھوڑنے کے بعد لاہور کا سفر کیا اور لاہور میں مشہور ادیب مولانا فیض الحسن سہارنپوری مرحوم کی خدمت میں حاضر ہوئے مولانا فیض الحسن مرحوم اس وقت اورینٹل کالج لاہور میں پروفیسر تھے اور عربی ادب میں پورے ملک کے اندر اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے ادب میں مولانا شبلی بھی انہی کے شاگرد تھے مولانا فراہی نے انکی شاگردی سے پورا فائدہ اٹھایا اور مولانا فیض الحسن موحوم نے بھی بڑی شفقت کے ساتھ مولانا کو علوم ادب کی تکمیل کرائی[5]

انگریزی تعلیم[ترمیم]

مولانا فراہی نے دینی تعلیم 82-1883ء تک مکمل کرلی تھی اسکے بعد وہ بیماریوں کا شکار رہے اور کچھ عرصہ کے بعد انگریزی زبان مروجہ مضامین کی پڑھائی شروع کی مولانا خود فرماتے ہیں کہ

اسکے بعد میں بیماریوں کا شکار رہا اور سال بھر کسی پڑھائی میں نہ لگ سکا پھر انگریزی زبان اور مروجہ مضامین کی پڑھائی شروع کی[6]

مولانا فراہی کے فرزند محمد سجاد صاحب مرحوم کے بیان کے مطابق مولانا فراہی نے پہلے مڈل پاس کیا اور پھر کرنل گنج اسکول الہ آباد سے پرائیویٹ طور پر میڑک کا امتحان دیا تاکہ وقت کم صرف ہو وقت ہی کے خیال سے کچھ پڑھائی اسکول سے باہر بھی کرنی پڑی انٹرنس اور علی گڑھ کالج میں داخلے کے بارے میں سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں کہ

اس زمانہ میں انگریزی پڑھنا کفر سمجھا جاتا تھا مگر یہ کفر مولانا نے توڑا نج کے طور پر انگریزی کچھ پڑھ لینے کے بعد کرنل گنج اسکول الہ آباد میں داخل ہوگئے انٹر نس کا امتحان پرائیویٹ طور پر دے کر ایم او کالج علی گڑھ میں داخل ہوئے یہ علی گڑھ کالج کے اوج کا زمانہ تھا سرسید اس کے ناظم اعلیٰ مسٹر آرنلڈ اوربک وغیرہ اسکے پرنسپل اور پروفیسر ، مولانا شبلی نعمانی اسکے مدرس اور مولانا حالی وہاں کے مقیم وساکن تھے ہر وقت علمی مسائل وتحقیقات کے چہچہے رہتے تھے اور ان بزرگوں کی صحبتیں حاصل تھیں جن میں ہر ہونہار طالب علم کے فطری جوہر کے چمکنے کا موقع حاصل تھا[7]

مولانا فراہی عربی، فارسی اور دینیات میں اس قدر مہارت پیدا کرچکے تھے کہ کالج میں انہیں ان اسباق سے مستثنیٰ کردیا گیا سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں کہ

اس زمانے میں کالج کے ہر طالب علم کو عربی اور فارسی بھی لازماً پڑھنی پڑھتی تھی مگر سرسید نے ان کے متعلق پروفیسر آرنلڈ کو لکھ بھیجا کہ حمید الدین عربی اور فارسی کے ایسے فاضل ہیں جیسے آپ کے کالج کے استاد اور پروفیسر ہیں اس لئے ان کو مشرقی علوم کے گھنٹوں(پیریڈز) سے مستثنیٰ کردیا جائے،چنانچہ وہ مستثنیٰ کئے گئے[8]

علی گڑھ میں مولانا فراہی نے انگریزی اور دوسرے علوم کے ساتھ ساتھ خاص توجہ سے فلسفہ جدیدہ(ماڈرن فلاسفی) کی تحصیل کی اور اس میں امتیاز حاصل کیا مولانا فراہی نے فلسفہ جدیدہ اسی کالج میں معروف مستشرق پروفیسر آرنلڈ سے پڑھا مگر عجیب بات یہ ہے کہ انکی زبان اور قلم سے بھول کر ایک دفعہ بھی ان کا نام نہیں نکلا ان (پروفیسر آرنلڈ) کے متعلق مولانا کے ذہنی رویے کا اندازہ اس سے بخوبی ہوسکتا ہے مزید وضاحت امین احسن اصلاحی کے اس بیان سے ہوتی ہے کہ

مولانا نے فلسفہ کے درس تو ان(پروفیسر آرنلڈ) سے ضرور لیے لیکن ان سے خوش نہیں تھے وہ آرنلڈ صاحب کو بھی اسی بساط سیاست کا ایک مہرہ سمجھتے تھے جو انگریزوں نے علی گڑھ میں بچھا رکھی تھی علی گڑھ کا حلقہ پروفیسر آرنلڈ صاحب کی کتاب (Preaching of Islam) کا مداح تھا ،لیکن مولانا فراہی اس کتاب کے سخت مخالف تھے وہ فرماتے تھے کہ یہ کتاب مسلمانوں کے اندر سے روح جہاد ختم کرنے کیلئے لکھی گئی ہے[9]

علی گڑھ کے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا فراہی کو میرٹ سکالر شپ ملتا تھا داخلے کے دو سال بعد 1893ء میں الہٰ آباد یونیورسٹی سے سیکنڈ ڈویژن میں انٹر میڈیٹ کا امتحان پاس کیا اس سال فرسٹ ڈویژن میں کوئی طالب علم پاس نہیں ہوا ، دو سال بعد 1895ء میں مولانا فراہی نے الہٰ آباد یونیورسٹی سے بی اے کا امتحان بھی سیکنڈ ڈویژن سے پاس کیا 1895ء کے اوائل میں مولانا فراہی بی اے سے فارغ ہوچکے تھے وہ چاہتے تھے کہ اسی سال پہلی فرصت میں ایم اے عربی کا امتحان دے ڈالیں عربی کے وہ اسکالر تھے انہیں کسی خاص تیاری کی ضرورت نہ تھی ، اس لیے وہ بلا تاخیر امتحان میں بیٹھنا چاہتے تھے مگر چند ناگزیر وجوہات کی بناء پر وہ ایم اے نہ کرسکے اس سلسلے میں امین احسن اصلاحی صاحب لکھتے ہیں کہ

بی اے کی ڈگری مولانا نے الٰہ آباد یونیورسٹی سے لی ،اس کے بعد ایم اے کیلئے بھی تیاری کی لیکن اس کے امتحان میں نہیں بیٹھے ، اسکی وجہ غالباً یہ ہوئی کہ جہاں تک تحقیق وتنقید کا تعلق ہے اسکی راہیں تو ان کیلئے کھل چکی تھیں اب محض ڈگری کی خاطر امتحان دیتے پھرنا انکی طبیعت کے بالکل خلاف تھا[10]

ایم اے کا خیال ترک کرنے کے بعد مولانا فراہی نے مروجہ قانون (ایل ایل بی) پڑھنا شروع کردیا جس کا ذکر انہوں نے ان الفاظ میں کیا ہے

اور اس کے بعد دو سال تک ناپسندیدگی کے باوجود مروجہ قانون (ایل ایل بی) کا مطالعہ کرتا رہا ، پھر اسے چھوڑ کر تدریس شروع کردی[11]

مقام و مرتبہ[ترمیم]

امام حمید الدین فراہی ایک متبحر عالم اور مجتہد فی المذہب تھے آپ گہری علمیت اور بے مثال وسعت نظری کا عجیب وغریب مرقع تھے، مولانا نے امت کیلئے وہ علمی خدمات سرانجام دیں جن کے بارے میں امت مسلمہ کبھی سبکدوش نہیں ہوسکتی ، زعمائے ملت کی نظر میں مولانا ایک بلند مقام ومرتبہ رکھتے تھے زمانہ طالب علمی ہی میں مولانا کا علمی پایہ مسلم تھا ، عربی وفارسی ہی میں وقت کے بڑے بڑے اساتذہ اور ادیب جن سے انہوں نے تعلیم حاصل کی ، ان کی ذہانت اور علمی فکر سے متاثر تھے آپ کے جلیل القدر استاد مولانا شبلی نعمانی آپ کے قرآنی فکر کو کس قدر اہمیت دیتے تھے اس حوالے سے سید سلیمان ندوی رقمطراز ہیں کہ

مولانا حمید الدین فراہی نے نظم آیات کا جو تصور دیا ، مولانا شبلی کو اپنے اس شاگرد کے اس نظریے سے اختلاف تھا اور وہ مولانا فراہی کی کوششوں کو رائیگاں سمجھتے تھے لیکن جب انہوں نے انکی تفسیر کے متعدد اجزاء دیکھے تو قائل ہوتے چلے گئے اور آخر داد دینے لگے اور آخر میں تو وہ حمید الدین کی نکتہ دانی کے اس درجہ قائل ہوگئے تھے کہ قرآنی مشکلات کے حل میں وہ ان سے مشورہ لینے لگے تھے ، ایک خط میں لکھتے ہیں کہتفسیر ابی لہب اور جمہرۃ البلاغہ کے اجزاء بغور دیکھے ، تفسیر پر تم کو مبارکباد دیتا ہوں ، تمام مسلمانوں کو تمہارا ممون ہونا چاہئے[12]

مشہور مراکشی عالم شیخ تقی الدین ہلالی نے مولانا فراہی کے بارے میں 17 رمضان 1342ھ میں کچھ تاثرات لکھے تھے جو بعد میں مجلہ الضیاء لکھنوء رجب 1352ء کے شمارے میں چھپے ، تقی الدین ہلالی فرماتے ہیں کہ

علامہ حمیدالدین صاحب کا ایک دیوان شعر بھی ہے جو میں نے ان سے سنا یہ دیوان بلیغ اور موثر طور پر مسلمانوں کے حوصلے بلند کرتا ہے انکے دلوں میں زندگی کی لہر دوڑاتا ہے اس میں فرنگیوں کی مسلم دشمنی ، جنگ طرابلس اور جنگ عظیم کا ذکر ہے ، وہ بڑی فصیح گفتگو کرتے ہیں علمائے ہند تو ایک طرف علمائے عرب میں بھی ایسے اشخاص بہت کم ہیں انکی عمر اندازاً 70برس ہوگی ، انہوں نے ایک مدرسہ قائم کیا ہے جس کا نام مدرستہ الاصلاح رکھا ہے اس میں صرف قرآن کی تعلیم دی جاتی ہے جو ان کی متاع گم گشتہ ہے ، میں نے ان سے انکی تفسیر قرآن کا مقدمہ سنا اسکی فصاحت اور حقانیت سے میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے، وہ مسئلہ خلافت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اس پر انکی محققانہ نظر ہے ، اہل ہند کے برعکس ان پر اس مسئلے کی کوئی بات مشتبہ نہیں ہے ، عقائد اور اعمال میں مجتہدانہ شان کے مالک ہیں کسی فقہی مذہب کی طرف نسبت کو پسند نہیں کرتے لیکن نماز حنفی طریقے کے مطابق ہی پڑھتے ہیں اس لیے کہ اسی مذہب پر انکی نشوونما ہوئی ہے اور ان کا خیال ہے کہ اسی طرح آسانی رہتی ہے ، رنگ گندم گوں ،چہرہ بشرہ خوبصورت ،قد کشیدہ، داڑھی گول سفید اور براق ہے ، انگریزی ،عربی ، فارسی اور اردو میں مہارت رکھتے ہیں ،کئی عہدوں پر فائز رہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ علی گڑھ میں کالج کی سطح پر استاد تھے ، مختصر یہ کہ اس وقت تک میں جتنے لوگوں لوگوں سے ملا ہوں وہ ان میں سے سب سے بڑے عالم ہیں[13]

سید سلیمان ندوی کو مختلف حیثیتوں سے مولانا کے قریب رہنے کا موقع ملا ان کی نظر میں مولانا فراہی کیا مقام رکھتے تھے؟ اسکی جھلک مولانا کی وفات پر لکھے گئے ان الفاظ سے ہوتی ہے

اس عہد کا ابن تیمیہ 11نومبر 1930ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگیا وہ جس کے فضل وکمال کی مثال آئندہ بظاہر حال عالم اسلامی میں پیدا ہونے کی توقع نہیں ، جس کی مشرقی ومغربی جامعیت عصر حاضر کا معجزہ تھی ، عربی کا فاضل یگانہ اور انگریزی کا گریجویٹ ، زہد و ورع کی تصویر ، فضل وکمال کا مجسمہ،فارسی کا بلبل شیراز، عربی کا شوق عکاظ، ایک شخصیت منفرد لیکن جہان دانش،ایک دنیائے معرفت ،ایک کائنات علم ، ایک گوشہ نشین مجمع کمال، ایک بے نوا سلطان ہنر ،علوم ادبیہ کا یگانہ، علوم عربیہ کا خزانہ، علوم عقلیہ کا ناقد، علوم دینیہ کا ماہر، علوم القرآن کا واقف اسرار، قرآن پاک کا دانائے رموز ،دنیا کی دولت سے بے نیاز، اہل دنیا سے مستغنی، انسانوں کے ردوقبول اور عالم کی داد و تحسین سے بے پرواہ، گوشہ علم کا معتکف اور اپنی دنیا کا آپ بادشاہ،وہ ہستی جو تیس برس کامل قرآن اور صرف قرآن کے فہم وتدبر اور درس وتعلیم میں محو ہرشئے سے بیگانہ اور شغل سے ناآشنا تھی[14]

ندوۃ العلماء کے سابق ناظم ابو الحسنات مولانا عبدالحئی لکھنوی مولانا فراہی کے بارے میں رقمطراز ہیں کہ

وہ چوٹی کے علماء میں سے تھے علوم ادبیہ سے پوری واقفیت رکھتے تھے انشا و ادب پر پورا عبور حاصل تھا ادباء اور ادب سے انہیں بڑا لگاؤ تھا فہم وفراست ،ذکاوت وذہانت ،زہد وتقوی،نیک نفسی وہ بلند ہستی کی وہ تصویر تھے لایعنی باتوں سے بہت دور ،انبار دنیا سے بالکل بے پرواہ، عربی علوم میں انہیں رسوخ حاصل تھا ، بلاغت پر گہری نظر تھی ، جاہلی دواوین اور عربی اسالیب کلام پر وہ حاوی تھے صحف سماویہ کا بڑا وسیع مطالعہ تھا یہود و نصاری کی کتابوں پر اچھی نظر تھی انکی ساری دلچسپیوں اور عرق ریزیوں کا محور قرآن پاک تھا وہ قرآن پاک پر غور وتدبر کرتے اسکے بحر معانی میں غواصی کرتے ، اسکے تمام اسالیب کو سمجھنے کی کوشش کرتے ، ان کا عقیدہ تھا کہ پورا قرآن ایک مرتب ومنظم کلام ہے ساری آیات ایک دوسرے سے باہم مربوط ہیں چنانچہ انکی تفسیر نظام القرآن کا اصل الاصول یہی ہے[15]

مولانا ابو الکلام آزاد مولانا فراہی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار یوں فرماتے ہیں کہ

مولانا حمید الدین فراہی مرحوم ، جن کی عبارت پر ہنگامہ برپا کیا گیا ہے ان علمائے حق میں سے تھے جن کا سرمایہ امتیاز صرف علم نہیں بلکہ عمل بھی ہوتا ہے اور اس دوسری جنس کی کمیابی کا جو عالم ہے وہ اہل حق سے پوشیدہ نہیں ، میں جب کبھی ان سے ملا مجھ پر انکے علم سے زیادہ انکی عملی پاکی کا اثر ہوا ، وہ پورے معنوں میں ایک متقی اور راست باز انسان تھے انکے دل کی پاکی اور نفس کی طہارت دیکھ کر رشک ہوتا تھا[16]

مصنفات ومولفات[ترمیم]

مولانا حمید الدین فراہی بہت لکھنے اور رطب ویابس اکھٹا کرنے کے قائل نہ تھے جہاں تک انکی تصانیف کا تعلق ہے تو انہیں دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا ایک مصنف ہی نہیں بلکہ ایک بہت بڑے مفکر اور مصلح بھی تھے اور انکی تصانیف سے انکی اعلیٰ فکری صلاحیتوں ، مصلحانہ کردار اور بلند علمی مرتبے کا پتہ چلتا ہے مولانا کے منہج تالیف میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان کا طریقہ تصنیف وتالیف یہ نہیں تھا کہ ایک موضوع کے بارے میں فکر اور معلومات اکھٹی کرکے اسے ایک کتاب کی صورت میں مرتب کردیں بلکہ بیک وقت کئی ایک موضوعات انکے پیش نظر موجود رہتے تھے ، جب کسی موضوع پر تحقیق مکمل ہوجاتی ، ذہن مطمئن ہوجاتا تو اسے لکھ لیتے اور بعد میں وقت ملنے پر ایک موضوع پر مختلف موقعوں پر لکھی ہوئی تحقیقات کو مرتب کرتے تھے اس طرح گویا وہ ایک ہی وقت میں کئی کتب پر کام کررہے ہوتے تھے[17] ذیل میں مولانا کی تصانیف کا ذکر کریں گے

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ یادرفتگاں صفحہ113
  2. ^ یادرفتگاں صفحہ112
  3. ^ ماہنامہ الضیاء لکھنوء نومبر:1933ءصفحہ 260
  4. ^ ماہنامہ الضیاء لکھنوء نومبر:1933ءصفحہ 260
  5. ^ مجموعہ تفاسیر فراہی:صفحہ 10
  6. ^ ماہنامہ الضیاء:صحفہ 260
  7. ^ یاد رفتگاں صحفہ 116
  8. ^ یاد رفتگاں صحفہ 116
  9. ^ دیباچہ مجموعہ تفاسیرفراہی: صفحہ 12
  10. ^ دیباچہ مجموعہ تفاسیرفراہی: صفحہ 12
  11. ^ ماہنامہ الضیاء : نومبر 1933ء صفحہ 260
  12. ^ مکاتیب شبلی:2/25 یادرفتگاں صفحہ :119
  13. ^ مجلہ الضیاء : رجب 1352ھ
  14. ^ یاد رفتگاں صفحہ 110
  15. ^ نزہتہ الخواطر :230/8
  16. ^ ماہنامہ الاصلاح : اگست 1936ء صفحہ 57
  17. ^ استفادہ عام: حمید الدین فراہی اور جمہور کے اصول تفسیر

بیرونی روابط[ترمیم]